سینٹ، آئندہ چیئرمین، رضا ربانی یامشاہد حسین؟

سینٹ، آئندہ چیئرمین، رضا ربانی یامشاہد حسین؟
سینٹ، آئندہ چیئرمین، رضا ربانی یامشاہد حسین؟

  

الیکشن تو الیکشن ہوتا ہے، چاہے وہ کسی ایسوسی ایشن ہی کا کیوں نہ ہو، یہ تو قومی انتخابات کا دور ہے اور آغاز سینٹ کی نصف نشستوں سے ہوگا جو ہرتین سال کے بعد خال ہوتی ہیں کہ ایک رکن سینٹ کا انتخاب چھ سال کے لئے ہوتا ہے، تاہم جب تین سال کے بعد چھ سال کی مدت پوری کرنے والے ریٹائر ہوتے ہیں تو نئے اراکین کو آنا پڑتا ہے،اب یہ ارکان اور ان کی جماعتوں پر منحصر ہے کہ وہ ریٹائر ہونے والوں میں سے کس کس کو دوبارہ موقع دیتی ہیں، جیسے اس بار اسحق ڈار، مشاہد حسین اور چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی(ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ہیں) ان کو اور بعض دوسرے حضرات کو دوبارہ موقع دیا گیا ہے، مشاہد حسین تو مسلم لیگ (ق) سے واپس مسلم لیگ (ن) میں گئے ہیں اور ان کو ٹکٹ دیا گیا ہے، وہ اسلام آباد کی ٹیکنوکریٹ نشست سے امیدوار ہیں اور ان کی کامیابی کے امکانات بھی ہیں کہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو عددی اکثریت حاصل ہے، میاں رضا ربانی سندھ ہی سے سینٹ کے لئے امیدوار ہیں، قارئین ان دو حضرات کا ذکر یوں کیا کہ سینٹ کی آئندہ صورت حال کے حوالے سے بہت کچھ کہا جارہا تھا اور قیاس کے گھوڑے اس حد تک دوڑائے گئے کہ قومی اسمبلی کی رکن اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو چیئرمین کا امیدوار بناکر یہ کہا گیا کہ آصف علی زرداری ہارس ٹریڈنگ اپنی اس بہن کے لئے کررہے ہیں لیکن یہ سب افواہیں ثابت ہوئیں اور جب ٹکٹ تقسیم ہوئے تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور میاں رضا ربانی کو پھر سے ٹکٹ دیا گیا ان کے بارے میں کہا گیا کہ میاں بہت صاف گو ہیں اور آصف زرداری کی بلیک لسٹ میں شامل ہوگئے ہیں، لیکن وہ موجود ہیں اور ٹکٹ بھی آصف علی زرداری ہی کی اجازت سے ملا ہے۔

سینٹ کی موجودہ سیاست میں اگر عددی لحاظ سے دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے زیادہ ارکان ریٹائر ہوئے اور اس کی نسبت مسلم لیگ (ن) کے کم ہوئے تھے، اب اگر اعدادوشمار یونہی دیکھے جائیں تو پنجاب سے تمام نشستیں مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آتی ہیں اور اگر کوئی اپ سیٹ ہو تو بھی ایک نشست کا ہوسکتا ہے یوں اپوزیشن کی طرف سے امیدوار نامزد کرنا مشق میں حصہ لینا ہے لیکن سینٹ کی رائے شماری ایک پیچیدہ عمل ہے، پنجاب کی کل نشستوں کو امیدواروں کی تعداد سے تقسیم کیا جائے گا اور یوں اتنے ارکان کا گروپ مل کر ایک امیدوار منتخب کرے گا، پھر اس میں ووٹ ’’ترجیح‘‘ کے حوالے سے دیا جاتا ہے جو پہلی، دوسری اور تیسری ہوتی ہے، اس طرح بعض اوقات پہلی ترجیح میں ناکام ہوتا ہوا امیدوار دوسری ترجیح کے ووٹوں کی بنیاد پر منتخب ہوجاتا ہے، جیسے کامل علی آغا جیت گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے چودھری اسلم گل ہارگئے تھے اور یہ دوسری ترجیح کی بنیاد پر ہوا تھا، اب پنجاب اسمبلی میں ایک رکن کے لئے 53۔ اراکین کا گروپ ہوگا اور یوں کنویسنگ بھی خاصا مشکل کام ہے۔

