چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ پانچویں قسط

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ پانچویں قسط
چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ پانچویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ترجمہ :ایم وقاص مہر

چین کی تاریخی کہانیوں میں موجود علامتوں کے مطابق اس نے یان کی ریاست کے حاکم کو شکست دینے کے بعد اسے اپنا اتحادی بنا لیا تھا۔ جب وہ 9 قبیلوں کے مشترکہ حملے کو پسپا کرنے میں کامیاب ہوگیا توتب اس نے اتحاد کے سربراہ کے طور پر یان پر قبضہ کر لیا تھا۔چینی قصوں میں پیلا شہنشاہ ،یان کے حاکم کے علاوہ زراعت کے باپ یا خدا کی حیثیت سے بھی مشہور ہے۔اس نے زراعت کو ایجاد کیا،زراعتی آلے بنائے اور لوگوں کو یہ سیکھایا کہ فصل کیسے بوئی اور کاٹی جاتی ہے۔بلکہ آسان لفظوں میں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ لوگوں کو شکار کے زمانے سے زراعت کے زمانے میں لایا تھا۔

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب, عظمت رفتہ کا سفر ۔ ۔ ۔ چوتھی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

زراعت کایہ خدا ادویات کابھی خد اسمجھا جاتا ہے ۔اس نے بلندوبالا پہاڑوں سے مختلف قسم کے نمونے اکٹھے کرنے کے علاوہ ،مختلف تجربات میں72 مرتبہ بیمار ہونے کے بعد اس نے یہ بھی دریافت کیا تھا کہ کون سے پودے کون سی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بعدمیں اس ادویات سازی کے حوالے اس اپنے اس وسیع علم کو لوگوں تک پہچانے کے لئے دواؤںpharmacological) ( پر ایک کتاب تصنیف کی جس میں 365قسم کے پودوں کے بارے میں معلومات موجود تھی۔زرد شہنشاہ نے چین کے تمام قبائل کو متحد کر کے ِ شن زنگ(xinzheng)کو دارالحکومت بنا دیا تھا۔(بعض سکالرز کا ماننا ہے کہ یہ کہیں اورتھا)

اس نے کیلنڈر کا حساب لگایا،مقناطیسی آلہ دریافت کیا،تعلیم میں تجدید کی اور کشتیاں اور تیر بنانے کے علاوہ موسیقی کے آلات بھی ایجاد کئے تھے۔

زرد شہنشاہ اور یان کا حاکم دونوں چینی نسل کے جدامجد سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چینی ان کو ’’یان ہوآنگ کے بیٹے اور پوتے کہتے ہیں

.(the sons and grandsons of yan huang)

یہ بھی مشہور ہے کہ زرد شہنشاہ کی ابتدائی شاہی حرم کا نام’ لو‘(Luo)جو ان چینیوں کی مورث کے طور پر بھی جانی جاتی تھی ،جنہوں نے ریشم ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ سوت کاٹنے اور سلائی کرنے شروع کیے تھے۔

چینی اولیٰ سے متعلق قصوں کی ابتدأپنگو(pangu)کی زمین اور جنت کے جدا ہونے اور مرداور Nuwa یعنی عورت کی اکٹھی تخلیق کے بارے میں فرضی داستان سے ہو تی ہے۔تخلیق کے حوالے سے مغربی لوگوں کا خیال بھی یہی ہے ’’اللہ نے بنی ونوع انسان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔‘‘چین میں پیدائش کے بعد 3 ’’Huangs‘‘اور 5’’Dis‘‘ مرحلہ آتا ہے۔یہ دونوں ا لفاظ’’Huang-di‘‘مل کر حاکم کے لئے جدید قسم کاچینی لفظ بناتے ہیں۔وہاں پر کہانیوں کی بہت سی اقسام ہیں۔لیکن اس سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ تین قسم کے حاکم یا ہوانگ تھے،جنت کا حاکم،زمین کا اور آدمی کا۔پانچ ’’Dis‘‘ زرد شہنشاہ جبکہ چار دوسرے تھے۔کچھ کا کہنا ہے کہ ’’huangs‘‘میں سے تیسرا شہنشاہ زرد شہنشاہ ہے جس کو’’ آدمی کے حاکم‘‘ کا نام دیا گیاہے۔

سم شیان(sima qian) کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق،زرد شہنشاہ کے 25 بیٹے تھے جن میں سے صرف 14کو اس کا خاندانی نام ملا تھا۔خاندان سلاطین کے مستقل حاکم،شی آ(xia)(2070-1600 BC)،شنگ(shang) (1600-1046 BC)اور زھؤ(zhou) (1046-256BC)سب کے سب خود کو زرد شہنشاہ کی آل سمجھتے تھے۔

ہسٹوریکل ریکارڈز اور دوسرے تاریخی ریکارڈ کے مطابق چین میں دستاویزی تاریخ 2070BC تک دیکھی جاسکتی ہے۔جبکہ غیر مہذب طور پر زرد شہنشاہ کی تاریخ اس سے بھی 1,000سال پیچھے تک جاتی ہے۔ اس کی موت کے بعد ہزاروں سالوں سے ناجانے کتنے حکمران گزرے چکے ہیں لیکن زرد شہنشاہ آج بھی جدامجد کی حیثیت سے زندہ ہے اور چینی لوگوں نے اسے کبھی فراموش نہیں کیا۔ہر حاکم کے لئے یہ ایک ضروری رسم بن گئی ہے کہ وہ زرد شہنشاہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے قربانیاں دے اور نذرانے پہش کرے۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

دنیا میں کہنے کو ہر ملک اپنے ماضی کی شاندار عظمتوں پر ناز کرتا ہے لیکن چین جیسی مثال پر کوئی کم ہی اترتا ہے جس نے اپنے ماضی کو موجودہ دور میں شاندار نظام سے جوڑ رکھااور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔چین نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماضی کو کیوں زندہ رکھا ،اس بات کی اہمیت کا اندازہ مشہور چینی موؤخ ڈنگ یانگ کی ہسٹری آف چائنہ پڑھنے سے ہوجاتا ہے۔

مزید : چین کی عظمت رفتہ کا سفر