گلگت بلتستان سے متعلق اپنی پالیسی کسی صورت تبدیل نہیں کریں گے ،پاکستان

گلگت بلتستان سے متعلق اپنی پالیسی کسی صورت تبدیل نہیں کریں گے ،پاکستان

  

نئی دہلی(اے این این) بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے واضح کیا ہے کہ پاکستان گلگت بلتستان سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا،مسئلہ کشمیر کا پر امن،منصفانہ اور دائمی حل پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ ہے ،یہی خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور کروڑوں انسانوں کے محفوظ مستقبل اور معاشی استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس(ع) کے چیئرمین میرو اعظ عمر فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنھوں نے نئی دہلی میں عبدالباسط سے ملاقات کی ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق دلی میں مقیم پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط کیساتھ میر واعظ عمر فاروق میں قیادت میں حریت کانفرنس کے وفد نے ملاقات کی ۔ ایک گھنٹے سے بھی طویل ملاقات کے دوران میرواعظ نے پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں حکومت پاکستان کی طرف سے کی جارہی کوششوں بھارت اور پاکستان کے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کی مجوزہ ملاقات ، جموں کشمیر کی سیاسی صورتحال ، کشمیر میں ہورہی حقوق انسانی کی پامالیوں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے مختلف معاملات پر تفصیل کیساتھ گفتگو کی۔حریت چیئرمین نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم میاں محمد نواز شریف اور نریندر مودی کی حالیہ ملاقاتوں کے دوران ایک بامعنی مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے اقدامات کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان عنقریب خارجہ سیکریٹری سطح کی ملاقات میں کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے حل کے ضمن میں ٹھوس پیش رفت سامنے آئے گی۔ میرواعظ نے ملاقات کے دوران کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک کی خارجہ سیکریٹری سطح کی مجوزہ ملاقات کے دوران اعتماد سازی کے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے جموں کشمیر میں زمینی سطح پر مذاکرات کے حوالے سے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکے ۔ ملاقات میں میرواعظ نے حکومت پاکستان کی کشمیر کے مسئلے کے حل کے ضمن میں اختیار کردہ پالیسی اور اس مسئلے کو بھارت کیساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں شامل کئے جانے اور اس عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے کشمیری عوام کو اس عمل کا حصہ بنانے کو لازمی قرار دیئے جانے جیسے اقدامات کو کشمیری عوام کیلئے باعث اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی جائز جد وجہد میں پاکستان کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہاں کے عوام کیلئے حوصلہ مندی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گذشتہ کئی دہائیوں سے بے پناہ مصائب کا سامنا کر رہی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں شہدوں کی جانی و مالی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے ضمن میں کشمیری عوام کی رائے اور خواہشات کو مقدم رکھا جائے۔اس موقعہ پر عبد الباسط نے حریت چیئرمین کو یقین دلایا کہ مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ایک منصفانہ اور دائمی حل پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ رہا ہے اور جموں کشمیر کے سبھی خطوں بشمول جموں ، کشمیر ، لداخ،پاکستانی زیرانتظام کشمیر اور گلکت بلتستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ آئے گی ۔انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اس پورے خطے سے کشیدہ صورتحال کے خاتمے کیساتھ ساتھ برصغیر ہندوپاک کے کروڑوں عوام کے محفوظ مستقبل اور معاشی استحکام کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔

پاکستان

مزید :

راولپنڈی صفحہ اول -