پانی چور بھارت اور پاکستان میں ترقی مخالف عناصر!

پانی چور بھارت اور پاکستان میں ترقی مخالف عناصر!
پانی چور بھارت اور پاکستان میں ترقی مخالف عناصر!

  



بھارت سرکارنے 4مارچ 2017ء کو پاکستان کی زرعی زمینیں بنجر کرنے کے لئے 2کھرب 28ارب روپے کی لاگت کے جس منصوبے پر دستخط کئے تھے، اس کے ایک اور مرحلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے بگلیہار ڈیم پر پاکستان کا پانی روک دیا گیا ہے۔ اس سے دریائے چناب 97فیصد خشک ہو گیا ہے اور وہاں اب ریت اڑ رہی ہے۔

بھارت کی یہ شرانگیزی سند ھ طاس معاہدے کی سراسر خلاف ورزی ہے، لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے اندرونی سیاست کا محاذ اس قدر گرم ہے کہ کسی ادارے یا رہنما کو اس طرف توجہ دینے کی فرصت نہیں ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت روزانہ دریائے چناب میں کم از کم 55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے ،لیکن ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح اس وقت صرف 3237کیوسک رہ گئی ہے، جبکہ اس ہیڈ سے نکلنے والی ایک نہر ’’مرالہ راوی لنک‘‘ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی طرف سے فوری اور شدید رد عمل کی متقاضی ہے۔ پانی کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹیں بھی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں، جو بتا رہی ہیں کہ مستقبل قریب میں تیل کی جگہ پانی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بننے جا رہا ہے۔مختلف عالمی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق آنے والے دنوں میں ہونے والی جنگیں مذہب ، تیل ، سونے یا نیوکلئیر ہتھیاروں کے عنوان پر نہیں ہوں گی ،بلکہ مستقبل میں جنگوں کی بنیاد، پانی کے ذخائر کا حصول ہوگا۔’’یو ایس ایڈ‘‘اپنی رپورٹ میں انکشاف کر چکی ہے کہ ’’2025ء تک دنیا کی اکثریتی آبادی کو تازہ پانی کے بحران کا سامنا ہوگا اور ہر شخص کے حصے کے پانی کی مقدار میں 60فیصد کمی آجائے گی‘‘۔

بین الاقوامی واٹر ریسرچ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 280بڑے دریا موجود ہیں جو 102ملکوں سے گزرتے ہیں۔ان ممالک میں پانی کی تقسیم اور استعمال کے حوالے سے آپس میں سخت تنازعات ، کشیدگی ، نفرتیں اور کدورتیں پائی جاتی ہیں ۔پاکستان اور بھارت بھی ان 102ممالک میں شامل ہیں جو دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے ضمن میں شدید ترین اختلافات کا شکار ہیں۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ اس لئے بھی قرار دیا تھا کہ پاکستانی دریاؤں کا پانی کشمیر سے آتا ہے۔

بد قسمتی سے ہم نے اپنی شہ رگ کی حفاظت کما حقہ نہیں کی، جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کا بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔خصوصاًصوبہ پنجاب کا جنوب مشرقی اور جنوب مغربی حصہ شدید خشک سالی اور اور پانی کی کمی کا شکار ہو چکاہے۔دریائے ستلج کے خشک ہونے سے جنوبی پنجاب کی 75لاکھ ایکڑ سونا اگلتی زمینیں بانجھ ہو چکی ہیں۔یہاں نہریں سوکھ چکی ہیں، کھیت ویران ہو رہے ہیں۔ پانی کی قلت اور فصلیں کم ہونے کی وجہ سے لائیو سٹاک اور فشریز کی صنعت بھی بہت متاثر ہور ہی ہیں ۔1950ء کی دھائی میں پاکستان کا ہر فردسالانہ 5200کیوبک فٹ پانی استعمال کرتا تھا، لیکن اب یہ مقدار گھٹ کر 1200کیوبک فٹ رہ گئی ہے۔بھارت پوری یکسوئی اور طاقت کے ساتھ پاکستان کے خلاف ’’واٹر بم ‘‘ استعمال کر رہا ہے جو مستقبل میں ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہی مچانے کا باعث بنے گا۔

بھارت نے اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں بگلیہار ڈیم بنایا ۔ بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے دوران پاکستان کی حکومتوں نے اس پر موثر ردّعمل ظاہر نہیں کیا، اس دوران پہلے جنرل (ر) پرویز مشرف اور بعد میں پیپلز پارٹی کی حکومت رہی، اب صورت حال یہ ہے کہ بگلیہار ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی خاموشی سے شہ پا کر بھارت سرکار،دریائے سندھ اور دریائے جہلم پر مزید 62ڈیم تعمیر کرنے کے ایک منصوبے پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے، جس کی مدد سے بھارت نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا آپ پاشی کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے ،بلکہ وہ ان ڈیموں سے مستقبل میں 10 سے 12ہزار میگا واٹ بجلی بھی حاصل کرے گا۔ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان کا تقابل پڑوسی ممالک بھارت اور چین سے کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔1950ء میں چین کے پاس 23آبی خائر تھے، لیکن آج چین کے اندر 19000چھوٹے بڑے ڈیم موجود ہیں جن میں 495ارب کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بھارت کے پاس اس وقت چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعداد 4ہزار سے متجاوز ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پاکستان سے 12گنا زائد ہے۔بھارت اور چین کے برعکس پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے لئے صرف تین بڑے ڈیم موجود ہیں، جن میں تربیلا ڈیم ، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج شامل ہیں ۔ ان تینوں ڈیموں میں گارا ، ریت اور مٹی بھر جانے سے ان کی سٹوریج کیپسٹی میں 35فیصد تک کمی آچکی ہے۔مزید افسوسناک خبر یہ ہے کہ پرانے ڈیموں کی صفائی نہ ہونے اور نئے ڈیموں کی عدم تعمیر کی وجہ سے ہر سال 30ملین ایکڑ فٹ میٹھا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے۔

اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ تربیلا اور منگلا ڈیم کی تعمیر کے بعد پاکستان کوئی بڑا ڈیم کیوں نہ بنا سکا تو کافی فکر انگیز حقائق سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ نمونے کے طور پر کالا باغ ڈیم منصوبہ سب سے زیادہ قابل ذکر ہے۔1979ء میں جنرل ضیاء الحق نے ’’کالا باغ ڈیم‘‘ منصوبے کا اعلان کیا تو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے پاکستان کے کچھ پشتون ، سندھی اور بلوچی قوم پرست لیڈروں کو اس منصوبے کو ختم کرنے کا ٹاسک دے دیا،جنہوں نے ’’را‘‘ کی فنڈنگ کے زیر اثر اینٹی کالا باغ ڈیم مہم سروع کر دی اور اس کو پنجاب کا منصوبہ قرار دینا شروع کر دیا ۔اس تمام تر پروپیگنڈہ مہم کے باوجود کسی نہ کسی شکل میں ڈیڑھ عشرے تک اس منصوبے پر کام چلتا رہا ،لیکن پھر ایک وقت آیا کہ ملک دشمن قوتیں کالا باغ ڈیم منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ پر کافی پیش رفت ہوچکنے کے باوجود، اس اہم ترین منصوبے پر کام رکوانے میں کامیاب ہوگئیں۔12اکتوبر 1999ء کو جب پرویز مشرف نے دو تہائی ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہونے والی میاں نواز شریف کی حکومت پر شب خون مارا توکالاباغ ڈیم کے حمائتی طبقے نے ان سے یہ امید وابستہ کرلی تھی کہ اب پرویز مشرف ’’ ڈنڈے‘‘ کے زور پر کم ازکم کالاباغ ڈیم ضرور تعمیر کروائے گا،لیکن پھر سب نے دیکھا کہ ڈکٹیٹر کو اپنے اقتدار کو طول اور تحفظ دینے کے سوا کسی کام میں زیادہ دلچسپی نہ رہی۔ پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ آمرانہ دور حکومت میں تمام تر اختیارات کے باوجود اس منصوبے کو نظر انداز کئے رکھا، جبکہ 2008ء میں بننے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے تو حد ہی کر دی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے’’یکجہتی‘‘ کے نام پر کالاباغ ڈیم منصوبے کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کااعلان کر دیا۔ایک طرف سیاستدانوں کی یہ بے وقوفیاں ہیں اوردوسری جانب آبی ماہرین مسلسل انتباہ کر رہے ہیں کہ ’’ ہمیں پانی بہت احتیاط سے استعمال کرنا چاہئے اور جو30ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے اس کی حفاظت کی بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کرنی چاہئے، جس کا اہم ذریعہ نئے ڈیموں کی تعمیر ہے اور سب سے اہم اور فائدہ مندمنصوبہ ’’کالا باغ ڈیم‘ ‘ ہے‘‘۔

اگر صرف کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم بنا دئیے جائیں تو نہ صرف ان ڈیموں میں80لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا ،بلکہ 8 ہزارمیگا واٹ پن بجلی بھی پیدا کی جا سکے گی جو بجلی پیدا کرنے کے دیگر ذرائع (ایل این جی ، تیل، کوئلہ، شمسی توانائی اور ونڈ انرجی)کے مقابلے میں سب سے سستی بھی پڑتی ہے۔ ان ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف بجلی کا بحران طویل عرصے کے لئے ختم ہو سکتا ہے، بلکہ بجلی کی قیمت بھی دو سے تین روپے فی یونٹ کی سطح تک لائی جا سکتی ہے۔سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم نہ بننے سے پاکستان کو سالانہ 196ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے ،لیکن افسوس کہ اس خطیر رقم کے نقصان اور بڑھتے ہوئے پانی کے بحران پر کسی سیاستدان کو کوئی پریشانی نہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت بجا طور پر قابل تعریف ہے کہ اس نے قومی بجٹ برائے سال2017-18 ء میں توانائی کے منصوبوں کے لئے 404ارب روپے کی خطیر رقم رکھ کر توانائی کے بحران کی سنگینی کانہ صرف احساس کیا،بلکہ اس کا سد باب کرنے کی بھی قابل قدر کوشش کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

اس ضمن میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ بیان بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ’’ ترقی کا عمل سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ میری اور ہر با شعور پاکستانی کی مکمل تائید و حمایت وزیر اعظم کے اس بیان کے ساتھ ہے۔ کاش اپوزیشن جماعتیں بھی اس بیان کی اہمیت کو سمجھ سکیں ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا میں 300سمال ڈیم بنائیں گے ،لیکن وہ اپنے اس وعدے پر عمل کرنے کی بجائے ساڑھے چار سال تک اس کوشش میں رہے کہ وفاقی حکومت بھی یکسو ہوکر کوئی کام نہ کر پائے۔ عمران خان کی اسی تخریبی سیاست کا نتیجہ ہے کہ وہ ’’کے پی کے‘‘ میں اپنے دعوے کے مطابق تین سو تو کجا تین سمال ڈیم بھی نہیں بنا سکے ۔ ایسے ہی کچھ کردار ہیں جو ترقی کے عمل کو بھی سیاست کی نذر کرتے چلے آرہے ہیں ۔ میرے خیال میں جو لوگ ملک و قوم کی ترقی کے کسی منصوبے کے خلاف آواز بلند کرتے اور ترقی کے کسی بھی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سیاست کرتے ہیں، ان کے خلاف حساس اداروں کو تحقیقات ضرور کرنا چاہئیں کہ کہیں ان کے ڈانڈے کسی دشمن ملک ایجنسی سے تو نہیں مل رہے؟کیونکہ کوئی محب وطن انسان کسی بھی حال میں اپنے ملک و قوم کے استحکام ، ترقی ، فلاح اور مضبوطی کے خلاف سیاست اور بیان بازی کر ہی نہیں سکتا۔مزید برآں حکومت پاکستان کوپانی چوری اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت کے سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے اور اس کے ساتھ عالمی فورمز پر بھی بھارت کی اس آبی دہشت گردی کے خلاف مؤثر طور پر آواز بلند کرنی چاہئے۔

مزید : رائے /کالم