بھارت کلبھوشن کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات دینے میں ناکام رہا: پاکستان

بھارت کلبھوشن کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات دینے میں ناکام رہا: پاکستان

  

اسلام آ باد ( مانیٹرنگ ڈیسک ،آ ئی این پی ) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہاہے کہ پاکستان کی افواج مادر وطن کے دفاع میں بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں،پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام اقدامات کرے گا،پاکستان میں بھارتی تخریب کاری اور سی پیک میں بھارتی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ،کلبھوشن یادیو بھارتی مداخلت کا ایک ثبوت ہے ،پاکستان خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے ،کراچی میں چینی باشندے کے قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،پاکستان چینی باشندوں کے تحفظ کو یقینی بناے گا،لیبیا میں ڈوبنے والے پاکستانیوں کی لاشیں واپس لانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ بھارتی فوج نے 2018 میں 190 سے زائد بار کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزی کی ۔بھارتی قابض فوج نے 2 کشمیریوں کو شوپیاں میں شہید کیا ۔ایک لڑکی بھارتی قابض فوج کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئی ۔دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے پر کھڑا ہونا چاہیے۔ بھارت نے کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔نیزہ پیر نکیال اور ایل او سی کی خلاف ورزی پربھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا گیا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔کراچی میں چینی باشندے کے قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔پاکستان چینی باشندوں کے تحفظ کو یقینی بناے گا۔چینی باشندوں کا تحفظ ہمارے لیے اہم ہے۔لیبیا میں ڈوبنے والے پاکستانیوں کی لاشیں 3 تک واپس لانے کی کوشش کریں گے۔مشن کے دو آفیشلز زمبارا میں ہیں ۔ایمرجنسی لیبیا سیل بھی قائم کیا گیا ۔ضروری اخراجات بھی ایمبسی کو دے دئے گئے ہیں۔لیبیا میں 11 پاکستانیوں کی نعشیں دریافت کر کہ ان کے لواحقین کو اطلاع کر دی گئی۔رحمت خان نامی پاکستانی لیبیاکشتی حادثہ میں زندہ پائے گئے۔دیگر چار لاپتہ افراد کے حوالے سے ابھی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ ہر ریاست کو خلائی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق ہے ۔لیکن یہ پرامن مقاصد کیلئے ہونا چاہیے ۔اسے ہتھیاروں کی دوڑ نہیں شروع ہونی چاہیے ۔پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام اقدامات کرے گا۔ ہر ریاست کو خلائی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق ہے ۔لیکن یہ پرامن مقاصد کیلئے ہونا چاہیے ۔اسے ہتھیاروں کی دوڑ نہیں شروع ہونی چاہیے ۔تاہم اس حوالے سے کسی کی سالمیت اور تزویراتی اہداف کو خطرہ نہیں ہونا چاہے۔پاکستان خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف ہے۔پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوے دفاعی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اور امریکا کے ساتھ پناہ گزینوں کا معاملہ سرفہرست ہوگا ۔چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین عزت احترام سے واپس جائیں۔آج بھی افغان وفد سے اس معاملے پر بات کی جائے گی۔افغان وفد سے آج سہہ پیر اور کل ملاقاتیں ہوں گی۔پاک افغان ملاقاتوں میں پاکستان مہاجرین کی وطن واپسی اور سرحد ہار سے حملوں کا معاملہ اٹھا یا ہے۔ہم امریکہ میں پاکستان کو غیر دفاعی امداد روکنے کے بل کا جائزہ لے رہے ہیں۔کابل میں امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ کا بیان مثبت قدم ہے۔افغانستان میں افغانوں کے لیے افغانستان کے زیر انتظام مفاہمت سے ہی امن ممکن ہے۔بھارت آج تک جواب نہیں دے سکا کہ کلبھوشن کے پاس حسین مبارک کا پاسپورٹ کہاں سے آیا ۔بھارت نے کلبھوشن کی ریٹائرمنٹ کی کوئی دستاویزات نہیں دیں ۔2017 جنوری سے بھارت سے دستاویزات مانگ رہے ہیں۔پاکستان میں تخریب کاری میں بھارتی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔کل بھوشن جادیو بھارتی مداخلت کا ایک ثبوت ہے۔پاکستان نے گزشتہ برس جنوری میں بھارت سے کل بھوشن پر معلومات طلب کی تھی۔ہماری افواج مادر وطن کے دفاع میں بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتیں ہیں۔بھارت کی سی پیک اور پاکستان میں مداخلت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔مالدیپ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں ۔ہم مالدیپ میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ۔ہم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔ افغانستان کے ساتھ مزاکرات انتہائی اہم ہیں۔تحفظات کے حل میں مزاکرات کا اہم کردار ہے۔دہشت گردی کے باوجود تواتر سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان4 بنیادی مشترکہ ورکنگ گروپ سی پیک کے حوالے سے قائم ہیں۔چینی وفد چوتھے ورکنگ گروپ کی ملاقات کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے۔ایران پاکستان پائپ لائن منصوبہ جاری ہے۔ہم افغان حکومت اور حزب اسلامی کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔حزب اسلامی کی طرز پر دیگر گروہوں بشمول طالبان سے بھی مفاہمت کی جانی چاہیے۔ صحافی کے سوال کیاکہ بھارت وزیراعظم مودی برملا پاکستان کے معاملات پر اظہار کرتے ہیں ، آپ خالصتان کو اندرونی معاملہ قرار دیتے ہیں ۔جس پر ڈاکٹر فیصل نے جواب دیا کہ پاکستان اور بھارت میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ مودی پاکستان کے معاملات میں برملا مداخلت کرتے ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -