انسانی اعضاء کی کارکردگی کا تمام انحصار ریڑھ کی ہڈی پر ہے،ڈاکٹر تنویر ریاست

انسانی اعضاء کی کارکردگی کا تمام انحصار ریڑھ کی ہڈی پر ہے،ڈاکٹر تنویر ریاست

  

لاہور(بزنس رپورٹر)ڈاکٹر تنویر ریاست نے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کائیروپریکٹک امریکہ ویورپ میں آج سے تقریباً سوا سو سال پہلے لگ بھگ 1895ء میں شروع ہوا جو مسلسل تحقیقی مراحل سے گزر کر آج ایک مکمل اور انتہائی مفید طریقہ علاج بن چکا ہے۔ یورپ میں اس کی تعلیم و تربیت کے درجنوں ادارے سرکاری اور نجی سطح پر کام کررہے ہیں اورامریکہ و یورپ میں ہزاروں کائیروپریکٹر اپنی خدمات مہیا کررہے ہیں۔ یورپ میں موجود اداروں میں اے لیول کے بعد کائیروپریکٹک کا 5سالہ کورس کرایا جاتا ہے جو باقاعدہ حکومت سے رجسٹرڈ ہوتا ہے اور کورس مکمل کرنے والے طلباء طالبات کو پریکٹس کی قانونی اجازت ہوتی ہے۔ کائیروپریکٹک وہ منفرد طریقہ علاج ہے جس میں کسی قسم کی کوئی ادویات استعمال نہیں کی جاتیں نہ کوئی سرجری کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی فزیو تھراپی۔ ڈاکٹر تنویر ریاست نے بتایا کہ انسانی جسم کی ساخت اور انسانی اعضاء کی کارکردگی کا تمام تر انحصار ریڑھ کی ہڈی اور اس کے ذریعے دیگر اعضاء تک پہنچنے والے سگنلز پر منحصر ہے۔ ریڑھ کی ہڈی میں پٹھوں اور نروز کا ایک پورا نظام ہے، جب ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوتی ہے تو اسی سے دیگر پٹھے اور نروس سسٹم اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دے پاتے کیونکہ انسانی جسم کی کنٹرولنگ اتھارٹی دماغ ہے اور اس کے تمام احکامات مختلف انسانی اعضاء تک ریڑھ کی ہڈی اور اس میں موجود پٹھوں و نروز کے ذریعے ہی ان تک پہنچتے ہیں جس کے مطابق وہ اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں، جب ریڑھ کی ہڈی اور نروز درست حالت میں نہ ہوں تو دماغ کے احکامات بھی یعنی سگنلز متعلقہ اعضاء تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتے جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے خواہ وہ دل ہو جگر ہو گردے یا جسم کا کوئی اور حصہ۔ کائیروپریکٹک کا تمام تر انحصار ریڑھ کی ہڈی پر ہوتا ہے کہ اس کی ایڈجسٹمنٹ اس طرح کی جائے کہ ہڈی اور تمام متعلقہ نروز اپنا کام بخوبی سرانجام دے سکیں۔ڈاکٹر تنویر ریاست نے بتایا کہ انسانی دماغ سر سے حرام مغز تک جاتا ہے اور ایک طرح سے ریڑھ کی ہڈی دماغ کی ایکسٹینشن ہے۔

تنویرریاست

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -