حکیم محمد رفیق صابر نے محنت ،خلوص سے طب کی دنیا میں اونچا مقام بنایا، مقررین

حکیم محمد رفیق صابر نے محنت ،خلوص سے طب کی دنیا میں اونچا مقام بنایا، مقررین

  

لاہور( خصوصی رپورٹ )پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے زیر اہتمام معروف معالج، محقق اور طبی کتب کے مصنف حکیم محمد رفیق صابر مرحوم کی یاد میں ہمدرد سنٹر میں تعزیتی ریفرنس ہوا۔ ریفرنس سے ممتاز صحافی روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی، حکیم راحت نسیم سوہدروی، ڈاکٹر شاہد منیر، ڈاکٹر تنویر قاسم، محمد نصیر الحق ہاشمی، رانا شفیق پسروری،حکیم حافظ احسان الرحمن، ڈاکٹر جمیل مہروی، طارق عباس چودھری نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کی علمی و طبی خدمات کو خراج تحسین و عقیدت پیش کیا۔ مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکیم رفیق احمد صابر کی طبی علمی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہوں نے پوری زندگی دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت میں گزار دی ان کی اچانک وفات سے شعبہ طب کو شدید دھچکا پہنچا ۔ مقررین نے کہا کہ ان کی طبی علمی دینی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش اور نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں ان کی اچانک وفات سے میدان طب ایک دیانتدار سپاہی اور ہم ایک اچھے ساتھی سے محروم ہوگئے ہیں ان کی پیم اور طب کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔مرحوم حکیم رفیق احمد صابر ثانی نے زندگی بھر طبِ پاکستان ’’قانون مفرد اعضا‘‘ (علاج بالغذا) کی ترویج و ترقی اور فروغ کے لیے جو گرانقدر خدمات انجام دیں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مرحوم بیشتر طبی کتب کے مصنف تھے جن میں شوگر، ہیپاٹائٹس، مجرباب صابر، بچوں کے امراض، طب پاکستان ڈائریکٹری، مردوں عورتوں کے امراض، مرضیات قابل ذکر ہیں۔ ان کے تحقیق پر مبنی کالم قومی اخبارات اور جرائد میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ مرحوم نہایت خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز اور گونا گوں صفات کی حامل شخصیت تھے۔ مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پْر نہ ہو سکے گا۔ دیگر مقررین میں حکیم ادریس گیلانی ، حکیم حافظ احسان الرحمن ، حکیم احمد سلیمی، حکیم حافظ فضل امین ،حکیم حارث نسیم،حکیم عبدالرحیم ھاشمی شامل تھے جھنوں نے کھا کہ حکیم رفیق احمد صابر میدان طب میں جدید تحقیقات کو قبول کرنے والے اور ترقی و فروغ طب کیلئیے تعلیم وتحیق کو عالمی پیرامیٹرز کے مطابق بنانے کے حامی تھے کاروان شھید حکیم محمد سعید میں نمایاں تھے ۔امراض کی روک تھام کے لئیے تعلیم صحت کے لئیے بھت کام کیا۔وہ نظریاتی اور عملی شخص تھے فکری طور پر بلند سطح پر تھے جماعت اھلحدیث کے لئے ان خدمات بھت زیادہ ھیںآخر میں مرحوم کی مغفرت اور بلندء4 درجات کے لیے دعا مانگی گئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء4 فرمائے۔ اور پسماندگان کو صبر دے۔مقررین نے کہا کہ زندگی وہی جو انسانیت کی خدمت اور انسانی جان کو بچانے میں صرف ہو، حکیم محمد رفیق صابر نے اپنی ساری زندگی انسانیت اور انسانوں کی فلاح و بقا میں صرف کر دی۔ انہوں نے تھوڑی عمر میں طبی دنیا میں وہ کام کیا جو طویل عمر والے بھی نہیں کر پائے، وہ ایک ماہر نباض اور معالج تھے مگر اس سے بڑے انسان تھے ان خیلات کا اظہار۔وزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے حکیم رفیق احمد صابر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حکیم رفیق احمد صابر کی یاد میں مذکورہ تعزیتی ریفرنس ’’پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن (PAEM) کے زیراہتمام، ہمدرد سنٹر لاہور میں ہوا، جس کی صدارت رانا شفیق پسروری نے کی۔ حکیم رفیق احمد صابر کی شخصیت پر گفتگو کرنے والوں میں کنٹرولر امتحانات پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر شاہد منیر، ڈاکٹر رانا تنویر قاسم، طارق عباس چودھری، حکیم فضل امین، حکیم راحت نسیم سوھدروی، نصیر الحق ہاشمی، حکیم محمد احمد سلیمی، حکیم عزیز داہروی اور دیگر شامل تھے ریفرنس کے مہمان خصوصی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے، صحت مند معاشرہ و ماحول بہت ضروری ہے اور صحت مند ماحول کے لئے اطباء و حکماء اور ڈاکٹرز تمام معالجین کو پوری نیک نیتی اور مہارت سے کام کرنا چاہئے اسی طرح خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنا چاہئے جس طرح حکیم رفیق احمد صابر کا جذبہ تھا، ان کے پیشِ نظر انسانیت سے محبت تھی، دولت کا حصول نہ تھا۔ معروف طبیب اور تقریب کے میزبان حکیم راحت نسیم سوھدروی نے کہا کہ حکیم رفیق احمد صابر، شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا میں نے تیس سالہ رفاقت میں حکیم رفیق صابر کو ہر لحاظ سے سچا اور کھرا انسان پایا ان میں کسی بھی فرد کے لئے منفی جذبہ نہیں دیکھا، وہ طب سے کمانے کی بجائے اپنی جیب سے مریضوں کی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ صدر مجلس رانا شفیق پسروری نے کہا کہ انہوں نے اپنی محنت اور خلوص سے طب و حکمت کی دنیا میں نام کمایا اور اونچا مقام بنایا، وہ ایک اچھے طبیب اور ماہر نباض ضرور تھے مگر اس سے کہیں بڑھ کر ایک بہترین انسان بھی تھے۔ نصیر الحق ہاشمی نے کہا کہ ایک اچھے انسان اور اچھے مسلمان میں جو جو صفات ہونی چاہئیں وہ حکیم رفیق صابر میں موجود تھیں۔ ڈاکٹر تنویر قاسم نے کہا کہ ’’آج ہر طرف ایسے معالج بکثرت نظر آتے ہیں جو مریضوں کے مرض کی بجائے ان کی جیب پر نظر رکھتے ہیں جبکہ حکیم رفیق مال کمانے سے زیادہ، نیکیاں کمانے میں لگے رہے۔ ہمدرد سنٹر کے اس تعزیتی ریفرنس کے موقع پر حکیم رفیق احمد صابر کی کتب و رسائل کا ایک سٹال بھی لگایا گیا اس موقع پر قاری حفیظ الرحمن عامر اور حافظ سعد رفیق کی سعی سے حکیم رفیق صابر کے کم سن بچوں کی تعلیم و رہائش کے لئے فنڈ بھی قائم کیا گیا۔

مزید :

علاقائی -