کردار زبیدہ سے جناح تک

کردار زبیدہ سے جناح تک
کردار زبیدہ سے جناح تک

  


ہم تو اللہ کے رسول ﷺ کے ماننے والوں میں سے ہیں،ان کے پیروکاروں میں سے ہیں۔ہمیں بہت ہی شدت سے اس بات کو اپنے اندر جھانک کے دیکھنا پڑے گا،کہ آج ہماری شخصیتوں میں ایسی کون سی کمی رہ گئی ہے ، وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج ہم اپنی شخصیت کی تکمیل سے گریزاں ہیں؟۔دراصل ہم بنیادی طور پر اس احساس سے ہی بالکل گریزاں ہو چکے ہیں کہ صحیح اور غلط میں فرق کیسے کیا جائے، حلال اور حرام میں تقسیم کیسے کی جائے، کون سی بات صحیح اور کون سی بات غلط ہے ......حق بات کے لئے کردار چاہئے کردار۔۔۔اورکردار کی تکمیل اور شخصیت کیسے ہوتی ہے؟۔ یہ خصوصیت ہمارے ہاں چھوٹے چھوٹے لوگوں ،فقیروں اور بڑے بڑے بادشاہوں کے ہاں بھی دیکھنے کو ملتی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے تذکرے سے ہم زندگی میں سبق سیکھتے ہیں۔

ہارون الرشید اور اُس کی بیوی زبیدہ کا آپس میں علمی تعلق بھی تھا۔ وہ پُر خلوص طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ علم شےئر کرتے تھے۔ ایک دن زبیدہ اور ہارون دریا کے کنارے جا رہے تھے کہ اُنھوں نے وہاں اُس زمانے کے ایک مشہور دانا آدمی بہلول کوبیٹھا دیکھا۔ یہ ایک ایسی شخصیت تھی جس کا تذکرہ آپ کو ان واقعات میں جگہ جگہ ملے گا جہاں محض ایک یا دو جملوں میں کسی فقیر نے کسی زمانے میں اپنا اثر چھوڑا ہو۔ خیر! وہاں سے دونوں گزرے تودیکھا کہ بہلول دریا کے قریب بیٹھا تھا۔ وہ کبھی ریت اپنے پاؤں کے اوپر چڑھاتا تو کبھی پاؤں کو ریت سے نکال لیتا اور کہتا ’’ یہ میں جنت کے گھر بنا رہا ہوں،ہے کوئی خریدار؟‘‘

یہ سن کر زبیدہ گھوڑے سے اُتری اور کہنے لگی ’’بہلول! یہ جو تو جنت کے گھر بنا رہا ہے،یہ مجھے کتنے میں بیچے گا؟‘‘

بہلول نے کہا ’’میں تجھے ایک درہم میں گھربیچوں گا۔‘‘

سو، زبیدہ نے اُسے ایک درہم دیا مگر بہلول نے جو گھر بنایا ہوا تھا، اُس نے اوپر پاؤں رکھ کر اُسے توڑ دیا اور زبیدہ سے کہا ’’ بس جا! تجھے میں نے گھر دے دیا۔‘‘

اب منطقی طور پہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جو ریت کا گھر بنایا، اُسے توڑ بھی دیا اور اوپر سے یہ بھی کہہ دیا کہ جنت میں گھر دے دیا۔

یہ سارا معاملہ ہارون بھی دیکھ رہے تھے۔جب وہ دربار میں آئے تو ہارون زبیدہ پہ ناراض ہوا ’’تم نے ایک درہم اُس فقیر کو دے کے ضائع کیا۔ اِسی لیے اللہ نے بادشاہت اور امامت صرف مردوں کو عطا فرمائی کیونکہ تم کم ذہن اور کم فہم عورتیں اس کے معاملات کو سمجھ نہیں سکتیں ،سنبھال نہیں سکتیں۔‘‘

جب رات کو خلیفہ ہارون الرشید سویا تو اُس نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک بہت اونچے آسمان پر چل رہا ہے۔ راستے میں اُس نے ایک بہت بڑا اور عالی شان محل دیکھا جس کے باہر بہت سے فرشتے گارڈ کے طور پہ کھڑے تھے۔ محل کے اوپر لکھا تھا کہ یہ زبیدہ کا محل ہے اور اِس میں اُس کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔ اُس نے کہا کہ ’’میں زبیدہ کا شوہر ہوں‘‘

فرشتوں نے کہا’’ کیسے شوہر ؟ یہ تو دنیا کی بات ہے، زبیدہ یہاں کی ملکہ ہے اور تم اُس کی اجازت کے بغیر اندر داخل نہیں ہو سکتے۔‘‘

جب وہ صبح اٹھا تو اُس نے زبیدہ کو ساتھ لیا اور بہلول کے پاس گیا۔ اب وہ زبیدہ سے کہنے لگا ’’ تم میری بہلول سے سفارش کرنا کہ وہ مجھے بھی ایک درہم میں گھر دے دے‘‘ آخر وہ بادشاہ سلامت تھے، چالاکی تو انھوں نے کی۔ وہ گئے، وہاں پہ دیکھا بہلول اُسی طرح گھر بنا رہا تھا۔ خلیفہ نے بہلول سے کہا کہ ’’ بہلول! یہ جو تو گھر بنا رہا ہے کتنے کا دے گا مجھے؟‘‘

بہلول نے کہا ’’آدھی سلطنت کے عوض!‘‘

ہارون نے کہا ’’ تو نے کل تو ایک درہم کا دیا تھامیری بیوی کو۔۔۔‘‘

بہلول نے کہا ’’ اب پوری سلطنت کا دوں گا۔‘‘

ہارون گھوڑے سے نیچے اُترا اور بہلول کے پاؤں پکڑ کر کہنے لگا ’’کل تو تم نے میری بیوی کو ایک درہم میں دے دیا تھا، آج مجھے پوری سلطنت کا دے رہا ہے؟ تو مجھ سے دوگنا قیمت لے لے اور مجھے یہ گھر دے دے۔‘‘

بہلول کا جواب بڑا خوب صورت تھا ۔

اُس نے کہا ’’ دیکھو بادشاہ سلامت! تم مجھ سے سودا کرنے آئے ہو،خواب دیکھنے کے بعد مگر زبیدہ نے مجھ سے سودا کیا تھا بغیر دیکھے ہوئے۔ تجھے تو اب میں پوری سلطنت کے عوض دوں گا!‘‘

یہ جتنی دانش اور شخصیت کی تکمیل ہے ، یہ مسلمانوں کے لیے انوکھی بات نہیں۔یہ اخلاقیات کے معمولی معاملات ہیں لیکن اس سے بھی اگر ہمارے ہاں علم نکل سکتا ہے تو غور فرمائیے کہ اعلیٰ درجوں سے کیسا علم نکلتا ہو گا۔

ہمارے ہاں حسن بصریؒ ایک بڑے بزرگ گزرے ہیں۔

یہ حسن بصریؒ کون ہیں ؟

یہ وہ ہیں جنھوں نے حضور پاک ﷺ کی بیوی امِ سلمہؓ کی گود میں پرورش پائی ۔

ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آپؒ نے امِ سلمہؓ کا دودھ بھی پیا تھا۔ حسن بصریؒ کا درجہ محض اس لیے بہت زیادہ نہیں کہ وہ بہت بڑے عالم ہیں، بلکہ بنیادی طور پر وہ دو وجوہات سے بہت مشہور ہیں۔

