نابغہ روزگارمنو بھائی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس،سینئرصحافیوں کی شرکت

نابغہ روزگارمنو بھائی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس،سینئرصحافیوں کی شرکت

  

لاہور(خصوصی رپورٹ ) لاہور پریس کلب کے زیر اہتمام عالمی شہرت یافتہ بزرگ صحافی ، دانشور، شاعر، ادیب، ڈرامہ رائٹر اور پریس کلب کے لائف ممبر جناب منو بھائی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس نثار عثمانی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں صدر اعظم چوہدری، سینئر نائب صدر مجتبیٰ باجوہ، نائب صدر شکیل سعید، سیکرٹری عبدالمجید ساجد، ممبران گورننگ باڈی شاہنواز رانا، شاہد چوہدری، سینئر صحافی سلمان غنی، نوید چوہدری، محمد شہباز میاں، چوہدری خادم حسین، مولوی سعید اظہر، امتیاز عالم، سید صابر سعید شاہ، علامہ صدیق اظہر، الطاف قریشی، ایثار رانا، حافظ عبدالودود، اقبال قریشی،قاضی طارق عزیز، یامین صدیقی، قائم نقوی،حامد ولید، احسان ناز، احسان بھٹی، ناصرہ عتیق،طارق کامران، امتیاز راشد، ڈاکٹر خالد جاوید، پنجابی کے معروف شاعر بابا نجمی، معروف اداکار خالد عباس ڈار، حامد رانا(سونا)، شیبا حسن( چاندی) ، جماعت اسلامی کے سیکرٹری نشر و اشاعت امیر العظیم اور دیگر نے شرکت کی۔ تقریب کی نقابت ممبر گورننگ باڈی شاہنواز رانا نے کی۔ سیکرٹری عبدالمجید ساجد نے معزز مہمانان کا آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ منو بھائی منفرد شخصیت کے مالک تھے، پریس کلب کا کوئی پروگرام منو بھائی کے بغیر ادھورا ہوتا، 2016 ء میں سینئرز کے ساتھ پروگرامز کا سلسلہ شروع کیا تو پہلا پروگرام منو بھائی کے ساتھ ہوا، انہوں نے کہا کہ لاہور پریس کلب منو بھائی کے بغیر ادھورا ہے۔ صدر اعظم چوہدری نے کہا کہ منو بھائی کے جانے کی تکلیف آج بھی محسوس ہو رہی ہے، منو بھائی بے مثال انسان تھے، منو بھائی نے معاشرے کے ہر پہلو پر لکھا اور انکی ہر تحریر میں انکے نظریات کی جھلک موجود تھی، منو بھائی صحافت کا تاج تھے، ہمیں فخر ہے کہ ہمارا منو بھائی کے قبیلے سے تعلق ہے ،ہم انکے افکار آگے بڑھائیں گے اور لاہور پریس کلب ہر سال منو بھائی کی برسی کے موقع پر قومی سطح کا سیمینار منعقد کرے گا تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر سکیں، انہوں نے منو بھائی سے منسوب صحافتی ایوارڈ کے اجراء کا اعلان بھی کیا۔ سینئر صحافی سلمان غنی نے کہا کہ منو بھائی انسانیت کا علم لیکر اٹھے اور آخری وقت تک انسانیت کیلئے ہی لکھتے رہے، انہوں نے ہمیشہ قومی ، سیاسی اور عوامی مسائل پر کالم لکھے۔ سابق صدر محمد شہباز میاں نے کہا کہ قلم کی حرمت و آبرو منو بھائی کے ساتھ چلی گئی ، ہمیں منو بھائی کی سوچ کو آگے بڑھانا ہے اور انکے افکار سے سیکھنا ہے۔ سینئر صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ منو بھائی بہت خوبصورت انسان تھے، کبھی کسی کو برا کہتے نہیں سنا، ہمیشہ شائستہ زبان استعمال کی، ایسے سوشلسٹ تھے کہ ان پر سوشلسٹ ہونے کا گمان نہیں ہوتا تھا، انہوں نے اپنے نظریے اور صحافت کو ہمیشہ الگ رکھا۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری نشر و اشاعت امیر العظیم نے کہا کہ منو بھائی انسان دوست شخصیت تھے ، انہیں ہمیشہ مسکراتے دیکھا، انکی تحریریں معاشرے کا آئنہ تھیں۔ سینئر صحافی نوید چوہدری نے کہا کہ منو بھائی نے تمام عمر قلم کی حرمت و عزت کو برقرار رکھا، زبان کی نفاست و جملے بے مثل تھے۔ سینئر صحافی ایثار رانا نے کہا کہ منو بھائی کی آواز بند ہونا بڑا صدمہ ہے، حق و سچ لکھنے والے بڑے صحافی او ر بڑے انسان تھے۔ تعزیتی ریفرنس سے سینئر صحافی مولوی سعید اظہر، الطاف قریشی، علامہ صدیق اظہر، سید صابر سعید شاہ، چوہدری خادم حسین، طارق کامران، سماجی رہنما فاروق طارق،ڈاکٹر خالد جاوید،شاعر بابا نجمی، اداکار خالد عباس ڈار، حامد رانا، شیبا حسن اور سندس فاؤنڈیشن کے یاسین خان نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ منو بھائی پاکستان کے پسے ہوئے غریب کا درد سمجھتے تھے، منو بھائی نے ہمیشہ عوامی مسائل اور آزادی اظہار کیلئے کام کیا، منو بھائی کے الفاظ ہنساتے بھی تھے اور رلاتے بھی تھے اور حقیقت سے قریب ترین لے جاتے تھے،منو بھائی گھٹن کی فضا میں بھی سچ لکھنے سے نہیں ڈرتے تھے، بہت اچھے الفاظ میں تلخ باتیں کر جاتے ، وہ کالم نگاروں کے فیض احمد فیض تھے، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھے اور آخری وقت تک محنت کش طبقات کے بارے میں لکھتے رہے،وہ اپنی ذات میں ایک مشن تھے، منو بھائی نے کئی فقرے ایجاد کئے ، سندس فاؤنڈیشن کے تحت چھ ہزار بچوں کی کفالت کر رہے تھے ، مقررین نے منو بھائی کے انسانیت کے مشن کو آگے بڑھانے کا بھی اعادہ کیا۔ شرکاء مجلس نے مرحوم کی مغفرت اوردرجات کی بلندی کے لئے دعاکی۔

منوبھائی

مزید :

علاقائی -