سوشل میڈیا، منفی نہیں مثبت استعمال یقینی بنائیں!

سوشل میڈیا، منفی نہیں مثبت استعمال یقینی بنائیں!
سوشل میڈیا، منفی نہیں مثبت استعمال یقینی بنائیں!

  


سوشل میڈیا کی بہت دھوم ہے، اس حوالے سے شکایات بھی بہت ہیں اور لوگ مطمئن بھی ہیں، کم از کم وہ لوگ جو اس ذریعے سے معلومات حاصل کرتے یا پھر اپنی اور اپنے عزیز و اقربا کی خیر خیریت اور سرگرمیوں سے آگاہ رہتے ہیں، تاہم ایک بھاری اکثریت دکھی بھی ہے کہ ہماری نئی نسل اس میڈیا سے سیکھتی کم اور بگڑتی زیادہ جارہی ہے، ہم نے بھی مشاہدہ کیا ہے کہ معلوماتی اور مفید ویڈیو نہ صرف نظر انداز ہوتی ہیں بلکہ اکثر حضرات ان پرنظر بھی نہیں ڈالتے جبکہ کچھ حساس اور دل والے آپس میں حالات حاضرہ کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں تو بڑے اچھے حوالے بھی لاتے ہیں، اسی میڈیا پر ہمارے وہ دوست جوادب سے دلچسپی رکھتے اور جو شاعر ہیں وہ اپنی تخلیقات سے بھی نوازتے رہتے ہیں۔

اب ذرا شکوہ بھی سن لیں، یہ بات بہت مشکل ضرور ہے کہ جن دوستوں کے بارے میں ذکر مقصود ہے وہ ناراض بھی ہو سکتے ہیں اگرچہ ان کے خلوص سے توقع ہے کہ وہ نہ صرف درگزر فرمائیں گے بلکہ معاف بھی کردیں گے، یہ ہمارے دوست بڑے دین دار قسم کے حضرات ہیں اور ان کو دین سے محبت بھی ہے اور وہ اسی خلوص کے ساتھ فیس بک والے دوستوں کو آیات قرآنی اور دعائیں بھجواتے رہتے ہیں، ان کے خیال میں یہ کار ثواب ہے، لیکن ہم جیسے گناہ گاروں کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے، کہ آیات قرآنی کو ’’ڈیلیٹ‘‘ کرتے ہوئے بڑی پشیمانی کا سامنا ہوتا اور ذہن و قلب کی عجیب سی کیفیت ہوتی ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ آپ کے موبائل کی ایک استعداد بھی ہے اور آپ ایک حد تک ہی ان کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور بالآخر جگہ( SPACE) کے لئے آپ کو ان سب کو ڈیلیٹ کرنا پڑتا ہے، ان حضرات سے ذاتی طور پر اپیل کی لیکن فائدہ نہیں ہوا اور یہ سلسلہ جاری ہے ، جسے نہیں ہونا چاہئے اگر کوئی مفید بات بھیجنا بھی ہے تو اخبارات والا سلسلہ اپنا لیا جائے کہ آیات کا حوالہ دے کر ان کا ترجمہ فارورڈ کیا یا بھیجا جائے، اخبارات نے تو تجربے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا کہ آیات قرآنی کوبعینہ نقل نہ کیا جائے، ضرورت ہو تو ترجمے سے گزارہ کیا جائے اور یہی ہوتا ہے کیونکہ اخبار بھی پڑھ پڑھا لینے کے بعد روی والے کے پاس ہی جانا ہوتے ہیں، اب بھی گزارش مقصود ہے کہ یہ حضرات آیات سے اجتناب کریں البتہ ترجمہ بھیج کر ثواب کمانا چاہیں تو یہ درست ہے۔

اب ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے، الیکٹرونک نظام ہی کی بدولت ای میلز بھی آتی جاتی ہیں، ہم نے بھی اپنی ضروریات کے لئے تین مختلف اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں اور ایک اکاؤنٹ ہمارے کالم کے عنوان کے نیچے درج ہے، دوسرے اپنے دفتر اور تعلقات کی ضرورت کے لئے ہیں اور صرف محدود دوستوں کے پاس ہوں گے۔ اب معلوم نہیں وہ کون سا ذریعہ ہے جس سے بحث میں ملوث دوستوں کو یہ تمام اکاؤنٹ مل جاتے ہیں، ہمارے ای میل بکس ایسے دوستوں کی میلز سے بھرے رہتے ہیں جو مذہبی بحث میں الجھے ہوئے ہیں ان میں ملکی اور غیر ملکی بھی ہیں تو غیر مسلم بھی حصہ دار ہیں، چنانچہ ای ،میلز کے ذریعے دین کے حوالے سے بحث جاری رہتی ہے، ان میں سے کئی مفید بھی ہوتی ہیں تاہم یہ حضرات ایسے ہیں کہ ان کی طرف سے میلز کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یہ آپس میں بحث اور دلائل سے اپنے اپنے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہیں تاہم اس میں بہت اختلافی مسائل ہوتے ہیں اور کئی تحریر یں دل آزاری اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں، ہم کھلی بات اور دلیل کے ساتھ موقف پیش کرنے کے حق میں ہیں لیکن ان حضرات کی طرح نہیں چاہتے جو دلیل کی بجائے ہٹ دھرمی پر بھی اترے ہوئے ہیں، ایک حساب سے اسے یوں مفید بھی قرار دے رہے ہیں کہ اس سے دوسرے موقف کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور ان کا جواب بھی دلیل سے دیا جاتا ہے تاہم یہ سلسلہ طویل ہے اور گراں بھی گزرتا ہے کہ بعض لوگ حد آداب سے گزر جاتے ہیں۔

یہ احوال واقعی ہے، اس سلسلے میں ایک نئی مثال بھی عرض کئے دیتے ہیں، ہمارے کپتان عمران خان کو شادی کا بہت ’’ شوق‘‘ ہے، جمائما کے بعد ریحام خان سے بھی شادی کی لیکن بدقسمتی سے دونوں ناکام ہو گئیں، اب محترم خود ہی شادی کو موضوع سخن بنالیتے ہیں تیسری کا کئی بار کہہ چکے اور ان کے انہی ارشادات کی وجہ سے خبریں بھی بنتی ہیں شادی ان کا بالکل ذاتی اور نجی معاملہ ہے وہ خود ہی اسے پبلک میں لے آتے اور پھر تبصروں سے بھی محظوظ(شاید) ہوتے ہیں، وہ اب بھی کئی بار اپنی شادی کا ذکر کرلیتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے کہا کہ 2018ء تک شادی نہیں کروں گا، مطلب یہ کہ وہ تمام تر توجہ اگلے سال کے انتخابات تک رکھنا چاہتے ہیں لیکن اب وہ خود بات کرتے رہتے ہیں تو سوال بھی پوچھا جاتا ہے اور کئی ایک افسانے بھی بنتے ہیں اب یہی لیجئے کہ ایک محترم نے فیس بک پر کپتان کی ایک خاتون کے ساتھ والی تصویر لگائی اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کردیا کہ عمران خان کی شادی ہونے والی ہے اور یہ اسی خاتون سے ہوگی، اس کے لئے حوالہ عارف نظامی صاحب کا دیا گیا ہے جو ریحام خان کی شادی اور طلاق کے حوالے سے انکشاف کرکے شہرت کما چکے ہوئے ہیں، اسی ٹائم لائن پر ہمارے ایک محترم ساتھی نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا اور اپیل کی کہ تصدیق کے بغیر ایسی اطلاعات نہ چلائی جایا کریں، ان دوست کا کہنا ہے کہ جس خاتون کے ساتھ عمران خان کی یہ تصویر ہے وہ تو شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ہیں ان کی ازدواجی زندگی بھی خوشگوار ہے اس وضاحت کے بعد بات آگے تو نہیں چلی تاہم اتنا ہوا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اب بات ہو نے لگی ہے۔

اب حقیقت جو بھی ہے اس سے عمران خان بھی آگاہ ہیں تو آخر کیوں نہیں وہ خود اس راہ سے ہٹ جاتے کہ وہ ’’پلے بوائے نہیں نہ ہی یہ کرکٹ ہے کہ نوجوان لڑکیوں نے ان کو آئیڈیل بنالیا تھا، اب وہ عوامی لیڈر ہیں تو ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ عوامی لیڈر سے ان کے نجی امور پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے ، اس لئے بہتریہی ہے کہ یہ ایک سماجی اور ذاتی معاملہ ہے اسے خبروں سے الگ تھلگ رکھا جائے، بہتوں کا بھلا ہوگا۔

مزید : کالم