سابق صدر لاہور چیمبرکی کاشف انور کے خلاف درخواست ری اوپن کرنے کی استدعا

سابق صدر لاہور چیمبرکی کاشف انور کے خلاف درخواست ری اوپن کرنے کی استدعا

  

لاہور (کامرس رپورٹر)ایل سی سی آئی کے سابق صدر میاں مظفر علی نے سابق نائب صدر ایل سی سی آئی کاشف انور کے خلاف عدالت میں کیس ڈس مس ہونے کے بعد ایک بار پھر دوبارہ کیس کو ری اوپن کرنے کی درخواست کردی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر میاں مظفر علی نے چند سال قبل سابق نائب صدر کاشف انور کے دور میں چیمبر سے لاکھوں روپے مالیت کا سکریپ فروخت کرنے کے حوالے سے عدالت میں کیس کر رکھا تھا ، عدالت نے اس کیس کوخارج کردیا تھا لیکن میاں مظفرعلی نے دوربارہ عدالت سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس کیس کوری اوپن کیا جا سکے۔سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بزنس کمیونٹی نے آواز بلند کر دی ہے اور چیمبر کے معاملات کو چیمبر کے درودیوار کے اندر حل کرنے پر زور دیا ہے جبکہ لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق عہدیداران قطعی طور پر اس معاملے میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نظر نہیں آرہے ۔ لاہور چیمبر کے بعض ممبران نے ایسے ممبران کی ممبر شپ منسوخ کرنے کی حمایت کردی ہے جو چیمبر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں ۔اس ایشو کے حوالے سے سابق صدر لاہور چیمبر افتخارعلی ملک کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے ان کاکوئی سروکار نہیں ہے ۔ سابق صدر فاروق افتخار کا کہنا ہے یہ ان کی ذاتی لڑائی ہے اس میں چیمبر کیا کر سکتا ہے ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر خالد پرویز نے کہاہے کہ ہم چیمبر کے وقار اور عزت کو خراب نہیں ہونگے دیں گے میاں مظفر علی اور کاشف انور کو آمنے سامنے بیٹھائیں گے اور اس مسئلے کو حل کروائیں گے ۔بزنس لیڈر شیخ خرم آفتا ب نے کہا کہ چیمبر کے معاملات کو چیمبر کی سطح پر حل ہونا چاہیے ، اس طرح چیمبر کے ممبران کی لڑائی جھگڑے چیمبر سے باہر عدالتوں تک جائیں یہ چیمبر اور اس کے ہزاروں ممبران کی بدنامی کا باعث ہیں،محمد رفیق نے کہا کہ کاشف انور کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد کیس ہے انشاء اللہ فتخ کاشف انور کی ہوگی ہم اس کیس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔سابق صدر میاں مصباح الرحمن نے کہاکہ اگر میاں مظفر علی عدالت گئے ہیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے جب یہ کیس چیمبر میں آئے گا تو ہم اسے دیکھیں گے ۔

ایل سی سی آئی کے سابق صدر میاں مظفر علی نے چیمبر کی عزت داؤ پر لگا دی ہے ، سابق نائب صدر ایل سی سی آئی کاشف انور کے ساتھ کشیدگی زور پکڑنے لگی ۔میاں مظفر علی نے عدالت میں انکی جانب سے کیا گیا سابق نائب صدر کاشف انور کے خلاف کیس ڈس مس ہونے کے بعد ایک بار پھر دوبارہ کیس کو ری اوپن کرنے کی درخواست کردی ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سابق صدر میاں مظفر علی نے چند سال قبل سابق نائب صدر کاشف انور کے دور میں چیمبر سے لاکھوں روپے مالیت کا سکریپ فروخت کرنے کے حوالے سے عدالت میں کیس کر رکھا تھا ، عدالت نے اس کیس کوخارج کردیا تھا لیکن میاں مظفرعلی نے دوربارہ عدالت سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس کیس کوری اوپن کیا جا سکے۔سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بزنس کمیونٹی نے آواز بلند کر دی ہے اور چیمبر کے معاملات کو چیمبر کے درودیوار کے اندر حل کرنے پر زور دیا ہے جبکہ لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق عہدیداران قطعی طور پر اس معاملے میں ہاتھ ڈالنے کو تیار نظر نہیں آرہے ۔ لاہور چیمبر کے بعض ممبران نے ایسے ممبران کی ممبر شپ منسوخ کرنے کی حمایت کردی ہے جو چیمبر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں ۔اس ایشو کے حوالے سے سابق صدر لاہور چیمبر افتخارعلی ملک کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے ان کاکوئی سروکار نہیں ہے ۔ سابق صدر فاروق افتخار کا کہنا ہے یہ ان کی ذاتی لڑائی ہے اس میں چیمبر کیا کر سکتا ہے ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر خالد پرویز نے کہاہے کہ ہم چیمبر کے وقار اور عزت کو خراب نہیں ہونگے دیں گے میاں مظفر علی اور کاشف انور کو آمنے سامنے بیٹھائیں گے اور اس مسئلے کو حل کروائیں گے ۔بزنس لیڈر شیخ خرم آفتا ب نے کہا کہ چیمبر کے معاملات کو چیمبر کی سطح پر حل ہونا چاہیے ، اس طرح چیمبر کے ممبران کی لڑائی جھگڑے چیمبر سے باہر عدالتوں تک جائیں یہ چیمبر اور اس کے ہزاروں ممبران کی بدنامی کا باعث ہیں،محمد رفیق نے کہا کہ کاشف انور کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد کیس ہے انشاء اللہ فتخ کاشف انور کی ہوگی ہم اس کیس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔سابق صدر میاں مصباح الرحمن نے کہاکہ اگر میاں مظفر علی عدالت گئے ہیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے جب یہ کیس چیمبر میں آئے گا تو ہم اسے دیکھیں گے ۔

مزید :

کامرس -رائے -اداریہ -