چوکی بیگم کوٹ پولیس انچارج کا پراپرٹی ڈیلر کے گھر دھاوا ،گرفتار ی مک مکا

چوکی بیگم کوٹ پولیس انچارج کا پراپرٹی ڈیلر کے گھر دھاوا ،گرفتار ی مک مکا

لاہور ( لیاقت کھرل )تھانہ شاہدرہ کی پولیس چوکی بیگم کوٹ کے انچارج کاشف یوسف اہلکاروں کے ہمراہ پراپرٹی ڈیلر ملک محمد نعیم کے گھر گھس گیا، مبینہ اشتہاری ہونے کے شبہ میں حراست میں لے کر رات بھر ٹارچر سیل میں رکھ کرمبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود مبینہ طور پر 35ہزار روپے میں مک مکا کر کے جان بخشی کی ۔پراپرٹی ڈیلر نے آئی جی،سی سی پی کو الگ الگ درخواستیں دینے کے بعد ’’پاکستان‘‘ کے دفتر میں پہنچ گیا ۔ ’’پاکستان ‘‘ کے دفتر میں شکایت سناتے ہوئے معراج پارک شاہدرہ کے رہائشی ملک محمد نعیم نے بتایا کہ وہ پراپرٹی کا کام کرتا ہے ،تین روزقبل رات کو اچانک 20 سے زائد پولیس اہلکار گھر کی پچھلی جانب سے سیڑھی لگا کر داخل ہوگئے ،خواتین سے بدتمیزی کی اور آنکھوں پر پٹی باند کر حراست میں لے لیا۔ پراپرٹی ڈیلر محمد نعیم نے پولیس گردی کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ پولیس اہلکار اسے ڈاکو سمجھ کر مارتے پیٹتے رہے اور تشدد کرتے ہوئے پہلے پولیس چوکی بیگم کوٹ لے گئے اورپھر آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر بعد میں ایک پرائیویٹ کمرہ کے لے جا کر چھترول کی اور پاؤں پر ڈنڈوں سے تشد کرتے رہے اور رات بھر پوچھتے رہے کہ قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی کے کون کون سے مقدمات میں ملوث ہو، شہری محمد نعیم کے مطابق اپنی بے گناہی کے لئے قسمیں اٹھاتا رہا اور چوکی انچارج کاشف یوسف ، اے ایس آئی ندیم گجر اور حوالدار محمود احمد کے پاؤں پر لیٹ لیٹ کر منتیں کرتا رہا، لیکن چوکی انچارج اور اے ایس آئی ندیم گجر کو ذرا بھر بھی ترس نہ آیا اور بے ہوش ہونے پر ٹھنڈی ریت پر چلاتے رہے۔ پیدل چلاتے اور بیٹھکیں نکلواتے رہے اور اشتہاری ہونے کے بارے پوچھتے رہے پراپرٹی ڈیلر کے مطابق اگلے دن ایک اہلکار نے بتایا کہ اسے پتہ چلا کہ اُسے چوکی انچارج کا شف یوسف اور اے ایس آئی ندیم گجر اور ہیڈکانسٹیبل محمود نے ایک رشتے دار کے ساتھ ساز باز ہو کر گھر سے اٹھایا ہے اور پھر آخر کار جرم میں کسی مقدمہ یا ثبوت نہ ہونے پر مبینہ طور پر 50 ہزار رشوت کا مطالبہ کیا۔ جس پر اس کے ماموں طارق رفیق اورگھروالوں نے 35ہزاروپے کا بندوبست کر کے جان چھوڑائی ۔پراپرٹی ڈیلر کے مطابق پولیس اہلکار محمود اسے اس سے قبل بھی سول اہلکار کے ہمراہ اُسے مختلف تھانوں میں گرفتار کر کے ٹارچر کر چکا ہے اور اس سے قبل دو مرتبہ گرفتار رکرنے کے بعد پہلے 25ہزار اور بعد میں 40 ہزار روپے رشوت لی پراپرٹی ڈیلر کے مطابق اس نے پہلے گرفتار ہونے پر درخواست دی۔اور ایس پی سٹی کے حکم پر رقم واپس ہوئی جبکہ اس حوالے سے چوکی انچارج کا شف یوسف کا کہنا ہے کہ الزامات غلط ہیں، شہری محمد نعیم کو پولیس چوکی ضرور لائے لیکن تشدد کیا نہ رشوت لی جبکہ ڈی ایس پی شاہدرہ فیصل یوسف نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری کی جائے گی اور انکوائری میں ثابت ہونے پر باقاعدہ کارروائی کی جائے گی۔

مزید : علاقائی