پہلی بات یہ کہ لوگوں نے رابعہ بصریؒ کے ساتھ ان کے قصے بہت مشہور کیے ۔ رابعہ عمر میں اِن سے بہت چھوٹی تھیں۔ حسن بصریؒ بہت بڑے تھے لیکن وہ اُس وقت تک جمعہ کا خطبہ نہیں دیا کرتے تھے جب تک رابعہؒ اُن کی مجلس میں نہیں آ جاتی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ تم خطبہ کیوں شروع نہیں کرتے؟ تو آپؒ کا جواب یہ ہوتا تھا کہ میں ہاتھیوں کا کھانا چیونٹیوں کو کیسے کھلا دوں؟

پتا ہے وہ ایسا کیوں کہا کرتے تھے؟

کیونکہ ایک مرتبہ یہ رات کو رابعہ بصریؒ کے ہاں ٹھہرے۔ لوگ خبر لینے کے لیے باہر کھڑے رہے کہ یہ اندر کیوں گئے ہیں؟۔

صبح جب آپ ؒ باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا کہ حسن بصریؒ ! رات کیسی گزری؟

اُنھوں نے کہا ’’ ہاں، رات تو بہت اچھی گزری۔ کیسی عورت ہے کہ ساری رات اُس نے مجھے احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں ایک مرد ہوں۔‘‘

دیکھیں ذرا! اپنی نامردی کا اظہار دنیا کے سامنے کرنے کے لیے حسن بصری ہونا پڑتا ہے۔

یہی حسن بصریؒ ہیں جو ایک بار سڑک سے گزر رہے تھے کہ ایک ہیجڑے کو دیکھا جو شراب پی کے گرتا پڑ رہا تھا۔ حسن بصریؒ نے اُسے آواز دی اور کہا ’’ ذرا سنبھل کے چلو کہیں گر نہ جانا‘‘

ہیجڑا کھڑا ہوا اور پلٹ کے حسن بصریؒ کی طرف دیکھ کر کہا ’’حسن بصری! میں تو ایک فرد ہوں، اگر میں گر بھی گیا تو صرف میں ہی گروں گا، تو اپنے آپ کو سنبھال، اگر تو گر گیا تو پوری امت گر جائے گی‘‘

یہاں میں آپ سے ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ میں ہمیشہ یہ سوچا کرتا تھا کہ ایسے کیا معاملات ہیں، ایسی کیا باتیں ہیں کہ جب پاکستان قائم کرانا تھا تو بہت سے اچھے اچھے لوگ موجود تھے مگر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسے شخص سے کیوں بنوانا چاہا جو سفید رنگ کے جوتے پہنتا تو ساتھ موزے بھی سفید رنگ کے پہنتا تھا، اُس کا سوٹ بھی برطانیہ سے آتا تھا اور جو سگار پیتا تھا، کیا وجہ تھی کہ اُس کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی اِسلامی مملکت بنوا دی؟ اس کے پیچھے خدا کے ہاں کوئی تو راز ہوگا!

اور پھر یہ ملک بنا بھی کون سی رات کو! رمضان کی ستائیسویں شب کو۔ ہندو یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ چودہ کی تاریخ نیک نہیں بلکہ منحوس ہو گی لہٰذا ہم پندرہ کو کریں گے لیکن جناح نے پھر بھی یہ فیصلہ کیا۔

اس بات کا جواب ہمارے ایک صاحب تھے پروفیسر زیدی ، جن کا کچھ سال پہلے انتقال ہو گیا(اللہ انھیں جنت میں جگہ دے) اُنھوں نے ایک بہت بڑیDocumentation،"Record of Jinnah" (جو کہ سترہ جلدوں پر مشتمل ہے) میں دیا ہے اور یہ جو آج بھی ہماری اسمبلیوں کے اندر موجود ہے۔ اُنھوں نے زیادہ تر ڈیٹا لاہور کے سیکرٹریٹ سے لیا اور وہ صندوق آج بھی پنجاب سیکرٹریٹ کے آرکائیوز میں موجود ہے۔ اُس میں ایک بڑا خوب صورت جملہ رقم ہے ۔

