پنجاب اسمبلی ، ’’وارننگ ‘‘کی بازگشت: اپوزیشن کا بے ضابطگیوں کی تفصیلات نیب کو فرقاہم کرنے کا مطالبہ

پنجاب اسمبلی ، ’’وارننگ ‘‘کی بازگشت: اپوزیشن کا بے ضابطگیوں کی تفصیلات نیب ...

  

لاہور (ا ین این آئی، نمائندہ خصوصی) چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بیان کی پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھی باز گشت سنی گئی ،اپوزیشن نے مختلف کمپنیوں میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ،حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی مخالفانہ نعرے بازی کے شور شرابے کے دوران اجلاس کی کارروائی پیر کی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کر دی ۔ قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا چیئر مین قومی احتساب بیورو جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کو چار بار نوٹس جاری کر چکے ہیں کہ مختلف کمپنیوں میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کا جواب دیا جائے لیکن بیوکوریسی جواب دینے کو تیار نہیں ہے۔نیب کے چیئر مین ذمہ دار شخص ہیں لیکن پنجاب حکومت ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے۔جس پر اسپیکر نے کہا وزیر قانون کو ایوان میں آلینے دیں وہ آپ کوحکومت کا موقف بتا دیں گے جس اپوزیشن لیڈر نے کہا یہ ایوان وزیر قانون کے گھر کی لونڈی نہیں جو ان کی مرضی سے چلے گا۔ہم پنجاب کے منتخب نمائندے ہیں اپنے منہ پر کالک نہیں مل سکتے۔ وحید گل نے کہا کہ یہ لوگ اداروں کواستعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کے پیچھے چھپ رہے ہیں ،ان کے تو اپنے کیس سپریم کورٹ اور نیب میں چل رہے ہیں۔اسی دوران اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ’’گوشہباز گو‘‘ ، ’’شیرشیر،رو عمران رو‘‘کے نعرے لگانا شروع کر دئیے اوراسی شور شرابے کے دوران اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی پیر کی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی مقررہ وقت 9بجے کی بجائے ایک گھنٹہ 50منٹ کی تاخیر سے اسپیکر رانا محمد اقبال کی زیرصدارت شروع ہوا۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری حسان ریاض نے محکمہ سپشلائزڈہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن جبکہ صوبائی وزیر چوہدری محمد شفیق نے سپیشل ایجوکیشن سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔حکمران جماعت کے رکن ارشد ملک کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ میں جتنی بھی خالی آسامیاں ہیں انہیں رواں سال جون تک پر کر لیا جائے گا ۔ ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ حکومت کو نئے برن یونٹس سے زیادہ اورنج لائن ٹرین کو مکمل کرنے میں جلدی ہے ،جلے ہوئے مریضوں کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی جگہ میسر نہیں آتی ۔پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت لاہور شہر کے ہسپتالوں میو ،جناح،سرجیکل ٹاور،چلڈرن،شیخ زید ہسپتال میں پانچ برن یونٹس قائم ہیں جبکہ میو ہسپتال میں 91بیڈز کا برن یونٹس مکمل طور پر فعال ہے۔

مزید :

علاقائی -