اسد عمر بنام محمد زبیر

اسد عمر بنام محمد زبیر
 اسد عمر بنام محمد زبیر

  

پیارے بھائی !اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی نئے ، روشن اور جمہوری پاکستان میں یہ گھسا پٹا فارمولہ نہیں چل سکتا کہ ایک بھائی حکومتی پارٹی جوائن کر لے اور دوسرا حزب اختلاف کی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائے تاکہ چت ہو یا پٹ، پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رہے تو اسے پہلے ہلے میں ہی احمق قرار د یتے ہوئے اپنی اور میری مثال پیش دیں، اسے بتائیں کہ اگر آپ میں صلاحیت ہے تو آپ کو لوگوں کو بے وقوف بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس پاکستان میں ہم سے زیادہ کامیاب کون ہو گا کہ آپ نے نواز شریف کو اپنے دام میں اسیر کر رکھا ہے اور میں نے عمران خان کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ بھائی! آپ نے ابن انشاء کی اردو کی آخری کتاب پڑھی ہو گی جس میں انہوں نے بہت ساری پرانی ،ر وایتی کہانیوں کو نیا رخ دیا اور میرا دل کر رہا ہے کہ اب درسی کتب میں شامل’ اتفاق میں برکت ہے ‘کے نام سے اس کہانی کو بھی بدل دیا جائے جس میں ایک بوڑھا کسان بیٹوں کے آپس میں لڑنے پر سخت پریشان تھا، جب اس کا آخری وقت آیا تو اس نے بیٹوں سے کہا، وہ سب ایک ایک لکڑی لے کر آئیں، ان لکڑیوں کا اس نے گٹھا بنایا اور بیٹوں سے توڑنے کے لئے کہا، وہ گٹھا ان سے نہ ٹوٹ سکا، تب مرتے ہوئے بوڑھے کسان نے انہیں ہدایت کی کہ گٹھے کو کھول لیں، لکڑیاں الگ الگ کریں اور توڑ دیں، وہ سب آسانی سے ٹوٹ گئیں، بوڑھا کسان انہیں اتفاق سے رہنے کی برکتیں بتاتا ہوا مر گیا مگر ہم نے اس کے مقابلے میں ثابت کیا ہے کہ اختلاف میں ہی برکت ہے۔ میں اور آپ اتنا لڑتے ہیں کہ لگتا ہے کہ ہمارا بچپن سے ہی آپس میں بیر تھا، ہم ایسے لڑتے ہیں کہ روایتی شریکے والے کیا لڑتے ہوں گے۔بچپن میں ہم کھلونوں پر لڑا کرتے تھے ، اب ہم صرف کھانے پر لڑ تے ہیں۔ نجکاری کمیشن کے سربراہ آپ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ مجھ سے کہیں زیادہ کھا رہے ہوں گے بہرحال بے وقوف تو میں بھی نہیں ہوں، اگر میں نے اینگرو کی پریذیڈنٹ شپ چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کی ہے تو سمجھ جائیں، کوئی گھاٹے کا سودا نہیں کیا ہو گا۔

کئی بزرگ صحافی تو ہم پر الٹے الٹے شک کرتے، ہمارے والد میجر جنرل غلام عمر جوسقوط ڈھاکہ کے مرکزی کردار جنرل یحییٰ خان کے اول نائب تھے، ان کا ذکر کرتے ہوئے اپنے کالموں میں ملک بارے خدا خیر کرے جیسے الفاظ بھی لکھتے ہیں ۔ اصل میں صحافی ہمیشہ کامیاب لوگوں سے جلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں بھائی اچانک ہی سیاست میں نمودار ہوئے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے، مجھے یقین ہے کہ جس طرح ہمارے والد نے اس ملک کی خدمت کی، جس کی عبدالقادر حسن خود گواہی دے رہے تھے، ہم بھی اس سے کچھ کم نہیں کریں گے کہ بہت ساری باتیں تو آپ کو ورثے میں ملتی ہیں،بتائیں ، کیا ہمارے والد میجر جنرل غلام عمر اپنے وقت کے طاقت ور ترین شخص کے قریب نہیں تھے اور اگر ہم دونوں بھائی ، ملک کے دونوں طاقت ور ترین سیاستدانوں کے ناک کا بال ہیں تو انہیں حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ پی آئی ا ے کا تنازعہّ دیکھتے ہوئے ہماری صلاحیتوں کو سراہنا چاہئیے کہ ہم نے کس خوبصورتی کے ساتھ عمران خان اور نواز شریف کے ذریعے پوری قوم کو بے وقوف بنا رکھا ہے۔ ایک طرف آپ پی آئی اے کی نجکاری کرنا چاہتے ہیں اوراحتجاجی ملازمین کی لاشیں گرنے کے باوجود آپ نے نواز شریف کو اس معاملے پر نرمی دکھانے سے روک دیا ہے حالانکہ میاں نواز شریف اپوزیشن کے دور میں اس امر پر قائل تھے کہ اصلاحات کے ذریعے پی آئی اے کے معاملا ت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ان کی اپنی حکومت میں مثال بھی موجود ہے کہ خواجہ سعد رفیق کس تیزی کے ساتھ پاکستان ریلویز کی ساکھ بحال کرتے ہوئے اس ادارے کو اپنے پاوں پر کھڑا کر رہا ہے مگر وہ وہاں گڈ گورننس کافارمولہ لاگو نہیں کر رہے تو یہ سراسر آپ کی اور آپ کے نجکاری کمیشن کی کامیابی ہے۔ دوسری طرف میرا کمال دیکھیں کہ تحریک انصاف کے منشور میں گھاٹے میں جانے والے اداروں خاص طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا وعدہ کرنے کے باوجود میں نے عمران خان کو احتجاجی اور ہڑتالی ملازمین کے ساتھ کھڑا کر رکھا ہے۔ بس ہماری اسی طرح کی حرکتیں ہماری نظر میں نام نہاد مقبول سیاستدانوں کی لٹیا ڈبوئیں گی، مجھے آپ کا تو علم نہیں کہ محض نجکاری کمیشن سے ہونیو الی کمائی سے ہی اپنی آنے والی ستر نسلوں کو سنوار جائیں گے یا پارٹی میں سیاسی سطح پر بھی اہمیت حاصل کریں گے مگر مجھے ایک مرتبہ عمران خان کو پوری طرح ڈس کریڈٹ کر لینے دیں، اس کے بعد تحریک انصاف کی قیادت میرے پاس ہی ہوگی۔ خان صاحب پنجاب میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کی حمایت کرتے رہے ہیں مگر اپنے صوبے میں ڈاکٹروں کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، یہ بیان میں نے ہی انہیں لکھ کر دیا تھا، انہوں نے پی آئی اے میں لازمی سروس کے قانون کے نفاذ کی مخالفت کی اور خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں پر اسے لاگو کر دیا، آپ ذرا دیکھئے گا ، حامد خان کی طرح میں شاہ محمود قریشی کو بھی کس طرح آوٹ کرتا ہوں، ادھرحامد ناصر چٹھہ نے بھی اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر تحریک انصاف جوائن کرنے کے لئے رابطے کر لئے ہیں، اس پر بھی میں نے ایک تباہ کن بریفنگ تیار کر لی ہے، آخر کارپوریٹ کلچر کا تجربہ اور کس دن کام آئے گا؟

پیارے بھائی! ہمیں آپس میں جھوٹ موٹ لڑنے کی کچھ زیادہ پریکٹس کرنی چاہیے،میں اپنے ڈرائیور کے ذریعے کچھ نکات پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کے بارے بھجواوں گا، مجھے یقین ہے کہ میری مخبری پر آپ جو انکشافات کریں گے وہ آپ کو باقی تمام وفاقی وزراء سے زیادہ مقبول بنا دیں گے اور آپ بھی مجھے کچھ ایسے خفیہ اعداد و شمار دیں جوٹی وی پروگراموں میں میری بلے بلے کروادیں، ویسے یہ خفیہ راز اگر اسحاق ڈار بارے ہوں تو زیادہ بہتر رہے گا، یہ خان صاحب کی ڈیمانڈ ہے۔ ہماری نورا کشتی کا سب سے بہتر سیشن تو وہی رہا تھا جب آپ نے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین پر کرپشن کے سنگین ترین الزام لگائے تھے اور پوچھا تھا کہ نوے کی دہائی میں تو ان کے پاس کچھ نہیں تھا، اب وہ ارب پتی کیسے ہو گئے اور میں نے جہانگیر ترین کا بھرپور دفاع کیا تھا۔آپ بہتر جانتے ہیں کہ اگر میں اس وقت جہانگیر ترین کا دفاع نہ کرتا تو میرے لئے اینگروچھوڑ کر پی ٹی آئی جوائن کرنا سراسر گھاٹے کا سودا ہوتا۔اس کے دو فائدے ہوئے تھے کہ مجھے نورا کشتی میں زیادہ مہارت ہو گئی تھی اور دوسرا فائدہ وہی ہے جو خان صاحب کو جہانگیر ترین سے پہنچ رہا ہے۔ میں نے آپ کو یہ خط دو، تین مقاصدکے لئے لکھا ہے کہ آپ مجھے ذرا سٹیل ملز پر بھی تیاری کروا دیں کہ پی آئی اے کے بعد آپ کے ساتھ ایک مشہور ٹی وی کے پروگرام میں سٹیل ملزکی نج کاری پر میچ فکس کروں گا۔ دوسرے ذرا اپنے تیسرے بھائی کے بارے میں بھی سوچئے، وہ ہمارے مقابلے میں احساس کمتری کاشکار ہوتا چلا جا رہا ہے کہ ہمارے جیسی دولت اور شہرت اسے نہیں مل پارہی۔تیسرامجھے یقین ہے کہ آپ بھی ’’ ہماری‘‘ اس سیاست کے اہم ترین پوائنٹس نوٹ کرتے چلے جا رہے ہوں گے، ایک وقت آ ئے گا کہ ہم ایک ایسی کتاب لکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے جو سیاست بارے پرانی ہندوستانی اور اطالوی تصانیف میں ایک قابل قدر اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پیارے بھائی، میرا یہ خط دعوت نامہ بھی ہے ،اس دعوت میں وہ پاشا صاحب بھی ہوں گے جن کے بارے میں آپ نے انکشاف کر دیا تھا کہ انہوں نے آپ کو پی ٹی آئی میں شرکت اور کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے ناموں کو دھرنے میں سرمایہ کاری کی باقاعدہ دعوت دی تھی ،میں جانتا ہوں کہ آپ بہت مصروف ہیں، آپ نے بہت ہی تھوڑے عرصے میں دس بڑے اداروں کی نجکاری کرنی ہے ، کسی اتوار کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے نمائندوں سے فرصت ہوتو تشریف لائیے گا،ہم وہ باتیں نہیں کریں گے جو ہم ٹی وی پروگراموں میں کرتے ہیں بلکہ کسی سہانی شام اپنی نسل درنسل کامیابیوں کا جشن منائیں گے ۔

مزید :

کالم -