ایسی صورت حال سندھ کی ہے جہاں پیپلز پارٹی کو اکثریث حاصل ہے اور وہ وہاں سے سات امیدوار تو آسانی سے جتواسکتی ہے اور باقی نشستیں ایم، کیو، ایم کے لئے ہیں تاہم جو حالات سندھ خصوصاً کراچی کے بنے ہیں اس میں آصف علی زرداری ایک ماہر کھلاڑی کی طرح موجود ہیں اور انہوں نے تمام نشستوں پر امیدوار نامزد کردیئے ہیں ایم، کیو، ایم میں اختلاف ہوگیا، ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کی اکثریت عامر خان کی قیادت میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہے اور اس صورت میں ایم، کیو، ایم کو نقصان ہوسکتا ہے کہ دونوں طرف سے چار اور پانچ کی تعداد میں امیدوار نامزد کردیئے گئے ہیں، دونوں دھڑوں کے درمیان کشمکش کے ساتھ مصالحت کی کوشش جاری ہے، حالات کا اشارہ تو اس صورت کو ناممکن ظاہر کرتا ہے لیکن کچھ کہا نہیں جاسکتا ایم، کیو، ایم کے بارے میں کوئی حتمی بات مشکل ہوتی ہے جب تک یہ سب ان کی اپنی طرف سے نہ ہو، فاروق ستار ایک مرتبہ پہلے بھی پی،ایس، پی سے اتحاد کی بناء پر روٹھے، شرمندہ ہوئے پھر مان گئے تھے اور اب بھی جوڑ توڑ کا سلسلہ اور کشمکش جاری ہے اور مرکزی کردار کا مران ٹیسوری ہیں۔

رابطہ کمیٹی مخالف اور فاروق ستار حامی ہیں خود ٹیسوری بڑے ’’فراخدل‘‘ ہیں، کہتے ہیں فاروق ستار کہیں تو وہ ایک لمحہ میں دستبردار ہو جائیں گے۔ جبکہ فاروق ستار ڈٹے ہوئے ہیں جہاں تک ایم، کیو،ایم کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی تین حصوں میں بٹ چکی اور اب متحدہ (پاکستان) بھی شدید بحران کی زد میں آگئی ہے، ہم حتمی نتیجے کا انتظار کریں گے تاہم یہ عرض بے جا نہیں کہ جو آشیانہ سہاروں کی بنا پر بنایا گیا ہو، اس کا کوئی ایک سہارا بھی متاثر ہو تو ڈھانچہ ضرور زلزے کی زد میں آتا ہے، متحدہ کی تاریخ سب کے سامنے ہے، اسے زوال آنا تھا اور اب وہ اس کی زد میں ہے، بعض واقفان حال لکھ اور بول رہے ہیں۔

اب جو ہلچل نظر آرہی ہے وہ اس بنا پر ہے کہ بلوچستان میں نواب ثناء زہری کے خلاف عدم اعتماد آئی اور ان کو مستعفی ہونا پڑا پیپلز پارٹی کے قیوم سومرو کی رونمائی نے قیاس آرائیوں کو دعوت دی اور پھر آصف علی زرداری نے ذومعنی انداز میں تبدیلی کا کریڈٹ بھی لیا، اسی بناء پر یہ کہا جارہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوگی، پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کو بلوچستان کے علاوہ کے،پی، کے اور پنجاب سے بھی مثبت نتیجے کی توقع ہے اور سینٹ میں اکثریت برقرار رکھ لے گی جس کے بعد چیئرمین بھی اپنا ہوگا جواب واضح طور پر میاں رضا ربانی ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) اور اب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا ہے کہ ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ نہیں ہونے دیں گے اور اگر آصف علی زرداری اراکین کو توڑ نہ سکے تو ان کو سندھ پر اکتفا کرنا ہوگا اور یوں مسلم لیگ (ن) کو سینٹ میں اکثریت حاصل ہوجائے گی اگرچہ یہ دو تہائی نہیں سادہ ہوگی، اس کے باوجود آئینی ترامیم کے سوا قوانین منظور کرانا مشکل نہیں ہوگا اور آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت دوسری جماعتوں کوملا کرحاصل ہوسکے گی، ایسی صورت میں پیپلز پارٹی حزب اختلاف ہوگی۔ ہمارے اپنے تجزیئے کے مطابق مشاہد حسین اور میاں رضا ربانی دونوں پھر سے سینٹ میں ہوں گے اور اگر اتفاق رائے والا سلسلہ نہ ہوا تو ان دونوں کے درمیان زور دارمقابلہ ہوگا اور ایک چیئرمین دوسرا قائد حزب اختلاف بن جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -