شاہ کے وفادار

شاہ کے وفادار
 شاہ کے وفادار

  

چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تو احتساب کے پس منظر میں شاہ سے زیادہ شاہ کی دفاداری کرنے والے سرکاری افسران کو تنبیہ کی ہے لیکن ہم نے تو تاریخ میں یہی پڑھا ہے کہ بادشاہوں کو سب سے زیادہ نقصان شاہ کے ایسے وفاداروں نے ہی پہنچایا ہے۔ نیب اب خاصا متحرک ہے، ظاہر ہے پنجاب پر اس کی نظر کچھ زیادہ ہے، یہاں شاہ کے دفاداروں کی تعداد بھی بہت ہے، اس لئے وہ زیادہ وفاداری دکھانے کے چکر میں نیب سے تعاون نہیں کررہے، یہی بات جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ہے اور انہیں سخت لفظوں میں پیغام دیا ہے کہ اس روش سے باز آجائیں وگرنہ نیب انہیں مزا چکھائے گا۔ ماضی میں کسی چیئرمین نیب کو یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ نیب کی دھاک ہی اتنی تھی کہ اس کا نام آتے ہی بڑے بڑوں کی حالت غیر ہوجاتی تھی، اب نیب کا یہ حال ہوگیا ہے کہ اس کے سربراہ کو علی الاعلان یہ کہنا پڑا ہے کہ پنجاب میں بیورو کریسی نیب کی مدد نہیں کررہی۔ الٹا روڑے اٹکاتی ہے، اس سے پہلے یہ خبریں بھی آچکی ہیں کہ خود نیب کے اندر ایسے افسران موجود ہیں جو چیئرمین نیب کی پالیسیوں سے متفق نہیں اور تفتیش کے معاملے میں ڈنڈی مارتے ہیں، اب اس صورتحال میں تو چیئرمین نیب کے لئے بہت سی مشکلات منہ کھولے کھڑی ہیں، وہ لاکھ کہیں کہ اب کوئی رعائیت نہیں کریں گے مگر جہاں آوے کا آوا بگڑا ہو، وہاں معجزے دکھانا آسان نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اداروں کی ساکھ جب خراب ہوجائے تو ان کی دھاک بھی ختم ہوجاتی ہے، نیب کو جب سپریم کورٹ نے مردہ کہہ دیا تھا تو سب کو حیرت ہوئی تھی کہ ایک بڑے آئینی ادارے کو ایسا کیوں کہا گیا لیکن اب چیئرمین نیب کی باتیں ثابت کررہی ہیں کہ نیب اپنی گرفت کمزور کرچکا ہے اور سرکاری افسران جو آئینی طور پر نیب کی مدد کرنے کے پابند ہیں اسے ٹھینگا دکھا رہے ہیں۔

چیئرمین نیب کو آج علم ہوا ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار مسائل پیدا کررہے ہیں خالانکہ یہ تو بہت پرانا قصہ ہے جب سے دنیا میں بادشاہ پیدا ہوئے ہیں، تب سے ان کے وفاداروں نے بھی جنم لیا ہے، یہ وفادار در حقیقت صرف اپنے مفادات کے ساتھ وفادار ہوتے ہیں، شاہ کی تو صرف جھوٹی واہ واہ کرتے ہیں۔ بادشاہوں کو ہمیشہ ان کے مشیروں نے بچایا ہے، یا مروایا ہے، اکثر تو مروا دیتے ہیں کیونکہ انہیں سوائے بادشاہ کو خوش کرنے کے اور کوئی ہوش نہیں ہوتی، بڑے شاہوں کی بات تو چھوڑیں یہ شہروں اور دیہاتوں میں پائے جانے والے سرکاری و غیر سرکاری شاہ بھی اپنے وفاداروں کے یرغمالی ہوتے ہیں۔ کسی ضلع کا ڈی سی یا ڈی پی او تک اپنے وفاداروں کے اشاروں پر چلتے ہیں یہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو ہر نئے آنے والے افسر کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں۔ پھر اسے خوش رکھنے کے لئے اس کے حصے کے پتھر بھی کھاتے ہیں لیکن صرف اس وقت تک کہ بادشاہ تخت پر بیٹھا رہے، میں نے اپنی چشم گنہگار سے دیکھا ہے کہ ادھر ڈی آئی جی رینک کا افسر تبدیل ہوا ادھر اس سے اس دربان نے بھی آنکھیں پھیر لیں جو اس کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کے دروازہ کھولتا تھا، اقتدار میں جان لڑا دینے کی قسمیں کھانے والے اقتدار کے جاتے ہی سب سے پہلے آنکھیں پھیرتے ہیں، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کون ہوتے ہیں، وہ لوگ کہ جو جھوٹی خوشامد اور جھوٹی واہ واہ سے بادشاہ کو شیشے میں اتارتے ہیں، اسے اچھے اور برے کی تمیز سے محروم کرتے ہیں اور اپنا الو سیدھا کئے جاتے ہیں، ان لوگوں میں کبھی سچ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ انہیں بادشاہ کا وقار عزیز نہیں ہوتا، اپنا مفاد زیادہ پیارا ہوتا ہے۔

