نئے جہاز خریدے بغیر پی آئی اے کو منافع بخش بنانا ممکن نہیں

نئے جہاز خریدے بغیر پی آئی اے کو منافع بخش بنانا ممکن نہیں

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری:

پی آئی اے کے ملازمین کی یونینوں کی جائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنی ہڑتال اور اپنا احتجاج ختم کردیا ہے، اب حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں گے، وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نج کاری پی آئی اے کے ملازمین کی مشاورت سے ہوگی، اور ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔ اس ہڑتال کے آٹھ دنوں میں پی آئی اے کا خسارہ کچھ مزید بڑھ گیا ہے۔ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ پی آئی اے کے موجودہ مالی حالات اگر بہتر نہیں ہوں گے اور خسارہ بڑھتا رہے گاتو کوئی بھی حکومت اسے زیادہ دیر تک چلا نہیں پائے گی، فرض کریں اگر موجودہ حکومت پی آئی اے کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی ہے، اور خسارہ پہلے والی شرح سے بڑھتا رہتا ہے تو دو ڈھائی سال بعد جب حکومت کی مدت پوری ہونے والی ہوگی، پی آئی اے قرضوں کے مزید بوجھ تلے دب چکی ہوگی، اور اگر اس دوران روایت کے مطابق کچھ مزید سیاسی بھرتیاں بھی کی جائیں تو خسارہ کی شرح بڑھ جائے گی، فرض کریں 2018ء میں کوئی دوسری جماعت حکومت بناتی ہے اور اسے پی آئی اے موجودہ حالت میں ( یا اس سے بھی خراب حالت ) ملتی ہے، تو کیا اس کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ اسی حالت میں پی آئی اے کو چلاتی رہے ؟ حکومت جو بھی ہو، وہ خود سرمایہ اس میں ڈالے یا کسی ’’سٹریٹجک پارٹنر ‘‘ کے ذریعے سرمایہ انجیکٹ کرے، جب تک سرمایہ نہیں ڈالا جائے گااس کی حالت بہتر ہونے والی نہیں، جس کسی نے بھی پی آئی اے کا خسارہ کم کرنا ہے، وہ کوئی حکومت ہو، یا کوئی سرمایہ کار، جب تک نئے جہاز نہیں لائے جائیں گے اس وقت تک خسارہ کم نہیں ہوسکتا، فائدہ مند بنانا تو بہت دور کی بات ہے۔

کہا جاتا ہے کہ فی جہاز ملازمین کی تعداد پی آئی اے میں سب سے زیادہ نہیں، تو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، اور جو کوئی ائرلائن بھی اس سے آگے ہے اس کا حال بھی پی آئی اے سے برا نہیں تو برابرہی ہوگا کیونکہ اگر ایک جہاز پر مثال کے طورپر ڈیڑھ سو ملازمین خدمات انجام دے رہے ہوں تو سیدھا سادا فارمولا ہے کہ اگر تعداد مزید بڑھے گی تو خسارہ بھی بڑھے گا۔ اور تعداد کم ہو جائے گی تو خسارہ بھی کم ہوگا اور منافع کی امید بھی کی جاسکتی ہے، دنیا بھر کی کامیاب ائر لائنوں کا مطالعہ کیا جائے گا تو یہی حقیقت سامنے آئے گی۔ اب اگر کسی حکومت یا کسی وزیراعظم کے دل میں یہ خواہش موجود ہے کہ وہ پی آئی اے کو منافع بخش بنائے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جہازوں کی تعداد ممکن حدتک بڑھا دی جائے، جونہی یہ تعداد بڑھے گی فی جہاز ملازمین کم ہوجائیں گے کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کوئی زیادہ نہیں ہیں چلئے مان لیا، اگر ایسا ہے تو پھر خسارے کی کوئی دوسری وجوہ ہوں گی، اب جائنٹ ایکشن کمیٹی کے پاس وقت ہے کہ وہ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں ان وجوہ کو سامنے لائے جو پی آئی اے کو 320ارب روپے کا مقروض کرچکی ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق اس قرض پر سالانہ 36ارب کے لگ بھگ سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ پی آئی اے کی نج کاری ہوتی ہے یا نہیں فی الحال اس سوال کو ایک طرف رکھ کر ان امراض کی تشخیص کرلی جائے جن کی وجہ سے پی آئی اے مسلسل خسارے میں جارہی ہے، پھر یہ دیکھ لیا جائے کہ اسے منافع بخش بنانا ممکن ہے یا نہیں ؟ اور اگر ممکن ہے تو کس طریقے سے، پی آئی اے کے پاس بہت سے ایسے منافع بخش روٹ ہیں جن پر طیارے چلنے چاہیں لیکن یہ روٹ دوسری ائر لائنوں کے قبضے میں ہیں پی آئی اے کے پاس جہاز ہوتے تو ان منافع بخش روٹوں کو دوسری ائرلائنوں کے حوالے نہ کیا جاتا، تو بنیادی بات یہ سامنے آئی کہ خسارے کی ایک وجہ جہازوں کی کمی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نئے جہازکہاں سے خریدے جائیں، یا پھر اگر لیز پر بھی حاصل کرنے ہیں تو وہ کیسے حاصل کئے جائیں ۔ اس کا سیدھا سادا جواب تو یہ ہے کہ حکومت اپنے وسائل سے یہ جہاز خریدے یا کرائے پر حاصل کرے، اور اگر حکومت کے پاس وسائل نہیں ہیں تو نجی شعبے کو اس میں شریک کیا جائے اوراگر نجی شعبے کے پیسے سے کسی کو الرجی ہے ، تو حکومت ٹیکس لگاکر 320ارب حاصل کرے اور یکبارگی سارا قرضہ اتار دے ، جہاز حکومت مہیا کرے یا کوئی نجی سرمایہ کار، یہ بہرحال خریدنا ہوں گے، اور اگر جہاز نہیں خریدے جائیں گے تو کمپنی کو ہواؤں میں اڑنے میں مشکلات پیش آئیں گی ۔اور آج نہیں تو کل پھر وہی صورت حال پیدا ہوگی۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس جتنے جہاز کارآمد حالت میں ہیں ان کی تعداد کو سامنے رکھ کر دنیا کی ایسی ائرلائنوں کی ایک فہرست بنائی جائے، جو اتنے جہازوں سے کمپنیاں چلارہی ہیں، یہ دیکھا جائے کہ ان کمپنیوں کے پاس کتنے ملازمین ہیں، ان کی تنخواہیں کتنی ہیں اور تمام سہولتیں شامل کرکے کل کتنا مالی بوجھ کمپنیوں پر پڑتا ہے ، اسی شرح کے حساب سے اگر ملازمین کی تعدادکم کردی جائے اور تنخواہوں وغیرہ کا بوجھ معقول حدتک لے آیا جائے تو موجودہ جہازوں کے ساتھ بھی کارپوریشن کو اگر منافع بخش نہیں تو کم ازکم خسارہ اتنا کم ضرور کیاجاسکتا ہے کہ یہ قابل برداشت ہو، یہ تو وہ تجویزیں ہیں جو ایک عام آدمی کے ذہن میں آتی ہیں، ایکشن کمیٹی ان سے بہتر تجاویز دے سکتی ہے اور قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تو گزشتہ روز کہا تھا کہ اگر پی آئی اے کو 300ارب دے دیئے جائیں تو نوماہ میں اسے منافع بخش بنایا جاسکتا ہے، اگر ایسا ممکن ہے تو حکومت کو کسی نہ کسی طریقے سے یا ٹیکس لگاکر 300ارب کا بندوبست کرنا چاہئے ۔ لیکن پہلے خورشید شاہ اور ہوسکے تو عمران خان سے بھی پوچھ لیا جائے کہ اگر ایسا ہوجائے تو وہ اس کے خلاف احتجاج تو نہیں کریں گے لیکن ہمارے خیال میں سب سے اچھا اور قابل قبول حل خود ملازمین کی جانب سے آنا چاہئے جنہوں نے اپنی نوکریوں کو داؤپر لگاکر ہڑتال کی، اپنے دوساتھیوں کی جانیں بھی گنوائیں۔ اب ان کا حق ہے کہ انہیں بات چیت کے نتیجے میں کوئی ایسا کچھ حاصل ہو جن سے ان کی نوکریاں بھی محفوظ ہوجائیں اور پی آئی اے کی حالت بھی بہتر ہو جائے، لیکن ہمارے خیال میں نئے طیارے خریدے بغیر، اور پرانے قرضے اتارے بغیر، پی آئی اے کی بہتری کا کوئی خواب نہیں دیکھاجاسکتا ، یہ خواب کوئی حکومت دیکھے یا کوئی سرمایہ کار، اس کا انحصار حالات پر ہے۔

مزید :

تجزیہ -