داعش دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور: رپورٹ

داعش دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور: رپورٹ

اقوام متحدہ (اے پی پی) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ نام نہاد شدت پسند گروپ داعش کے خلاف کئی جنگ زدہ علاقوں میں ایک ساتھ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے سامنے یہ گروپ ٹھہر نہیں سکا ہے اور اب وہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔شدت پسند گروپ داعش اور القاعدہ سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ داعش کی طرف سے شام و عراق کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی کا عمل "قابل ذکر حد تک سست ہو گیا ہے" اور جنگجو تیزی سے میدان جنگ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہ جیفری فیلٹمین نے سلامتی کونسل کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ داعش فوجی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے کئی طریقے اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا اگرچہ داعش کے ذرائع آمدن اور اس کے زیر کنٹرول علاقے میں کمی آ رہی ہے تاہم ان کے بقول اب بھی "داعش کے پاس اتنے مالی وسائل ہیں کہ وہ لڑائی جاری رکھ سکتی ہے۔تاہم اقوام متحدہ کے رپورٹ میں بلجیئم اور ترکی میں ہوائی اڈوں پر ہوئے حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے متنبہ کیا گیا کہ ''شہری ہوا بازی کے شعبے کے لیے اب بھی خطرہ زیادہ ہے۔رپورٹ میں ان ملکوں کو بھی متنبہ کیا گیا کہ جن کے شہری داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کے بعد اپنے وطن واپس آ رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر (اب بھی) داعش کے نظریہ سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور جب وہ بالآخر واپس آئیں گے تو وہ ایک اہم خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ رپورٹ یورپ، شمالی افریقہ اور مغربی افریقہ میں شدت پسند گروپ کی موجودگی کا احاطہ کرتی ہے۔

مزید : عالمی منظر