ہماری سیاست تو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں سے بھری پڑی ہے، کیسے کیسے کردار ہماری سیاست نے پیدا کئے ہیں، پاکستان میں جن لوگوں کو ’’لوٹا‘‘ کہا جاتا ہے ان سے زیادہ کامیاب کوئی شخص نہیں ہوتا، مجال ہے کہ کوئی شاہ ان کی وفاداری پر اپنے وقت میں شک کرے۔ آپ پاکستانی سیاست کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو قدم قدم پر ایسے کردار ملیں گے جو ایک شاہ کی مصاحبت سے نکل کر دوسرے کی صحبت میں عین دھی مقام و مرتبہ لے کر بیٹھے نظر آئیں گے، لوگ حیران ہوتے ہیں ان کے پاس وہ کونسی گیدڑ سنگھی ہے جس کی بدولت یہ ہر ایک کی مونچھ کا بال بن جاتے ہیں، آج نواز شریف پر سب سے زیادہ تنقید اس لئے بھی ہوتی ہے کہ ان کی صحبت میں ایسے لوگوں کی فراوانی ہے جو پرویز مشرف کے وفادار رہے جنہوں نے وزارتوں کے مزے بھی لوٹے اور پرویز مشرف کی حمایت میں آگے آگے رہے، اس زمانے میں وہ پرویز مشرف کے وفادار تھے، تو نیا سیٹ اپ آتے ہی وہ نواز شریف کے وفادار بن گئے حال ہی میں مشاہد حسین سید بھی نواز شریف کی وفاداری کا عزم لے کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے ہیں، دعویٰ تو وہ یہی کررہے ہیں کہ نواز شریف کی جمہوریت کے لئے جدوجہد کو دیکھ کر شامل ہوئے ہیں مگر ان کی ٹائمنگ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوہا گرم دیکھ کے ضرب لگاتے ہیں، پرویز مشرف کو دنیائے اسلام کا مردِ آہن بھی انہی نے کہا تھا اور اب نواز شریف کو جمہوریت کا مردِ قلندر بھی وہی کہہ رہے ہیں، نواز شریف کو جب معزولی کے بعد ملک چھوڑ کر جانا پڑا تھا تو شاہ کے سبھی مصاحب کونوں کھدروں میں چھپ گئے تھے، یا جان بچانے کے لئے وردی والے شاہ کے چرنوں میں آ بیٹھے تھے، آج بھی نواز شریف کے ساتھ شاہ کے وفاداروں کی گیم جاری ہے، نواز شریف کو اچھا مشورہ دینے کی بجائے ’’میاں صاحب ڈٹے رہیں‘‘ کا مشورہ دینے والے یہ لوگ کتنے ثابت قدم ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ طلال چودھری اور دانیال عزیز کو سپریم کورٹ کے نوٹس ملے ہیں تو وہ منظر سے غائب ہوگئے ہیں، یہ کام وہ پہلے کرلیتے اور شاہد خاقان عباسی کی طرح یہ بیانیہ اختیار کرتے کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی بات نہیں ہوسکتی، تو شاید میاں صاحب بھی اس راستے سے پلٹ آتے جو سوائے جگ ہنسائی کے انہیں اور کچھ نہیں دے سکتا۔

سیاست میں تو یہ چیزیں چل جاتی ہیں مگر سرکاری ملازمت میں ریاست کے مفادات سے ہٹ کر کسی حکمران کے ذاتی مفادات کو پورا کرنا ایک بہت بڑی بد دیانتی ہے، قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان کے بعد سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے نہیں ریاست کے ملازم ہیں، انہیں ریاست اور عوام کے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کرنے ہیں۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ پچھلی دو تین دہائیوں میں قائداعظمؒ کے فرمان کی بہت نفی کی گئی ہے۔ کسی ایک صوبے کی بات نہیں بلکہ پورے ملک میں سرکاری افسران نے عہدے لینے کی دوڑ میں ایسے کام کئے ہیں جو ریاست کے صریحاً خلاف ہیں، آج اس بات کا بڑا شہرہ ہے کہ اربوں روپے لوٹ لئے گئے ہیں، کیا یہ صرف حکمرانوں نے لوٹے ہیں، کیا ایک پیسہ بھی حکمران کسی خزانے سے براہ راست نکلوا سکتا ہے، کیا محکمے کے سیکرٹری اور خزانے کے سیکرٹری کی مرضی نہ ہو تو کرپشن ہوسکتی ہے، اس کا جواب مکمل طور پر نفی میں ہے، ریاست نے جو آئینی طور پر قانون قاعدے بنا رکھے ہیں، اس میں ادارے کام کرتے ہیں، بیورو کریٹس کی آشیر باد اور تعاون کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اب رہا یہ سوال کہ بیورو کریٹس از خود شاہ کے وفادار بنتے ہیں یا حکمران چن چن کر ایسے لوگ تلاش کرتے ہیں جو ان سے وفاداری نبھائیں، مگر یہ سوال اس لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ حکمرانوں کی چشم و ابرو کے اشارے پر چلنے والے بھی ہوتے تو بیورو کریٹس ہی ہیں ان پر بھی تو یہ پابندی عائد ہوتی ہے کہ وہ شاہ کی بجائے ریاست کے قوانین پر چلیں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو گویا وہ اپنے منصب سے رو گردانی کرتے ہیں وہ حکمرانوں سے زیادہ بڑے مجرم ہیں کہ ان کی کرپشن کے سہولت کار بن جاتے ہیں، انہیں لوٹ مار سے روکنے کی بجائے اپنا کندھا پیش کرتے ہیں۔

چیئرمین نیب نے شاہ کے وفاداروں کا ذکر کرکے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے، سپریم کورٹ بھی روزانہ یہی ریمارکس دیتی ہے کہ ہر محکمہ بگڑ گیا ہے۔ کوئی اپنا کام نہیں کررہا، اس پر ہم سب لٹھ لے کر سیاستدانوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ وہ کام نہیں کررہے، ارکان اسمبلی کو برا بھلا کہتے ہیں کہ وہ اپنے حلقے میں کام نہیں کررہے لیکن اگر زمین پر اتر کر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو صاف لگے گا کہ اصل حکومت تو بیورو کریسی کی ہے، ضلع کا ڈی سی آج بھی تمام اختیارات کا چوک گھنٹہ گھر بنا ہوا ہے، وہ چاہے تو کام ہو گا نہ چاہے تو کسی کا باپ بھی اسے مجبور نہیں کرسکتا، اصل احتساب تو ان کا ہونا چاہئے مگر ان کا تو سارے کھیل میں کوئی نام تک نہیں لیتا، اب چیئرمین نیب نے انہیں شاہ کا وفادار قرار دے کر ان کی مزید ٹور بنا دی ہے کیونکہ یہ وہ شہ کے مصاحب نہیں جن کے بارے میں غالب نے کہا تھا۔

بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

ان کی تو شہ کی نظر میں آبرو بھی بہت ہے اور عوام پر ٹہکا بھی جما ہوا ہے، دیکھتے ہیں چیئرمین نیب نے انہیں سیدھا کرنے کی جو مشق شروع کی ہے وہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہے یا یہ مزید بگاڑ پیدا کردیتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -