اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی ذمے داری پوری کرے

اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی ذمے داری پوری کرے

  

حریت رہنما افضل گرو کی پانچویں برسی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی، جنہیں پانچ سال قبل تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا، ہڑتال کی کال کو ناکام بنانے کے لئے تمام حریت رہنماؤں کو اُن کے گھروں میں نظربند کر دیا گیا تھا، سری نگر اور ملحقہ علاقوں میں سخت پابندیاں لگا دی گئی تھیں۔ اِس کے باوجود کشمیری عوام نے بھرپور احتجاج کیا، احتجاجی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے افضل گرو کی پھانسی کو عدالتی قتل اور بھارت کے نظام عدل کے چہرے پر زنّاٹے دار تھپڑ قرار دیا۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے ایک پرامن شخص کو پھانسی دے دی گئی۔ احتجاجی جلسوں میں مقررین نے عہد کیا کہ کشمیر کی آزادی تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔

افضل گرو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے، وہ چاہتے تو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے لاتعلق رہ سکتے تھے، اُنہیں اچھی ملازمت بھی مل سکتی تھی لیکن اُنہوں نے اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ زندگی گزارنا پسند کیا اور عظیم مقاصد کے لئے راحت اور آرام طلبی کی زِندگی ٹھکرا کر ابتلاء اور آزمائش کا راستہ اختیار کیا۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے ہیرو کی یاد میں ہر سال بڑے بڑے احتجاجی اجتماعات مُنعقد کرتے ہیں، جس میں مرحوم رہنما کی یادیں تازہ کی جاتی ہیں، اقوام مُتحدہ کو کشمیر کے سلسلے میں اس کی ذمے داریاں یاد دلائی جاتی ہیں، جُمعہ کے روز بھی افضل گورو کی برسی کے موقع پر سری نگر میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا، بعد میں ایک ریلی نکالی گئی، جس میں آزادی کشمیر کے حق میں زبردست نعرے بازی کی گئی۔

اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کو اس کی ذمے داریاں یاد دلائیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا نوٹس لیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان اس دیرینہ اور سنگین تنازعے پر مذاکرات کا بندوبست کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات محض مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل تناؤ اور کشیدگی کا شکار ہیں، انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے کوششوں کا آغازکرنے کی ضرورت ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے نہتے اور بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوجیوں کے بہیمانہ اور انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے اقوام متحدہ کو اُس کے فرائض کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانے اور انتہائی حساس مسئلے کے طور پر موجود ہے۔ 70 سال قبل بھارتی وزیر اعظم پنڈت جو اہر لال نہرو خود یہ مسئلہ لے کر سلامتی کونسل میں گئے تھے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں جنگ بندی کروائی تھی۔ بدقسمتی سے بعد میں مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں تک نظر انداز کئے رکھا گیا۔ جس کے دوران میں بھارت نے مذاکرات کو ٹالتے ہوئے ’’مَیں نہ مانوں‘‘ اور ’’کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ کی رٹ لگا کر کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا ہوا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مظلوم اور نہتے کشمیریوں نے آزادی کا مطالبہ منوانے کے لئے پُر امن تحریک شروع کی تو بھارت نے وہاں فوجیوں کی تعداد بڑھا کر بدترین اور بہیمانہ مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس وقت جموں و کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ فوجی تعینات ہیں، ماضی کی طرح اب ایک بار پھر پوری وادی میں تحریک آزادی بھرپور انداز میں جاری ہے۔ حالیہ تحریک میں بھارتی فوجیوں نے دیگر مہلک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ پیلٹ گنوں کا بے دریغٖ استعمال کیا جبکہ کشمیریوں کے گھروں اور دکانوں کو بارود سے اُڑانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ طویل کرفیو کے باوجود تحریک پورے عروج پر ہے۔ کشمیریوں کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آسکی۔ اس منظر سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارتی فوجی لائن آف کنٹرول پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان نے تجویز پیش کی ہے کہ چند با اثر ملکوں یا عالمی سطح پر معروف شخصیات پر مشتمل ثالثی کونسل بنائی جائے، جو بھارت کو مسئلہ کشمیر پر بامقصد مذاکرات کے لئے تیار کرے کیونکہ اقوام متحدہ کے سابق اور موجودہ سیکرٹری جنرل دو دو مرتبہ ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں مگر بھارت ہر پیش کش کو مسترد کرتا رہا ہے۔ بھارت کی اس ہٹ دھرمی سے دونوں ملکوں کے درمیان ہر وقت امن کو خطرہ رہتا ہے۔ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں،کسی بھی وقت اس خطے کے لئے کوئی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہ ملنے سے اس عالمی ادارے کی ساکھ بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اسی لئے آزاد کشمیر کے صدر نے اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل کو یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے عملی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے دعوے داروں اور انصاف کے علم برداروں کے لئے بھی مسئلہ کشمیر ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -