بر صغیر کی تقسیم دو قومی نظریہ پر ہوئی ، پورا کشمیر پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے تھا : ڈاکٹر علی الغامدی

بر صغیر کی تقسیم دو قومی نظریہ پر ہوئی ، پورا کشمیر پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے ...

  

جدہ (محمد اکرم اسد) مجلس محصورین پاکستان (پی آر سی) نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر سمپوزییم" مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کی ذمہ داری منعقد کیا جس کی صدارت معروف سعودی دانشور اور سابق سفارت کار ڈاکٹر علی الغامدی نے کی۔ جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیز کے جنرل سیکرٹری چوہدری خورشید احمد متیال مہمان خصوصی تھے. ڈاکٹر الغامدی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ بر صغیر کی تقسیم دو قومی نظریہ پر ہوئی تھی. جس کے تحت پورے کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہئے تھا. کیونکہ وہاں 90%مسلمان تھے وہاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق رائے شماری سے فیصلہ ہونا چاہئے تھا مگر 70سال سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا. انھوں نے کہا کہ مسئلہ محصورین کے حل کے لیے بھی حکومت کو اقدامات کرناہونگے. مہمان خصوصی چو دھری خورشید متیال نے ہوم یکجہتی کشمیر پر سمپوزییم منعقد کرنے پر پی آر سی کاشکریہ اداکیا. انھوں نے کہا کہ تمام تنظیموں کو مل کر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے تھا. نوجوانوں کو آزادی کی تحریک میں زیادہ سے زیادہ آگے آنا چاہئے. تقریب سے انجینئر نیاز احمد، فیصل طاہر خان، پاک سرزمین مڈل ایسٹ کے ڈپٹی کنونیر ڈاکٹر محمد نعیم قائم خانی، چودھری رضوان، امانت علی، شیخ لقمان، شمس الدین الطاف اور آغا محمد اکرم نے بھی خطاب کیا. پی آر سی کے کنوینر سید احسان الحق نے مہمانوں کا شکر یہ ادا کیا اور قرارداد پیش کی کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیر میں جلد از جلد رائے شماری کرائی جائے اور فوری طور پر بھارت کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلانے. حکومت پاکستان محصورین کو پاسپورٹ جاری کرے اور ان کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کرے. تقریب کی نظامت سید مسرت خلیل نے. تلاوت شمس الطاف اور نعت رسول مقبولؐ احمد رضا ہاشمی نیپیش کی. زمرد سیفی نے شہدائے کشمیر کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

کشمیر سمپوزیم

مزید :

علاقائی -