دوہرے معیار نے ہمارے معاشرے کو برباد کردیا ،رضا ربانی

دوہرے معیار نے ہمارے معاشرے کو برباد کردیا ،رضا ربانی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ دوہرے معیار ، سماجی تضادات اور معاشی استحصال نے ہمارے معاشرے کو برباد کردیا ہے ۔ استحصالی نظام سے امیر اور غریب کا فرق بہت زیادہ ہوگیا ہے ۔لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقات کی دلجوئی اور خدمت کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی کتاب ’’نظروں سے اوجھل‘‘کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔پاکستان کے نامور ادیبوں نے تقریب میں اظہار خیال کیا ۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ ہم حقیقی پاکستان فراموش کر بیٹھے ہیں جس میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہیں اسپتالوں میں علاج،کچہری تھانوں میں انصاف نہیں ملتا ، تلخ حقیقتیں ہماری روزمرہ زندگی میں سامنے نظر آتی ہیں اور ان حقیقتوں میں انہیں مجبور کیا کہ وہ معاشرے کے ان نظر انداز ، پسے اور غربت اور مایوسی کے مارے پاکستانیوں کی جذبات کی عکاسی مختصر کہانیوں کے مجموعے کی صور ت میں کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب" نظروں سے اوجل" میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جواصل پاکستان ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی جارہی اور اشرافیہ ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے۔ اس لئے میں نے ان کی کہانی بیان کرنے کے لیے ادب کا سہارا لیا ہے اور جو زندگی کی حقیقت اور سچائی کو بیان کرتا ہے ۔ معروف ادبی شخصیت اور ڈرامہ نگار مستنصرحسین تارڑجوکہ ناسازی طبیعت کے باعث تقریب میں شریک نہ ہوسکے کا مضمون ارم گیلانی نے پڑھ کرسنایا ۔مستنصرحسین تارڑ نے اپنے مضمون میں کہا کہ میری دلی خواہش تھی میں اس کتاب کے پروگرام میں شریک ہوسکوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی کتاب ہے جس کی کہانیاں میں نے شروع سے لیکر آخر تک حرف بہ حرف پڑھیں ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس کتاب کی تمام کہانیاں کہانی کے فن پر پورا اترتی ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے میاں رضا ربانی کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ جن کرداروں کے ذریعے معاشرتی نا انصافیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ غازی صلاح الدین نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میاں رضاربانی کی اس کاوش کو علم و ادب کی دنیا میں اضافہ قرار دیا ۔ مجاہد بریلوی نے کہا ہے کہ اس کتاب میں پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ان کرداروں کی کہانیاں ہیں جنہیں معاشرے میں جائز مقام نہیں ملتا۔ تقریب میں بڑی تعداد میں صحافیوں ، ادیبوں ، مصنیفین ، اراکین پارلیمان اور مختلف مقاطب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزید : کراچی صفحہ اول