ایم کیو ایم کے ٹکٹ فاروق ستار جاری کریں گے یا رابطہ کمیٹی ؟

ایم کیو ایم کے ٹکٹ فاروق ستار جاری کریں گے یا رابطہ کمیٹی ؟
ایم کیو ایم کے ٹکٹ فاروق ستار جاری کریں گے یا رابطہ کمیٹی ؟

  

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

ایم کیو ایم (پاکستان) کے اختلافات سمٹنے کی بجائے پھیلتے جا رہے ہیں اور اب دائرہ بڑھ کر اس نکتے پر پہنچ گیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کون جاری کرے گا؟ اور الیکشن کمیشن کس کے جاری کردہ ٹکٹ کو قبول کرے گا؟ یہ فیصلہ تو ریٹرننگ آفیسر کریں گے کہ کون سا امیدوار کس پارٹی کی جانب سے نامزد کردہ ہے اور یہ فیصلہ کرتے وقت تین چیزوں کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ اول، انتخابی اصلاحات 2017ء کا قانون جس کے تحت سینیٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے تازہ ترین ضوابط اور متعلقہ پارٹی کا آئین، اس وقت جو جماعتیں سینیٹ کے الیکشن لڑ رہی ہیں، ان میں پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کو جو سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے اور جو الیکشن کمیشن میں قابل قبول ٹھہرتا ہے، وہ پارٹی سربراہ کے دستخطوں سے بھیجا جاتا ہے، چونکہ کسی دوسری جماعت میں اس وقت قیادت کا کوئی تنازعہ سرے سے ہے ہی نہیں اور یہ اعزاز صرف ایم کیو ایم کو حاصل ہو رہا ہے کہ وہاں اب یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ٹکٹ کون جاری کرے گا؟ ایم کیو ایم (پاکستان) کے سربراہ فاروق ستار کہتے ہیں کہ وہ منتخب سربراہ ہیں، اور وہ جس امیدوار کو ٹکٹ جاری کریں گے وہی ایم کیو ایم کا امیدوار سمجھا جائے گا اور ریٹرننگ آفیسر انہی کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ قبول کرنے کا پابند ہوگا، لیکن فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ یہ اختیار پارٹی سربراہ کے پاس نہیں، رابطہ کمیٹی کے پاس ہے۔ فیصل سبزواری کا یہ دعویٰ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پارٹی کا جو آئین الیکشن کمیشن کے پاس جمع ہے اور جس پر ڈاکٹر فاروق ستار کے دستخط ہیں، اس میں واضح طور پر درج ہے کہ جس امیدوار کو ٹکٹ رابطہ کمیٹی جاری کرے گی، وہی پارٹی کا نامزد امیدوار ہوگا۔ البتہ فیصل سبزواری کو شبہ ہے کہ اس آئین کی جگہ کوئی دوسرا تبدیل شدہ آئین کسی رات کے اندھیرے میں الیکشن کمیشن کے پاس جمع تو نہیں کرا دیا گیا۔

جب کاغذات کی سکروٹنی (چھان بین) شروع ہوگی تو اس وقت پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ اس وقت یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ پارٹی سربراہ کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ ریٹرننگ افسروں کے لئے قابل قبول ہے یا رابطہ کمیٹی کا۔ جیسا کہ اوپر درج ہے کہ تین امور کو سامنے رکھ کر پارٹی ٹکٹ کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ ہوگا۔ ان تین امور میں بنیادی حیثیت تو پارٹی کے آئین ہی کو حاصل ہے۔ اس کے مطابق ہی ریٹرننگ افسر فیصلہ کریں گے، لیکن ایم کیو ایم کے ’’گھر کی لڑائی‘‘ جس طرح پھیلتی جا رہی ہے، اس سے نہیں لگتا کہ یہ معاملہ ریٹرننگ آفیسر کی سطح پر ہی حل ہو جائے گا، کیونکہ رابطہ کمیٹی جس طرح ڈاکٹر فاروق ستار کے سامنے کھڑی ہوگئی ، امکان یہ ہے کہ اگر ریٹرننگ آفیسر نے فیصلہ ڈاکٹر فاروق ستار کی طرف سے نامزد کردہ امیدوار کے حق میں کیا تو رابطہ کمیٹی اس معاملے کو اپیل میں اپیلٹ ٹربیونل کے پاس لے جائے گی اور پھر یہ امر بھی بعید از قیاس نہیں کہ اپیلٹ ٹربیونل کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ جائے، یہ تو خیر قانونی معاملہ ہے اور الیکشن کمیشن کے ضوابط کے تحت اپیلوں کے یہی دو مدارج ہیں، لیکن آج کل جس طرح ہر سیاسی معاملہ سپریم کورٹ کے روبرو پیش کیا جا رہا ہے اور بات بات پر کہا جانے لگا ہے کہ ہم سپریم کورٹ جائیں گے، یہ کوئی اچھا شگون نہیں، سیاسی معاملات کے حل کا بہترین پلیٹ فارم تو پارلیمنٹ ہی ہے اور وہ ہر طرح کی قانون سازی میں آزاد ہے اور اگر کسی قانون میں ابہام ہے تو بہتر یہی ہے کہ پارلیمنٹ ہی یہ ابہام دور کرے اور متعلقہ قانون میں ترمیم کر دے تاکہ ہر سیاسی معاملہ سپریم کورٹ کے پاس نہ جائے، ویسے بھی ان دنوں سپریم کورٹ میں صرف سیاسی مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے اور نتیجے کے طور پر باقی مقدمات معرض التواء میں پڑے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں سیاست میں ایک اور بدعت در آئی ہے اور بہت سے سیاسی رہنما اٹھتے بیٹھتے یہ بیان جاری کر رہے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ’’یقین دہانی‘‘ کی ضرورت کیوں پیش آجاتی ہے۔ سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، وہ کلی طور پر بااختیار ہے، اس کے حکم پر لوگوں کی زندگیوں اور موت کے فیصلے ہی نہیں ہوتے، وہ مضبوط وزرائے اعظم کو اپنے قلم کی طاقت سے گھر بھیج دیتی ہے۔ اتنے مضبوط ادارے کو نہ تو کسی یقین دہانی کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ کسی سہارے کی محتاج ہے۔ سپریم کورٹ کے ساتھ کوئی کھڑا ہو یا نہ ہو، وہ اپنی قانونی قوت کے زور پر کھڑی ہے اور قائم بالذات ہے اور اسی کے مطابق فیصلے کر رہی ہے۔ عدالتی فیصلے کسی کے خلاف ہوتے ہیں اور کسی کے حق میں۔ جس کے حق میں فیصلہ ہو، وہ خوش ہو جاتا ہے، جس کے خلاف ہو، وہ ناراض نہیں تو کم از کم بدمزہ ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے کسی جانب سے ساتھ کھڑے ہونے کے اعلان کی کوئی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ سپریم ہے اور اس کا فرمایا ہوا حرف آخر ہے۔ کوئی اس کے ساتھ کھڑا ہو یا نہ ہو۔ اس لئے سیاستدان سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کرنے کا احسان نہ ہی فرمائیں تو یہ ان کا احسان ہوگا۔

ایم کیو ایم کے ٹکٹ

مزید :

تجزیہ -