اب یہاں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ جناح پانچ وقت کے نمازی تھے۔ ہاں، آخری بار اُنھوں نے 1948 ء میں نمازِ عید ضرور پڑھی اور وہاں بھی امام صاحب سے بڑی ڈانٹ کھائی تھی کیونکہ جب نماز ختم ہو گئی تو لوگ جناح صاحب سے ملنے کے لیے آئے ۔ امام صاحب کھڑے ہوئے اور جناح سے کہنے لگے کہ ‘‘جناح صاحب! آپ سے ملنا واجب نہیں، خطبہ واجب ہے، خاموش ہو جائیں اور بیٹھ کہ خطبہ سنیں!‘‘

جناح صاحب ایک ٹانگ پیٹ کے ساتھ لگا کر بیٹھ گئے، خاموشی سے خطبہ سنا اور پھر لوگوں سے ملے۔

جناح کے بارے میں پروفیسر صاحب نے ایک بات یہ بھی لکھی کہ اُن کی گاندھی کے ساتھ ایک میٹنگ طے تھی مگر وہ جلد ہی میٹنگ کیے بغیر باہر نکل آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے کی مناسب جگہ نہیں بنائی گئی تھی (ہندو آج بھی مسلمان کو ذلیل کرنے کے لیے اسے ہتھکنڈے کہ طور پہ استعمال کر سکتا ہے کہ آپ کی لیڈر شپ کو آپ سے کم تر کر دے تاکہ آپ کو اپنی لیڈر شپ پہ اعتماد نہ رہے)۔ تو جناح وہاں سے باہر آگئے۔ وہاں ایک برطانوی خاتون صحافی موجود تھیں۔ اُنھوں نے جناح سے کہا کہ’’ مسٹر جناح! کتنی عجیب بات ہے کہ تم ایسے لوگوں کے لیے ذلیل ہونا چاہتے ہو جن کے پاس یا دھوتی ہے یا کرتہ ۔ اِن میں زیادہ تر لوگ ایسے بھی ہیں جو دھوتی اور کرتہ اکٹھے نہیں پہنتے ہوں گے۔ تم اتنے اچھے، کامیاب اوراعلیٰ پائے کے وکیل ہو، برطانیہ جاؤ ،بیرسٹر ہو،اپنی زندگی وہاں گزارو۔ تم ان لوگوں کے پیچھے کیوں اپنی زندگی برباد کرتے ہو؟‘‘

وہ خاتون صحافی کہتی ہے کہ جناح رک گئے، اپنی جیب سے سگار نکالا اور اسے جلا کر ایک لمبا کش لیااور پھر مجھے کہتے ہیں کہ’’ دیکھو! تمھیں معلوم ہے کہ میں نے ایک دن مرنا ہے اور میں جب مروں گا تو مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میں اپنے خدا سے ملوں گا۔ جب میں خدا سے ملوں تو میری یہ بڑی خواہش ہے کہ خدا کھڑا ہو کے مجھ سے ہاتھ ملائے اور میرے کندھے پہ تھپکی دے اور مجھ سے کہے ’ ویل ڈن مسٹر جناح!‘

دوستو! بس اتنا سا ایمان کردار بنادیتاہے، اتنا معمولی سا ایمان بھی آپ کے اندر موجودہو جتنا جناح کے اندر تھا تو خدا پاکستان کا نصیب آپ سے منسوب کر دے گا۔

( سید بلال قطب ممتاز ترین دینی روحانی سکالر کی حیثیت میں نوجوانوں کو الجھنوں اور گمراہی سے بچارہے اور ان میں اللہ و رسولﷺ سے محبت کا سلیقہ اور شعوربیدار کررہے ہیں ۔ٹی وی چینلز پر انکے پروگراموں اور تعلیمی و پیشہ وارانہ اداروں میں انکے لیکچرز کی وجہ سے لوگوں میں قرآن فہمی کا جذبہ عود آیا ہے۔ انکی ویب سائٹ http://www.bilalqutab.com/ اور فیس بک

https://www.facebook.com/syed.bilal.qutab/ پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