محکمہ خوراک کا چوتھا نمبر

محکمہ خوراک کا چوتھا نمبر
محکمہ خوراک کا چوتھا نمبر

  



پاکستان میں گندم خریداری کا نظام برسوں پرانا ہو چکا ہے اور اس میں بدلتے ہوئے عالمی کاروباری ماحول اور گندم کی عالمی مارکیٹ کے تناظر میں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ اس پرانے نظام کے کھلاڑی بدل گئے ہیں،جس کی وجہ سے اس شعبے میں سنگین بدعنوانیاں شروع ہو چکی ہیں اور حالات کو ملی بھگت کے ساتھ ایک نیا رخ دیا جا چکا ہے، جس کے نقصانات کا اندازہ لگانے کی فرصت کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کو نہیں۔ محکمہ خوراک گندم کی خریداری اس لئے کرتا ہے کہ حکومت کے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق کسانوں سے گندم کی خریداری کو یقینی بنا سکے، کسان کو مارکیٹ کے گر جانے سے کوئی نقصان نہ ہو اور کسی بھی سیاسی حکومت کو اس کا نقصان نہ ہو۔ گندم کی خریداری کے لئے قومی بینکوں سے بھاری قرضے بھی لئے جاتے ہیں، جن پر کروڑوں روپے سود بھی ادا کیا جاتا ہے اور اگر کہیں سرکاری گندم تین سال گوداموں میں پڑی رہے تو یہی سود کے اخراجات 300فیصد بڑھ جاتے ہیں جس کا سنگین نتیجہ مالی نظام پر بوجھ کی شکل میں نکلتا ہے۔

یہ کیونکر ہوتا ہے اور حکومتیں اس سلسلے میں خاموش کیوں ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ تین چار برسوں میں گندم کا سرکاری خریداری نرخ 1300 روپے فی من رہا جس کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں اضافہ تو ہوا۔ مگر اس دوران عالمی مارکیٹ میں گندم کی پیداوار بڑھنے اور دوسرے حالات کی وجہ سے گندم کے نرخ پاکستانی گندم سے آدھے سے بھی کم رہ گئے۔

یہ غیر معمولی حالات تھے اور ہیں، جن میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پروایکٹو ہونا چاہیے تھا، مگر دیکھا یہ گیا کہ اس سلسلہ میں حکومتی پالیسیاں یرغمالی ہاتھوں میں چلی گئیں اور خریداری گندم ایک سیاسی مجبوری، جبکہ گندم سٹوریج اور اس کی نکاسی سے متعلقہ امور ’’یرغمالی پالیسی‘‘ کی شکل اختیار کر گئے۔ پہلے سرکاری گندم کی گوداموں سے فروخت ترجیحاً دوسرے نمبر پر ہوتی تھی اور حکومتی افسران کو علم ہوتا تھا کہ گندم فروخت کرکے ہم بینکوں کی رقوم واپس کرکے سود میں کمی بھی لا سکتے ہیں، مگر گزشتہ دو برسوں سے گندم کے فروخت کنندگان کے رویوں میں خطرناک تبدیلی ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے محکمہ خوراک کی افادیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ حکومت نے ہمیشہ فلور ملوں کو گندم اپنے لئے خریدنے اور سٹاک کرنے کے لئے کہا۔ اب نئی صورت حال میں ایک نئے کاروبار نے جنم لیا ہے جس میں پالیسی کے خدوخال ’’مِل جُل‘‘ کر طے کئے جاتے ہیں۔ محکمہ خوراک کی جانب سے گندم خریدنے کا عمل سب سے پہلے شروع ہوتا ہے، مگر فروخت کرنے کا نمبر آخر پر رکھ دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر اس کو ڈیل کی شکل دے دی گئی ہے جس کے مطابق اوپن مارکیٹ سے خریداری کے بعد پہلے نمبر پر تو وہ سٹاکسٹس اور فلور ملیں گندم فروخت کرتی ہیں، جنہوں نے گندم کی خریداری آٹا بنانے کے لئے نہیں، بلکہ ذخیرہ اندوزی کے لئے کی ہوتی ہے، یوں مافیا کی شکل میں ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے اور باقاعدہ بروکرز کے ذریعے یہ کام ہوتا ہے۔ سرکاری گندم اس دوران Resting Mode پر رکھی جاتی ہے اور بڑی تعداد میں سرکاری اہل کار اس سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ ملوں اور سٹاکسٹوں کی گندم کے بعد پاسکو کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے کا عمل شروع کرے۔

پھر محکمہ خوراک کو ڈیل کے ایک شریک کے ذریعے بیانات دلوا کر مصنوعی طور پر جگایا جاتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دسمبر گزر کر جنوری سے مل رہا ہوتا ہے۔ ڈیل کامیابی سے مکمل ہورہی ہوتی ہے اور صرف محکمہ خوراک پنجاب ڈھائی ماہ کے لئے گندم فروخت کرنے کی کوشش کرتا ہے، جہاں ناکامی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے اور ڈیل کے باقی شرکاء جشن منا رہے ہوتے ہیں، جبکہ محکمہ خوراک میں ڈیل سے لطف اندوز ہو چکنے کے بعد ’’افسران سروں‘‘ کو غیر حقیقی شکل میں ’’جوڑ‘‘ کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ 58لاکھ ٹن گندم کے سٹاک سے بھی کچھ نچوڑ لیا جائے۔ سرجوڑنے کا مقصد سٹاک کی پریشانی کا اظہار ہوتا ہے جس پر ڈیل کا ایک پارٹنر دوبارہ ایکسپورٹر کی شکل میں حاضر ہو کر کہتا ہے: ’’ہم ہیں ناں‘‘ اور اس طرح ایک جعلی ایکسپورٹ پالیسی تیز ترین آپریشن کے ذریعے جنم میں لائی جاتی ہے، جس کے فائدوں میں یہ بات اہم ہے کہ گندم اس مارکیٹ میں فروخت کرو اور کاغذات افغانستان کے پیش کرکے ری بیٹ کی شکل میں ملک کے کروڑوں ڈالر ضائع کرو۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پنجاب میں گڈگورننس ہے اور یہ سب کچھ خادم اعلیٰ، بلکہ خادمِ پاکستان کے ایک محکمے میں ہو رہا ہے، اس صورت حال کا نوٹس خود وزیراعلیٰ پنجاب کو لینا چاہیے، مگر 58 لاکھ ٹن گندم کی موجودگی کے ساتھ اگلی فصل کی خریداری کا میدان لگے گا تو کیا ہوگا اور آپ کسان کو کیسے مطمئن کر پائیں گے؟‘‘ حل صرف ایک ہے کہ اس ڈیل کے کرپٹ عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، جبکہ گندم کے سرکاری نرخوں کو عالمی نرخوں کے مطابق نیچے لایا جائے، ورنہ محکمہ خوراک کو ختم کرنے کا جواز اس نے خود ہی اپنی ’’اعلیٰ‘‘ کارکردگی سے فراہم کر دیاہے، جس پر وہ نوبل پرائز کے حق دار ہیں۔

1۔اوپن مارکیٹ

2۔سٹاکسٹس مافیا

3۔پاسکو و دیگر ادارے

4۔محترم محکمہ خوراک پنجاب

اور ہم سب سفید ہاتھیوں سے پیار کرنے والے ہیں۔

مزید : رائے /کالم