ظب کا شعبہ کمائی کا ذریعہ نہیں : چیف جسٹس

ظب کا شعبہ کمائی کا ذریعہ نہیں : چیف جسٹس

  

اسلام آباد (این این آئی)غیر معیاری سٹنٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر ثمر مبارک نے سٹنٹس کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے 3.9 کروڑ روپے کے اخراجات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جبکہ عدالت نے کول پاور پراجیکٹ سمیت ان تمام منصوبوں کی تفصیلات بھی 2 ہفتوں میں طلب کر لیں جن میں حکومت نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو فنڈز دئیے۔ جمعہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرثمر مبارک مند سے بہت سے سوال کرنے ہیں ٗطب کا شعبہ کمائی کا نہیں ہے۔عدالت نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ کول پاور پراجیکٹ سمیت ایسے تمام منصوبوں کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں جن میں حکومت نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو فنڈز فراہم کیے۔عدالت نے کہا کہ ملکی سطح پر سٹنٹ کی تیاری کیلئے سفارشات پر کمیٹی 2 ہفتے میں کام کریگی۔ یہ کمیٹی معروف ماہر امراض قلب ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوشش ہے کہ ایک دو ماہ میں سٹنٹ کی قیمتیں ایک لاکھ سے کم پر لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں یکساں معیار کے سستے سٹنٹس دستیاب ہوں، کئی عطائی انجیو گرافی کر رہے ہیں اس معاملے کو بھی درست کرنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ توجہ ہیپاٹائٹس اور گردوں کے ڈائلسز کے علاج کی سہولیات پر ہو گی ان کا علاج بہت مہنگا ہے۔

مزید :

علاقائی -