امریکہ، مسئلہ انسانی حقوق اور مسئلہ کشمیر!!!

امریکہ، مسئلہ انسانی حقوق اور مسئلہ کشمیر!!!
 امریکہ، مسئلہ انسانی حقوق اور مسئلہ کشمیر!!!

  



زندگی کی دوڑ اور تخت و تاج کی ہوس میں انسانوں کے ہاں انسانی حقوق سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جدتوں، آسائشوں اور خوبیوں کی زندگی میں ہم صاحبِ اختیار اور صاحب ثروت ہو کر اپنے حقوق تو چاہتے ہیں، لیکن کسی کمزور اور کسی ناتواں کو حقوق نہیں دینا چاہتے۔یہ المیہ ہے آج کے انسان کا اور کل بھی تھا کہ ایک طرف انسان انسانیاتی علوم کو سمجھتا ہے اور دوسری طرف اسے پامال کرتا ہے۔ سوشل سائنسز یا عمرانی علوم کا بغور جائزہ لیں تو کوئی پولیو کے قطرے بنانے اور پلانے کے لئے سرگرم ہے تو کوئی اسلحہ سازی میں مصروف۔۔۔ ایک طرف دُنیا کو گلوبل ویلیج قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف آج کا امریکی صدر سات اسلامی ممالک کے لئے لائن کھینچتا ہے کہ ان کے شہر ی امریکہ سے دور رہیں۔ انسانیت کے تضادات حقیقت میں مسئلہ انسانی حقوق ہیں اور یہ ہیومن رائٹس کا مسئلہ ہی دراصل مسئلہ کشمیر ہے! نیلسن منڈیلا نے بھی کہا تھا: ’’انسانی حقوق سے انکار انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے!‘‘آج ٹرمپ کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے تعصب کی عینک کو فیشن اور بینائی، دونوں کے لئے لگا لیا ہے۔ اُس نے واشنگٹن سے کلنٹن اور اوباما تک حتیٰ کہ جارج بش سینئر اور جارج ڈبلیو بش(جونیئر) سمیت سب امریکی صدور کی حکمت عملیوں اور فلسفے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی(ڈیمو کریٹک) نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’جب ایک انسان کا حق مارا جاتا ہے تو یہ سبھی انسانوں کے حقوق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے‘‘۔کہنے کو تو ایک بار اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جان ایلیس نے بھی کہا تھا کہ’’امن کے بغیر تعمیر سازی نہیں اور تعمیر سازی کے بغیرامن بھی ممکن نہیں، گویا امن اور تعمیر سازی کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ انسانی حقوق اور قانونی عمل کی عزت کی جائے‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ شاید بھول گئے کہ ری پبلکن پارٹی کے پہلے باقاعدہ صدر ابراہم لنکن نے بحیثیت 16ویں امریکی صدر(1861ء تا 1865ء) دانشوروں کے حلقے میں بطور لبرل اور عوام دوست شخصیت کے لوہا منوایا۔ یورپ، لاطینی امریکہ، حتیٰ کہ ایشیا میں لنکن کو پسند کیا جاتا ہے۔ امریکی تاریخ کے پروگریسو دور1900)ء تا 1920ء(میں اسے ہیرو مانا گیا۔یقیناًموجودہ امریکی صدر ٹرمپ یہ بھی نظر انداز کر رہا ہے کہ اس کے Lockeanاور Burkean اصول بزنس اور ترقی کے لئے تھے نہ کہ دشمنی اور تعصب کے لئے۔ اس کے ری پبلکن ازم کی معروف بات یہ تھی کہ وہ ملکی ترقی کے لئے اپنے ناقدوں اور سیاسی مخالفوں کو بھی۔۔۔ ''Hold your friends close and your enemies closer'' ۔۔۔تھیوری کے تحت ساتھ لے کر چلتا تھا،لیکن ٹرمپ نے اپنے آپ کو پھیلانے کے بجائے سکڑنے کے طریقے پر لاکھڑا کیا ہے۔اِس ضمن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری انسٹیٹیوٹ آف پیس کے ایک طویل خطاب میں ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی تاریخ مرتب نہ کرے جس میں کچھ ممالک اور عالمی برادری کے درمیان ایک لائن کھینچ لی جائے۔ اس طرح یہ دور آگے جا کر بدترین دور کہلائے گا۔ معتدل مزاجی پر زور دیا گیا۔ سب ممالک کو ساتھ لے کر چلنے اور حقیقی گلوبل ویلیج کی پالیسی پر چلنے کا مشورہ دیا۔بلاول بھٹو پاکستان کی جانب سے اس فورم پر تقریر کرنے والے کم عمر ترین مقرر اور لیڈر قرار پائے۔ایک بڑی خوبصورت بات یہ بھی کی گئی کہ میری عمر کے نوجوان مسلمان تعلیم و تربیت و ترقی کے خواہاں ہیں اچھے مسلمان بھی ہیں اور امن پسند بھی۔

اس سے چند روز قبل سابق صدر اور پی پی پی کے سرپرست آصف علی زرداری نے امریکن اخبار ’’واشنگٹن ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر پر زور دیا کہ کشمیر کی طرف دھیان دیا جائے،کیونکہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پورا خطہ بحران اور بدامنی کا شکار ہے۔ اس بدامنی کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے عام فہم اور کھلے لفظوں کا استعمال کیا،جن کی تہہ تک صدر ٹرمپ کو پہنچنا چاہئے۔ٹرمپ کو کشمیر میں ہونے والے مظالم، انسانی حقوق کی پامالی کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے۔اس خطے میں بہتری کے لئے آصف علی زرداری نے زور دیا کہ ہالبروک جیسے سفیر ڈھونڈ کر پاکستان اور اس خطے میں بھیجے جائیں۔اسی طرح انہوں نے اینی پیٹرسن جیسی سفیر کو پاکستان میں سفیر مقرر کرنے کی اہمیت کا بھی تذکرہ کیا۔ دراصل یہ دونوں شخصیات اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ کا تجربہ رکھنے کے علاوہ اقوام متحدہ میں بطور سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ ہالبروک تو افغان امور کے خصوصی ایلچی بھی رہے تھے۔ گویا عقل و دانش اور وسیع تجربہ رکھنے والوں کی ضرورت پر توجہ دلائی گئی،کیونکہ اقوام متحدہ سے منسلک اور اس خطے سے منسلک خارجی امور کا ماہر جانتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پس منظر اور پیش منظر کیا ہے اور یہی اس کے حل میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پچھلے چند روز کی امریکی سرگرمیوں میں بیدار مغز قیادت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بالعموم اس خطے کے امن اور بالخصوص کشمیر کی بات کو احسن انداز اور دو ٹوک موقف کے طور پر بیان کیا جو قابلِ تحسین ہے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی (1972ء) میں شملہ معاہدہ بھی انسانی حقوق کا خیال رکھنا تھا، مگر بھارت مکر گیا۔

اندازہ کیجئے کہ کون سی ایسی ریاست ہے جس کو اپنی صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہو؟ کیا انسانی حقوق کے علمبردار، عالمی برادری کے پنچایتی، عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کی ترجمان تنظیمیں یہ بات بھول گئی ہیں کہ ایک تماشہ ہوا تھا اس تماشے میں بھارت 1948ء کی پاک بھارت جنگ کی پاداش میں بھاگا بھاگا خود اقوام متحدہ میں لے گیا اور اقوام متحدہ نے جنوری1949ء میں متفقہ قرارداد منظور کی کہ ’’کشمیری عوام کی رائے معلوم کر کے بین الاقوامی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے‘‘۔ اس مقدمے میں بہت بڑی اخلاقی برتری ہوئی۔ بھارت کی جانب سے شیخ عبداللہ اور آزاد کشمیر کی طرف سے سردار ابراہیم(جو آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور پی پی پی کے رہنما بھی رہے)۔ پاکستان نے امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے ثالثی کی تجویز کو خوشدلی سے تسلیم کر لیا تھا،لیکن متعصب اور ہٹ دھرم بھارت نے انکار کیا۔ واضح رہے کہ ان دنوں امریکہ میں ہیری ایس ٹرومین(1945ء 1953ء) صدر تھے جو ڈیمو کریٹ تھے، لیکن ان کی توجہ کوریا، چائنہ وغیرہ کی طرف رہی،حالانکہ ان کا دور فارن افیئرز کے حوالے سے ٹرننگ پوائنٹ کا دور تھا، مگر وہ بھی نہ سمجھ سکے، یہ مسئلہ مسئلہ کشمیر بن کر پوری دُنیا کا مسئلہ بن رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے، حالانکہ ٹرومین نے امریکی تاریخ میں 180 بار ویٹو پاور کا ریکارڈ بنایا اور بارہ مرتبہ کانگرس نے اوور ڈن بھی کیا۔ وقت گزرتا گیا، امریکی سیکرٹری آف سٹیٹس ڈلسس نے1953ء میں ’’ریاست کی تقسیم ہی واحد حل‘‘ کی تجویزدی۔ کشمیر کا مقدمہ تاریخی اور قابلِ تعریف انداز میں ذوالفقار علی بھٹو نے بحیثیت وزیر خارجہ لڑا(آج کوئی وزیر خارجہ ہے نہیں اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کشمیر سے کوئی ذہنی مطابقت نہیں رکھتے)۔۔۔1989ء سے آج تک نوجوان آزادئ کشمیر کی تحریک کے لئے کوشاں ہیں۔ مقبول بٹ سے برہان وانی تک کے لہو نے تحریک برپا کی ہے۔ تحریکیں اندر سے اٹھتی ہیں، دِل سے اٹھتی ہیں۔ یہ مقبوضہ کشمیر کی اپنی ذاتی اور فطری تحریک ہے۔ تحریک کو نہیں انسانی حقوق، عالمی قانون، عالمی برادری کے احساس کو کچلا جا رہا ہے اور ’’5فروری یوم یکجہتی کشمیر‘‘ وہ فکری دن ہے، جوانصاف کا اعادہ کرتا ہے اور عالمی طاقتوں بشمول اقوام متحدہ سے انصاف مانگتا ہے۔ حصول انصاف میں ہزاروں جانیں جا چکی ہیں، لیکن مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو اس لئے آزادی مل گئی کہ مسلمانوں سے لینی تھی، لیکن کشمیر کو حق نہیں ملا، کیونکہ یہ مسلمانوں کا حق تھا! ٹرمپ انتظامیہ مسئلہ کشمیر کو دیکھیں تو سہی یہ ہے کیا؟

مزید : کالم