پارٹی صدارت سے متعلق شق آئینی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھنے کا اختیار نہیں : چیف جسٹس

پارٹی صدارت سے متعلق شق آئینی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھنے کا اختیار ...

  

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں انتخابی ایکٹ 2017ء کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دور ا ن چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم صرف نواز شریف کی حد تک نہیں عمومی طورپر قانون کودیکھ رہے ہیں ،آئین کا بنیادی فیچر جمہوریت ہے جبکہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو قانون سازی کے ذریعے براہ راست تو غیر مؤثر کیا جاسکتا ہے، بالواسطہ نہیں۔ جمعہ کو کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ،جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے وکیل شیخ احسن الدین نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے پانامہ کیس کے فیصلہ کے بعد نواز شریف نااہلی کیساتھ پارٹی عہدے سے بھی فارغ ہو گئے تھے، اکثریتی پارٹی ہونے کی وجہ سے بل پاس کرا لیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے قانون کے تحت سزایافتہ شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، ہم نے معاملہ کوصرف نواز شریف کی حد تک نہیں عمومی طورپر قانون کودیکھ رہے ہیں۔ درخواست گزار ذوالفقار بھٹہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اکرام چوہدری ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ مقدمہ قانون اور ایک شخص کی حکمرانی کے درمیان ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ آرٹیکل کون سے قانون سے متصادم ہے؟ یہ بتائیں اس قانون سے آئین کا کون کون سا آرٹیکل متاثر ہوتا ہے۔ درخواست گذار عبدالودود قریشی کے وکیل طارق اسد نے کہا اس مقدمہ کے سیاسی پہلو بھی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نشاندہی کریں سیکشن 203آئین سے کس طرح منافی ہے، قانون میں اسلام کے حوالے سے بات جان بوجھ کر شامل کر دی گئی، اللہ کا شکر ہے اسلامی شقیں بحال کر دی گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پارٹی صدارت سے متعلق شق آئینی اسلامی تعلیمات کے تناظر میں دیکھنے کا اختیار نہیں رکھتے، پارٹی صدارت کا اسلامی تعلیمات کے تناظر میں جائزہ لینے کا اختیار شرعی عدالت کو حاصل ہے۔ بعد ازاں جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے وکیل شیخ احسن الدین، ودود قریشی کے وکیل طارق اسد، اکرام چوہدری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی مزید سماعت 13 فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔

مزید :

صفحہ اول -