سنگین کی سنگینی

سنگین کی سنگینی
 سنگین کی سنگینی

  


سندھ پولس کے سربراہ اے ڈی خواجہ نے کراچی میں ایوان صنعت و تجارت میں تاجروں سے خطاب میں جو کچھ کہا پہلے اس کے اہم نکات پڑھ لیں۔ انہوں نے کہا ’’ کراچی کو رینجرز کی بے ساکھیوں پر کب تک چلایا جائے گا، 1996ء کا آپریشن کامیاب بنانے والوں کو قتل کرنے والے ایوانوں میں پہنچ گئے، سندھ پولس کا تنہا کامیاب آپریشن سیاست کی نذر ہوا، سیکڑوں پولس افسران کو چن چن کر سڑکوں پر شہید کیا گیا، یہ وہ دور تھا جب اہل کار منہ چھپاتے اور وردی میں ڈیوٹی پر نہیں جاتے تھے ، پولس افسران کے قتل پر سول سوسائٹی خاموش رہی، سرکاری ادارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتے، پولس 1861ء ایکٹ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تبدیل کرنا ہوگا‘‘ . اے ڈی خواجہ تجربہ کار افسر ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں قانون کی بالا دستی کیوں قائم نہیں ہو پا رہی ہے، حالانکہ قیام پاکستان کے بعد کئی سال تک قانون کی بالا دستی قائم تھی۔ پولس ہو یا عدالت، امن وامان کا قیام ہو یا نظام عدل و انصاف، سب کا تعلق ریاست اور حکومت کے ساتھ لازم ملزو م ہے۔ ریاست میں جزیرے اگر قائم بھی کئے جائیں تو وہ زیادہ عرصے اس لئے نہیں چل پاتے ہیں کہ اصل خرابی نظام میں موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 1996ء کا آپریشن کامیاب بنانے والوں کو قتل کرنے والے ایوانوں میں پہنچ گئے۔ ان کے اعتراض میں ہی جواب موجود ہے کہ نظام میں کس قدر خرابی یا نحوست پائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں نظام حکمرانی میں ایسے نقائص موجود ہیں جن کی وجہ سے امن و امان قائم کرنیو الے ادارے ہوں، عدل و انصاف فراہم کرنے والے ادارے ہوں، علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے ہوں، سب ہی بری طرح متاثر اور محتاج ہیں۔ تعلیمی معیار کے انحطاط سے تو ہم سب ہی واقف ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود تمام محکموں کی کارکردگی غیر معیاری ہوتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ انصاف سے محروم ہیں، وہ ان سہولتوں سے محروم ہیں جو ان کا بنیادی حق ہے۔ ان کے ان حقوق کا پورا کیا جانا آئینی تقاضا بھی ہے۔اچھی تعلیم، اچھا علاج، پینے کا صاف پانی،رہائش کے لئے معقول بندو بست، روز گار کا حصول تو عوام کا حق ہے نا، ملک کے طول و عرض میں انہیں کہیں بھی میسر نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں و ہی کچھ ہوتا ہے جس کا گلہ اے ڈی خواجہ نے کیا۔

کراچی میں جس طرح اور انداز سے 1992ء اور 1996ء میں آپریشن کئے گئے تھے ، کیا وہ قانونی تقاضے پورے کرتے تھے۔ لاٹھی ہانکنے سے تو امن و امان قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی جرائم پیشہ افراد ختم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سرپرستی کرنے والے افراد اپنی طاقت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہمیشہ سے ایک مسلہ رہا ہے کہ کسی بھی مسلہ کو سمجھنے، سلجھانے کے لئے کبھی بھی گہرائی سے کوئی مطالعہ نہیں کیا جاتا ہے۔ کبھی ان لوگوں کی خدمات سے استفادہ نہیں کیا جاتا جو معاشرتی تقاضوں کو سمجھتے ہوں یا سوشیالوجی کی تعلیم رکھتے ہیں، انسانوں کی نفسیات کو سمجھنے پر عبور رکھتے ہوں۔ یہاں ہر مسلہ کا ایک ہی حل تجویز کیا جاتا ہے کہ پولس ہو اور اس کی لاٹھی۔ کراچی آپریشن کے دوران جس طرح لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور انہیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اس کا ردعمل کسی نہ کسی صورت میں تو ہونا تھا۔ اور اس صورت میں تو رد عمل زیادہ ممکن ہوجاتا ہے جب متاثرین کی داد رسی کے لئے کوئی دروازہ ہی نہ ہو۔ اس کالم میں اس بات کی وکالت نہیں کی جاری ہے یا درکار ہے کہ پولس افسران کے قتل جیسی قبیح وارداتیں پیش آئیں، پولس کے تجربہ کار افسران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ وہ جائز نہیں تھا ، انتہائی افسوس ناک واقعات تھے۔ لیکن یہ بھی تو دیکھنا ہوگا کہ کیا واقعی ان افسران کو قتل کرنے والے اعلی ایوان میں پہنچ گئے یا ان قتل کے پس پشت کچھ اور عوامل تھے، کیا یہ قتل کسی رد عمل میں ہوئے تھے یا کوئی اور قوت ان قتلوں کے پس پشت تھی۔

کیا یہ پاکستان کی سیاست کاا لمیہ نہیں ہے جو بقول اے ڈی خواجہ قتل کرنے والے اعلی ایوانوں میں پہنچ گئے ؟ مصلحتیں کیوں سیاست دانوں کے آڑے آتی ہیں۔ جن پولس افسران کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ، کیا ان سے غلطیاں سر زد ہوئیں یا وہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے اور قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا تھا یا ان کے ہاتھوں جو افراد قتل ہوئے، کہیں مبینہ مقابلوں میں، کہیں زندہ گرفتاری کے بعد تھانوں میں انتہائی تشدد کی صورت میں قتل ہوئے، کہیں بلا وجہ قتل ہوئے، کیا کبھی محکمہ پولس نے اس کا جائزہ لیا۔ ’’چیرہ‘‘ لگانے جیسی بھیانک اور انتہائی تکلیف دہ کاروائی کا ذکر 1996ء سے قبل پولس تاریخ میں نہیں ملتا ہے۔ پولس تو ’’چھتر‘‘ لگانے کے لئے مشہور تھی، کراچی میں ’’چیرہ‘‘ کیوں لگایا جاتا تھا، پھر اس کے بعد بوری میں بند کر کے کیوں پھینک دیا جاتا تھا۔ بوری بند لاشوں کا سلسلہ بھی اسی دور سے شروع ہوا۔ پولس افسران ایک بات پر بضد رہتے ہیں کہ عدالتیں جرائم پیشہ افراد کو چھوڑ دیتی ہیں، وہ یہ نہیں کہتے کہ وہ مقدمہ بنانے میں اس حد تک کامیاب نہیں رہے جس کا تقاضا عدالتیں کرتی ہیں۔ عدالتیں پولس کے کہہ دینے پر تو سزائیں نہیں دے سکتی ہیں۔ نظام انصاف ایک تکون پر کھڑا رہتا ہے۔ پولس، عدالت ،جیل۔ کیا پاکستان میں یہ ادارے اطمینان بخش طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں؟ اگر اطمینان بخش کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں تو کون ذمہ دار ہے؟

اس تماش گاہ میں بات سمجھنے کی یہی ہے کہ کسی بھی مملکت میں جزیرے نہیں بنائے جاسکتے۔ آپ پولس کو لاکھ بہتر کر لیں، دیگر ادارے کام نہیں کریں گے تو پولس کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ ریاست میں قائم حکومت کو تمام محکموں اور ہر شعبہ زندگی میں توازن کے ساتھ ساتھ ملٹی ڈائی منیشنل کارروائی کرنا ہوتی ہے۔ تمام اداروں کا عروج ایک ساتھ ہونا لازمی ہے اور ان کا ایک ساتھ زوال فطری عمل ہے۔ سرکاری اہل کاروں کی بھرتی میں اہلیت کی قدر کی جاتی ہے اور کی جانی چاہئے۔ عوام الناس کو انصاف فراہم کیا جانا چاہئے۔ وسائل کی تقسیم میں یکسانیت ہونا چاہئے ۔ وسائل کی تقسیم امیر اور غریب کے درمیاں امتیاز رکھ کر جہاں جہاں کی گئی ہے وہاں عوام عدم اطمینان سے دوچار ہوئے ہیں جس کا نتیجہ مملکت اور حکومتوں کے حق میں بہتر نہیں نکلتا ہے۔

مزید : کالم