سیکیورٹی نہ پانی ،فرید کورٹ ہاؤس علاقہ تھر بن گیا

سیکیورٹی نہ پانی ،فرید کورٹ ہاؤس علاقہ تھر بن گیا

لاہور( لیاقت کھرل) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا دفتر واقع فرید کورٹ ہاؤس میں نہ سیکیورٹی، سائلین کے بیٹھنے کے کوئی جگہ اور نہ ہی دفتر میں مناسب انفراسٹرکچر، جبکہ افسران اور سٹاف کی کمیابی کے باعث یہ دفتر جہاں سیکیورٹی رسک بن کر رہ گیا ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے شہر کے تاریخی مقامات اور کروڑوں روپے ماہانہ ریونیو جنریٹ کرنے والے محکموں کے دفاتر کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس سلسلے میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا دفتر جو کہ گزشتہ چار دہائیوں سے فرید کورٹ ہاؤس میں واقع ہے اس کا سروے کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ 4منزلہ عمارت مرمت نہ ہونے کے باعث روز بروز خستہ حالی کی جانب جا رہی ہے۔ اس دفتر میں روزانہ 6 ہزار سے زائد لوگ گاڑیوں کی رجسٹریشن، پراپرٹی کی رجسٹریشن اور ٹیکس سمیت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے معاملات کے حوالے سے اس دفتر میں آتے ہیں۔ سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث جہاں اس دفتر میں موجود افسران اورملازمین پریشانی سے دوچار ہیں وہاں آنے والے سائلین میں بھی خوف پایا جا رہا تھا۔ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے اس دفتر کا سروئے کے دوران ڈائریکٹر ایکسائز چودھری محمد آصف نے بتایا کہ کئی سالوں سے سٹاف کی شدید کمی ہے۔ دفتر میں ہزاروں سائلوں کو اٹینڈ کرنے کے لئے صرف 45 کاؤنٹر اور ان پر 45 ملازمین جن میں 18 انسپکٹرز اور 27 کانسٹیبل کام کرتے ہیں۔ 1981ء سے افسران اور ملازمین کی یہی تعداد چل رہی ہے۔ اس موقع پر شہریوں محمد حسین، محمد اسلم، وارث علی، مہربان ، اکرم، محمد ارشاد، چودھری نیک محمد، حاجی خوشی محمد، شیخ جاوید اور دیگر نے بتایا کہ دفتر میں سٹاف کی انتہائی کمی کے باعث کئی کئی دن چکر لگانے پڑتے ہیں، جبکہ سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث اسی دفتر میں مشکوک افراد بھی آگے پیچھے گھوم رہے ہوتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، اس موقع پر محکمہ بلڈنگ کے سپروائزرمنیر احمد ، محمد اقبال، یاسین، محمد منیر خاں اور حسن خاں نے بتایا کہ گزشتہ 25 سے 30 سالوں سے فنڈز کی شدید کمی ہے جس کے باعث بلڈنگ کی مرمت نہیں ہو پا رہی۔ اس موقع پر محکمہ ایکسائز کے ملازمین راشد علی، چودھری ابوھریرہ، جہانزیب علی، سید محمد اسلم نے بتایا کہ سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث یہ دفتر ایک قسم کا بھوت بنگلہ لگتا ہے، ایجنٹوں نے اپنا راج قائم کر رکھا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، دفتر کی اکثریتی عمارت پر کئی سالوں سے وکلاء نے قبضہ کررکھا ہے۔ آج تک اس چیز کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ وہ قابض ہیں یا اس عمارت کے ساتھ وہ بھی حصہ دار ہیں۔ مرکزی گیٹ پر سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث دفتر سیکیورٹی رسک بنا ہوا ہے اور دفتر کے سامنے پارکنگ کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث آئے روز موٹر سائیکلیں چوری ہوجاتی ہیں جبکہ گاڑیوں پر آنے والے شہریوں کو صفاں والا چوک ، جین مندر، انارکلی اور گردونواح کی سڑکوں پر گاڑی کو پارک کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ای ٹی او ایکسائز قمر ساجد نے بتایا کہ دفتر کی عمارت کی مرمت سمیت پارکنگ اور سیکیورٹی جیسے اہم معاملات کی جانب اعلیٰ حکام کو توجہ دینا چاہیے جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایکسائز چودھری مسعود الحق نے بتایا کہ سیکیورٹی کے معاملات بہتر کئے جا رہے ہیں۔ بلڈنگ کی مناسب دیکھ بھال اور وائٹ واشنگ کی جاتی ہے، تاہم افسران اور سٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے اس کے باوجود فرید کورٹ ہاؤس کے دفتر میں روزانہ چار ہزار کے قریب شہریوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور پراپرٹی سے متعلقہ معاملات حل کیے جاتے ہیں، جس میں پہلے کی نسبت معاملات انتہائی بہتر اور دفاتر میں شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے۔ نئے ڈائریکٹر چودھری محمد آصف اور نئے ای ٹی او قمر ساجد سمیت افسران اور ملازمین کی ایک نئی ٹیم تعینات کی گئی ہے جس سے کرپشن کا خاتمہ ہو گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1