’مجھے 10 سال تک روزانہ 60 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا یہاں تک کہ۔۔۔‘

’مجھے 10 سال تک روزانہ 60 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا یہاں تک کہ۔۔۔‘
’مجھے 10 سال تک روزانہ 60 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا یہاں تک کہ۔۔۔‘

  

میکسیکو سٹی (نیوز ڈیسک) انسانی سمگلنگ کا بھیانک کاروبار کسی ناکسی رنگ میں دنیا کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے اور حتیٰ کہ امریکا جیسا ترقی یافتہ ملک بھی اس لعنت سے محفوظ نہیں، جس کے ہمسائے میں واقع ملک میکسیکو کی لڑکیوں کو ہزاروں کی تعداد میں اغوا کرکے یا دھوکہ بازی سے یہاں کے قحبہ خانوں میں لایا جاتا ہے۔ یہاں ان کی زندگی کس حال میں گزرتی ہے، اس کی ایک تصویر میکسیکو سے تعلق رکھنے والی خاتون آلے ہاندرا روڈروگیز نے دنیا کو دکھائی ہے۔

اخبار ”میل آن لائن“ سے بات کرتے ہوئے آلے ہاندرا نے بتایا کہ جب وہ 19 سال کی تھیں تو فرانچسکو نامی ایک شخص سے انہیں محبت ہوگئی۔ اس شخص نے خود کو انتہائی مخلص ظاہر کرتے ہوئے آلے ہاندرا کو شادی کا جھانسہ دیا اور اپنے شہر تینن سنگو لے گیا۔ آلے ہاندرا کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ شہر انسانی سمگلروں اور عصمت فروشی کے اڈوں کے حوالے سے بدنام زمانہ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ فرانچسکو کے گھر پہنچنے کے ایک ہفتے بعد ہی انہیں بتایا گیا کہ وہ جسم فروشی کریں گی اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ انکار کی صورت میں انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔ آلے ہاندرا کہتی ہیں کہ ابتدائی طور پر کچھ احتجاج اور فرار کی کوشش کی لیکن پھر انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔

مزید پڑھیں: وہ ایک کام جو ازدواجی فرائض کی ادائیگی سے قبل ہرگز نہیں کرنا چاہیے، ڈاکٹروں نے خبردار کردیا

آلے ہاندرا کو عصمت فروشی کے لئے تیار کرنے کے لئے ان پر وہ ظلم کیا گیا کہ جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور ہر روز تقریباً 40 افراد ان کی عصمت دری کرتے تھے، اور یہ سلسلہ 2ماہ تک متواتر چلتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عصمت فروشی کا دھندا چلانے والوں کا یہ خاص طریقہ ہے جس میں نئی آنے والی لڑکیوں کے جذبات و محسوسات کو مار دیا جاتا ہے اور انہیں احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کے جسم کی کوئی عزت نہیں، یہ صرف بیچنے کی چیز ہے۔

دو ماہ بعد ریاست ایریزونا کی سرحد غیر قانونی طور پر پار کرکے انہیں امریکا پہنچادیا گیا۔ امریکا کے قحبہ خانوں میں آلے ہاندرا کو روزانہ تقریباً 14 گھنٹے جسم فروشی کرناپڑتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ روزانہ انہیں تقریباً 60 گاہک اپنی ہوس کا نشانہ بناتے تھے۔ آلے ہاندرا کا کہنا ہے کہ امریکا میں صرف دو سال کے دوران تقریباً 40 ہزار مرتبہ ان کی عصمت دری کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے مکروہ دھندا کروانے والوں نے اس عرصے کے دوران ان کا جسم بیچ کر تقریباً 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 10 کروڑ پاکستانی روپے) کمائے۔

اس دوران جب وہ حاملہ ہو گئیں تو انہیں میکسیکو واپس بھیج دیا گیا۔ یہاں ان کے ہاں ایک بچے نے جنم لیا، جس کی پیدائش کے بعد ان کی جسم فروشی کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع کردیا گیا۔ اگلے 7 سال کے دوران پھر وہی شب و روز تھے کہ جن سے انہیں محض چند ماہ کے لئے نجات مل سکی تھی۔

اپنی زندگی کے 10 سال اس ابتلاءمیں گزارنے کے بعد بالآخر ایک دن اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آلے ہاندرا فرار تو ہوگئیں، لیکن انہوں نے آج تک خود پر ظلم ڈھانے والوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا ننھا بیٹا ابھی بھی فرانچسکو کے پاس ہے اور انہیں معلوم ہے کہ اگر وہ سامنے آئیں تو ان کے بیٹے کو مار دیا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے لرزہ خیز مظالم کے باوجود کسی سے شکایت پر تیار نہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -