انفار میشن ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑنے والے چار بہن بھائی

انفار میشن ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑنے والے چار بہن بھائی
انفار میشن ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑنے والے چار بہن بھائی

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چار پاکستانی بہن بھائیوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی ذہانت سے تہلکہ مچادیا، جو ریکارڈ ارفع کریم نے 9سال کی عمر میں قائم کیا تھا اسے ان چار بہن بھائیوں نے نہ صرف باری باری توڑا بلکہ اب یہ ایسا ریکارڈ بن گیا ہے جسے شاید آئندہ کئی سالوں تک توڑا نہ جا سکے۔ سب سے بڑی بہن روما سعیدین نے ارفع کریم کے بعد سب سے پہلے 10سال کی عمر میں مائیکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ انفار میشن ٹیکنالوجی پروفیشنل کا اعزاز اپنے نام کیا جس کو ان کے چھوٹے بھائی انعام علی سعیدین نے 9 سال کی عمر میں توڑا اس کے بعد انہی کے چھوٹے بھائی سبحان علی سعیدین نے یہ اعزاز7سال کی عمر میں اپنے نام کیا۔اپنے تینوں بہن بھائیوں کو دیکھتے ہوئے سب سے چھوٹی بہن ثانیہ سعیدین نے یہ اعزاز 5سال 10 ماہ کی عمر میں اپنے نام کرلیا اور سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے روما سعیدین کا کہنا تھا کہ جب میں 9سال کی تھی تو مجھے مائیکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیشنل،مائیکرو سوفٹ سرٹییفائیڈ سولیوشن ایوسی ایٹ،مائیکرو سوفٹ سرٹیافائیڈ ٹیکنالوجی سپیشلسٹ کا ایوارڈ ملا تھا، 13سال کی عمر میں میں نے ورلڈ ینگیسٹ ایتھیکل ہیکر کا اعزاز بھی حاصل کرلیا تھا۔میں مستقبل میں ڈیٹا سائنسدان اور ڈیٹا اینالئزر بننا چاہتی ہوں تاکہ میں اپنے والدین اور اپنے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کرسکوں۔ان کا کہنا تھا کہ ارفع کریم کی موت کے بعد مجھے لگا کہ ہمیں بھی اب اپنے ملک کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔ ایتھیکل ہیکنگ کا ٹیسٹ پاس کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عمر 18سال ہوتی ہے لیکن میں نے اسے 13سال اور 6ماہ کی عمر میں ہی کرلیا تھا۔نا سا والوں نے صرف یہ کنفرم کرنے کے لئے مجھے وہاں بلایا تھا کہ کہیں میں نے کوئی فراڈ تو نہیں کیا،انہوں نے میرا ٹیسٹ لیا تھا جسے میں نے پاس کرلیا اور جب انہیں پتہ چلا کہ میں نے ٹھیک طریقے سے یہ کام کیا تو انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مجھے اس اعزاز سے بھی نوازا۔اس وقت مجھے بہت خوشی ہوئی کہ یہاں پاکستان کا نام روشن ہوا اور مثبت امیج بنا۔روما کے چھوٹے بھائی انعام علی سعیدین 9سال کی عمر میں ورلڈینگیسٹ مائیکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیشنل،مائیکرو سوفٹ سرٹییفائیڈ سولیوشن ایوسی ایٹ،مائیکرو سوفٹ سرٹیافائیڈ ٹیکنالوجی سپیشلسٹ بنے تھے،ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ کام ونڈو 2008انفرا سٹر کچر اینڈ ایڈ منسٹریشن میں کیا تھا۔اس سے پہلے ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح ہی تھے میری کئی بار گھر میں شکایت آیا کرتی تھی ،لیکن جب میری بہن نے یہ ایوارڈز حاصل کیے تو میرے دل میں بھی خیال آیا کہ اگر یہ کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔اس طرح ہم بہن بھائی اسی فیلڈ کی طرف آنے لگ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میں بڑے ہو کر کمپیوٹر ہیکنگ انویسٹیگیٹر بننا چاہتا ہوں، اس فیلڈ میں کوئی پاکستانی نہیں ہے۔تیسرے بھائی سبحان علی سعیدین نے 7سال کی عمر میں ورلڈینگیسٹ مائیکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیشنل ،مائیکرو سوفٹ سرٹیافائیڈ ٹیکنالوجی سپیشلسٹ اور مائیکرو سوفٹ سرٹییفائیڈ سولیوشن ایوسی ایٹ کے ایوارڈ حاصل کیے۔انہوں نے کہا کہ جب میں نے اپنا پہلا ایوارڈ حاصل کیا تو مجھے بہت فخر محسوس ہو رہا تھا کہ ہم پاکستان کے لئے اپنی خدمات دے رہے ہیں اور اپنے ملک کا نام پوری دنیا میں روشن کریں گے۔میں مستقبل میں پاکستان کے لیے ایک سرچ انجن بناوں گا جس کا نام سراس ہوگا۔سراس کا مطلب ہماری فیملی کے نام ہیں۔سب سے چھوٹی آئی ٹی ماسٹر ثانیہ سعیدین نے 5سال اور 10 ماہ کی عمر میں ہی اپنے تینوں بہن بھائیوں کے ریکارڈ توڑے اور ورلڈ ینگیسٹ مائیکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ ٹیکنالوجی سپیشلسٹ اینڈ ینگیسٹ مائیکرو سوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنیں۔انہوں نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کھلونوں میں دلچسپی نہیں ،میرا شوق لیپ ٹاپ پر کام کرنا ہے کیونکہ اس سے ہمیں بہت سی معلومات ملتی ہیں اور بہت کچھ نیا نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔جب مجھے سب سے پہلا ایوارڈ ملا تو جھے اس وقت خود پر بہت فخر محسوس ہو رہا تھا۔جب میں چھوٹی تھی تو یہ کام میرے سب بہن بھائی کر چکے تھے مجھے ان سے ہی حوصلہ ملا تھا اور انہیں دیکھ دیکھ کر میرا بھی اسی فیلڈ میں شوق پیدا ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں بڑی ہو کر جاپان جاکر روبوٹیکل انجینیئر بنوں گی اور پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی لاوں گی۔

مزید : صفحہ اول