پنجاب اسمبلی میں گنے کے کاشتکاروں کے حق میں آواز!

پنجاب اسمبلی میں گنے کے کاشتکاروں کے حق میں آواز!

  

حکومت کی طرف سے نہ صرف گندم برآمد کرنے کی اجازت دی گئی، بلکہ شوگر مل مالکان نے بھی چینی برآمد کرکے زرمبادلہ کمایا اور ملک کے اندر نرخ بڑھاکر بھی منافع خوری کی، جبکہ گنے کے کاشتکار سراپا احتجاج ہیں کہ ان سے گنا اول تو خریدا نہیں جارہا اور خریدا جائے تو 80 1 روپے من کی مقررہ قیمت کی جگہ ایک سوپچاس روپے کی پرچی دی جارہی ہے، اس سلسلے میں جمعرات کو ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حاضر اراکین نے زبردست احتجاج کیا، اس حوالے سے حزب اقتدار یا حزب اختلاف کی بھی کوئی تخصیص نہیں تھی، دونوں بنچوں پر بیٹھے حضرات اس احتجاج میں شریک تھے اور حکومت سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ کسانوں/کاشتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ گنے کے کاشتکاروں اور شوگر ملز مالکان کے درمیان یہ تنازعہ نیا نہیں، ہر سال سیزن کے موقع پر مل والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسانوں کو قیمت کم دی جائے، اس کے لئے کئی حربے اختیار کئے جاتے ہیں، کسان گنا لے کر آتے تو اسے تلوا کر رسید نہیں دی جاتی، اس کی وجہ سے ٹرالیوں پر کھڑا گنا سوکھ کر وزن میں کم ہو جاتا، اس سال بھی ایسا ہی کیا گیا، حتیٰ کہ کرشنگ بھی بروقت شروع نہیں کی گئی، کیونکہ ملز مالکان کاشتکاروں کو سرکاری طور پر مقررہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ کسان/ کاشتکار احتجاج پر مجبور ہوگئے اورفیصل چوک (لاہور) میں دھرنا بھی دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تو سخت نوٹس لینے کا اعلان کیا، بلکہ مل مالکان کو گرفتار کرنے تک کی دھمکی بھی دے ڈالی، اس کے باوجود مل مالکان اپنے رویے سے باز نہ آئے اور کاشتکار بدستور پریشان ہیں۔ اراکین صوبائی اسمبلی کی اکثریت کا تعلق بھی دیہات سے ہے اور ان میں یقیناً ایسے حضرات بھی ہیں جو گنا کاشت کرتے ہیں، وہ بجا طور پر مسائل سے آگاہ ہیں اور اسی لئے ان کی طرف سے بلا تفریق احتجاج ہوا ہے۔جہاں تک کاشتکاروں کی شکایات کا تعلق ہے تو خود وزیر اعلیٰ نے ان کو جائز قرار دیا اور سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا اس کے باوجود عمل نہ ہونا اور شکایات کا موجود رہنا افسوسناک ہے۔ ہم بھی حکومت اور اس کے ساتھ ہی مل مالکان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ یہ صورت حال کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بھی بنے گی اور وہ گنے کی فصل کی کاشت چھوڑ کر کسی نقد آور فصل کی بوائی پر مائل ہو جائیں گے اور پیداوار کم ہو جائے گی، پیداوار کم ہونے سے خود ان مالکان کو بھی نقصان ہوگا اور آج جو چینی برآمد کی جاری ہے، اس کے بجائے درآمدی سلسلہ شروع کرنا پڑ سکتا ہے، یوں بحران بھی پیدا ہوگا جو عوام کے لئے مزید پریشانی کا باعث بنے گا جو پہلے ہی مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو اپنی یقین دہانی کے مطابق خود ہی مداخلت کرنی چاہئے اور یہ شکایات ختم کریں کہ توازن نہ بگڑ سکے، ملک پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، اگر اللہ نے گندم اور چینی میں نہ صرف خود کفیل کیا ہے بلکہ برآمد کے قابل بھی بنایا ہے تو ہمیں اس کا شکر ادا کرکے اچھے کام کرنا چاہئیں اور بحران پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -