لاہور کا عالمی کتاب میلہ2018ء

لاہور کا عالمی کتاب میلہ2018ء
لاہور کا عالمی کتاب میلہ2018ء

  

گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس سال بھی کتاب سے محبت کرنے والے انسانوں کی طرح مجھے بھی فروری کے آغاز میں ایکسپو سنٹر لاہور میں لگنے والے کتاب میلے کا شدت سے انتظا ر رہا۔

کتاب میلہ یکم فروری سے 5فروری تک اپنے بھر پور جوبن پر رہا اور کتاب دوستوں کو تسکین فراہم کرتا رہا، بلکہ اس سال تو اس کتاب میلے میں بچوں کو بھی کتاب کی جانب راغب کرنے کے لئے کئی طرح کے انعامات دیئے گئے۔لٹریری فیسٹول، لاہور کتاب میلہ اور پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے میں ہر سال جس طرح کتاب سے پیارکرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑ کیاں، مرد، عورتیں حتی ٰکہ بچے اور بوڑھے افراد شر کت کر تے ہیں،ان کو دیکھ کر ایسے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے یہ دعوے غلط ثابت ہونے لگتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی( انٹرنیٹ، فیس بک ، ٹویٹر وغیرہ) نے لوگوں کو کتاب سے دور کر دیا ہے۔ایسی رائے رکھنے والے افراد کو چا ہیے کہ وہ ہر سال لا ہور میں ہونے والے لٹریری فیسٹول، لاہور کتاب میلے اور پنجاب یونیورسٹی میں لگنے والے کتاب میلے میں ٖضرور شر کت کیا کریں تاکہ ا ن کومعلو م ہو کہ یہ تا ثر سراسر غلط ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے کتاب کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں اگرچہ 2017ء میں کتاب میلہ نہیں ہوا مگر مئی 2016ء میں پنجاب یونیورسٹی میں تین دن تک لگنے والے کتاب میلے میں 184,882کتابیں فروخت ہوئی تھیں۔ کتب بینی میں عدم دلچسپی کا دعویٰ اس لئے بھی غلط ہے، کیو نکہ جو ممالک پا کستا ن کے مقابلے میں ٹیکنا لوجی کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔

ان ممالک میں کتب بینی پا کستان سے بھی زیا دہ ہے۔جیسے امریکہ اس وقت ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بہت آگے ہے اس کے با وجود امریکہ میں ہر سال 600,000 سے 1,000,000 کتابیں نئے ایڈیشنز کے ساتھ شائع ہوتی ہیں۔ چین جیسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ملک میں دنیا کی 28فیصدکتابیں شائع ہو تی ہیں۔ اسی طر یقہء کار کے تحت بر طا نیہ جیسے ملک میں جس کی آبا دی سات کروڑ کے لگ بھگ یعنی پا کستان کے مقابلے میں کم ہے اس میں 2016ء میں 184,000 نئی کتابیں (نئے ایڈیشن کے ساتھ) شائع ہوئیں۔ کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے ہمارے پاس ابھی 2017ء کے مصدقہ اعداد و شمار تو نہیں پہنچے، مگر 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں انگر یزی اور ہندی کی 90,000نئی کتابیں شا ئع ہوئیں،جبکہ پا کستان میں 2016ء میں 4000 کے لگ بھگ اردو اور انگریزی کتا بیں شائع ہوئیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جدید ٹیکنا لوجی کتب بینی کو خاص متا ثر نہیں کر رہی۔بلکہ جدید ٹیکنالوجی نے ایک طرح سے کتاب کی فراہمی کو مزید آسان کر دیا ہے۔آج پاکستان میں بیٹھ کر انٹر نیٹ کے ذریعے ایسی ایسی کتابوں کو حاصل یا پڑھا جا سکتا ہے جو پاکستان کے بازاروں میں دستیاب ہی نہیں۔ کیا یہ ٹیکنالوجی کی دین ہی نہیں کہ ’’کنڈل‘‘ کے باعث ایک چھوٹی سی مشین میں ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں۔ٹیکنالوجی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے استعمال کن مقاصد کے لئے جا رہاہے؟ اگر کو ئی فرد اپنی علم کی پیاس بجھانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہا ہے تو یقیناٰ یہ ٹیکنالوجی اس کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

جیسا کہ آغاز میں ہی ذکر کیا جا چکا ہے کہ پاکستان میں کتاب میلے کتب بینی کو فروغ دینے میں بڑا اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے با وجود کئی اقدامات اٹھا کر ان کتاب میلوں کے ذریعے کتب بینی کو زیادہ فروغ دیا جا سکتا ہے۔جیسے ان کتاب میلوں میں ہر اشاعتی ادارہ کتابوں پر رعایت دیتا ہے۔ یہ رعا یت10فیصد سے لے کر بعض کتابوں پر50فیصد تک ہوتی ہے، خاص طور پر عامیانہ مواد جیسے جاسوسی نا ول، رومانوی ادب، بازاری عشق کی داستانوں وغیرہ پر مبنی کتابیں تو ہوتی ہی کم قیمت ہیں اور ان کتا بوں میں رعا یت بھی زیا دہ دی جا تی ہے، جہاں تک معیا ری مواد کا تعلق ہے تو کئی فیصد رعا یت ملنے کے با وجود اچھی اور معیا ری کتاب ایک عام آدمی کی جیب پر بھاری پڑتی ہے ۔

خاص طور پر انگریزی کتابیں بہت زیا دہ مہنگی ہیں۔ معیاری انگریزی کتا بوں پر 15یا 25فیصد تک رعایت ہونے کے با وجود یہ کتاب ہزار، دو ہزار روپے سے اوپر کی پڑتی ہے۔اس کالم میں کسی اشاعتی ادارے کا نام لکھنا منا سب نہیں، مگر لاہور میں کئی اشاعتی ادارے ایسے ہیں جو کتابوں پر بہت زیادہ منافع لیتے ہیں، اس لئے ان اشاعتی اداروں کی کتا بیں بہت زیا دہ مہنگی ہیں،جب ایسے اشاعتی اداروں سے اس با رے میں شکایت کی جائے تو وہ ادیبوں کی رائلٹی اور کتابوں کی معیاری جلد اور صفحات کا عذر پیش کرتے ہیں، مگر دوسری طرف ادیبوں کا بھی یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کے لئے ایسے اشاعتی اداروں سے اپنا طے شدہ معاوضہ نکالنا باقاعدہ ایک مسئلہ ہوتا ہے۔یہی حال ترجمہ کی جانے والی کتابوں کا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں لاہور میں کئی اشاعتی ادارے ایسے ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے ادب، تاریخ، سیاسی و معاشی نظریات، فلسفے، مذاہب کی تاریخ، عمرانیات، سوانح عمری اور کلا سیکل ادب سمیت کئی شہرہ آفاق کتا بوں کو اردو زبان میں منتقل کیا ہے۔

ترجمہ کی گئی ان کتا بوں پر بہت زیا دہ شرح منا فع رکھی جا تی ہے اور اس کے لئے دوسری کئی وجوہات کے ساتھ اس بات کا عذ ر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ کتا بوں کا ترجمہ ہی بہت مہنگا کا م ہے، مگر دوسری طرف میں خود بہت سے ایسے افراد کو جا نتا ہوں جو بڑے بڑے اشاعتی اداروں کے لئے انتہائی معیا ری کتا بوں کے ترجمے کرتے ہیں اور ان کے ترجموں کو علمی حلقوں میں سراہا بھی جاتا ہے، مگر اس کے با وجود ترجمہ کرنے والے بہت سے افراد کو اپنے معا وضے کے لئے کافی عرصے تک ان بڑے اشاعتی اداروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں بعض صورتوں میں تو طے شدہ معا وضے سے بھی کم رقم دی جا تی ہے۔

یہ تو رہا معاملہ مقامی اشاعتی اداروں کا جہاں تک درآمد شدہ انگر یزی کتا بوں کامعا ملہ ہے تو ان کتا بوں کی قیمت اتنی زیا دہ ہو تی ہے کہ ایک متوسط طبقے کا فرد بھی ان کو لینے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتا ہے کہ کہیں اتنی مہنگی کتاب لینے سے اس کے پورے ماہ کا بجٹ متا ثر تو نہیں ہوجا ئے گا۔ انگریزی کتابیں مہنگی ہونے کے باعث کئی ادارے ٖ غیر قانونی طور پر ان کتابوں کو انتہائی گھٹیا جلد اور صفحات کے ساتھ چھاپ کر بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں بھارت کی مثال دینا بہت ضروری ہے ، جہاں پر اس مسئلے کا حل نکالا گیا ہے۔بھارت میں چونکہ انگریزی کتابوں کی کافی طلب ہے وہاں پر کئی مغربی اشاعتی اداروں کو اپنی شاخیں قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔یوں عالمی معیار کی کئی کتا بیں بھارت میں ہی چھپنا شروع ہوگئی ہیں، جس کے با عث بھارت میں انگریزی معیاری کتابیں بھی پا کستان کے مقابلے میں کافی سستی ہیں۔میں نے خود کتاب میلوں میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سے افراد کسی معیاری کتاب کی اہمیت جاننے کے باوجود اس کتاب کو صرف اس لئے نہیں خرید پاتے، کیونکہ یہ ان کی جیب پر بہت زیا دہ بھاری پڑ رہی ہوتی ہے۔ یعنی معا شی عامل کتب بینی پر بھی اثر انداز ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ملکوں میں کتاب سستی ہے وہاں کتب بینی کا رجحان بھی زیا دہ ہے اور جن ملکوں میں آمدنیاں کم ہیں، افراط زر اور مہنگائی ہے وہاں پر کتاب مہنگی ہو تو کم پڑ ھی جا تی ہے۔اس لئے ایسا میکنزم یا طریقہ کار بنا نا ضروری ہے جس سے عام آدمی بھی معیاری کتابوں سے لطف اندوز ہوسکے۔

مزید :

رائے -کالم -