میڈیا آزادکشمیر کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کے توڑ کیلئے کردار ادا کرئے: راجہ فاروق حیدر

میڈیا آزادکشمیر کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کے توڑ کیلئے کردار ادا کرئے: ...

  

مظفرآباد( بیورورپورٹ)وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے بڑے مسائل جن میں عبوری ایکٹ 74میں ترمیم ،کشمیر کونسل کے اختیارات میں کمی ،لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر معاملات کے حل کے لیے اپوزیشن کی تمام پارلیمانی جماعتوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں کسی نے یہ باتیں کیوں نہیں کیں عوام اور میڈیا ان سے پوچھے جو لوگ ریاستی نمائندگی کے دعویدار ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ اہم ریاستی معاملات پر بات نہیں کر سکتے میڈیا تحریک آزادی کشمیر اور آزادکشمیر کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے حکومت تمام مدد فراہم کرے گی آزاد کشمیر کے اندر آئینی ترامیم ،نیٹ ہائیڈل پرافٹ لوڈشیڈنگ ،نیلم جہلم پن بجلی کے منصوبہ جات کے معاہدوں سمیت تمام اہم امور پر قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے 5فروری کے جلسہ میں کوئی 1روپیہ سرکاری وسائل سے ثابت کر دے۔ سنٹرل پریس کلب مظفرآباد ایک تاریخی ادارہ ہے اس کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے بڑی خدمات ہیں اس کی شایان شان عمارت کی تعمیر کا کام بھی بہت جلد شروع ہو گا آزادکشمیر بھر میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبہ جات بذریعہ پریس فاؤنڈیشن شروع کیے گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف وفاداری سے خطاب کر رہے تھے تقریب کی صدارت صدر سید ابرار حید ر نے کی جبکہ تقریب سے سیکرٹری جنرل راجہ شجاعت حسین ،سابق سیکرٹری جنرل ذوالفقار حسین بٹ نے بھی خطاب کیا اس موقع پر وزیر حکومت چوہدری سعید، ڈی جی اطلاعات راجہ اظہر اقبال ،امیر جماعتہ الدعوۃعبدالعزیز علوی ،چوہدری منظور احمد ،شوکت جاوید میر ،ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل سردار وقار سمیت دیگر بھی موجود تھے وزیراعظم سے حلف لینے والوں میں صدر ابرار حیدر ،سینئر نائب صدر سجاد قیوم میر ،نائب صدر تنویر احمد تنولی ،جنرل سیکرٹری راجہ شجاعت حسین ،ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سرفراز میر ،جوائنٹ سیکرٹری نسیم مغل ،سیکرٹری مالیات سفیر احمد رضا ،سیکرٹری اطلاعات نصیر چوہدری شامل تھے ۔اس موقع پر صدر سنٹرل پریس کلب ابرار حیدر نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے ادارے کے تاریخی کردار اور اہمیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم آزادکشمیر کے گڈ گورننس ،میرٹ کی بحالی اور میڈیا کی ترقی کے لیے اقدامات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اس موقع پر میرپور پریس کلب کے صدر عابد شاہ ،سی یو جے کے مرکزی صدر ظفیربابا،ہٹیاں پریس کلب کے صدر ،نیلم کے صدر سمیت دیگر صحافی راہنما بھی موجود تھے وزیراعظم آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے ڈیڑھ سال میں تعلیم ،صحت ،انفراسٹریکچر کے شعبہ جات میں تبدیلیاں لا کر دکھائی ہیں جب اپوزیشن میں تھا تو قومی ایام پر ہمیشہ قومی بات کی اور ریاست کی نمائندگی کی پتہ نہیں اب ان لوگوں کو بات کرتے ہوئے کس سے ڈر لگتا ہے 13تاریخ کو آزادکشمیر کے عبوری آئین میں ترمیم کے حوالے سے میٹنگ ہے آزادکشمیر کو بجلی کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں سیاحت اور ہائیڈل کو فروغ دے کر ذرائع روزگار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہو گا ریاستی میڈیا چوکنا رہے بھارت ہمارے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ریاستی مسائل کو اٹھانے یا ان کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی ساری ذمہ داری میری نہیں باقی کسی کو کیوں تکلیف نہیں آزادکشمیر میں دوہرا نظام حکومت نہیں چل سکتا ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ وصول کرنے کی ضرورت نہیں نہ ہی پاکستان کے حوالے سے ہماری کمٹمنٹ اس کی محتاج ہے مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج ساڑھے سات لاکھ کی تعداد میں نہتے کشمیریوں کے ہاتھوں بے بس ہے مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے عوام پاکستان و آزادکشمیر کا پہلا دفاعی حصار میں بڑے پراجیکٹس کی تکمیل سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل کے تدارک کے لیے حکومت پاکستان سے مل کر حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں جہاں بھی بڑا پراجیکٹ لگے گا اس کی رقم کا کچھ فیصد ماحول دوست منصوبہ جات کے لیے مختص کیا جائے گا وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ تعلیمی نصاب کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکسٹ بک بورڈ کو جدید بنیادوں پر بنائیں گے ریاست کے قدرتی حسن کو محفوظ بناتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھائیں گے انہوں نے کہا کہ وہ پریس کلب کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھتے ہیں چند ایک صحافیوں کو جو خبر کو غلط انداز سے لکھتے ہیں ان سے جھگڑا رہا مگر اس میں بدنیتی قطعی نہیں میری صاف اور منہ پر بات کرنے کی عادت ہے ماضی میں سیاسی بنیادوں پر نوکریاں تقسیم کی گئیں ۔سول سوسائٹی حکومت کے غیر قانونی اور خلاف میرٹ اقدامات کا ساتھ نہیں دے گی اور اس کے خلاف مزاحمت کرے گی تب جا کر ہم ایک قوم بنیں گے ماضی کی زیادتیوں پر خاموش نہیں رہا جا سکتا جو ہر چیز کے لیے قانو ن نہیں بنایا جا سکتا یہ معاشرہ کی قوت ہوتی ہے جو اس پر عمل درآمد کرواتی ہے اور کوئی بھی حکومت ہواسے مجبور کرتی ہے ہر گھر میں پولیس کھڑی نہیں کی جا سکتی لوگوں کو احساس ذمہ داری کرنا ہو گا ہماری حکومت فرشتوں کی نہیں غلطیاں ہوئی ہوں گی ہمیں بھی اصلاح کی ضرورت ہے مگر ہماری نیت پر شبہ نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ صحافت یہ ہے کہ بلاخوف و خطر کام کیا جائے امید ہے کہ سنٹرل پریس کلب کی نومنتخب انظامیہ اپنے اہداف کی تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کرے گی اور معاشرہ کی مجموعی طور پر بہتری اور پیشہ وارانہ صحافت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے دارالحکومت کے صحافیوں پر بیس کیمپ کے حوالے سے بھی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔دریں اثناء وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ کی طرف سے کشمیری حریت پسند راہنما افضل گورو کوبے گناہ پھانسی دینا ہندوستان کے عدالتی نظام اور ہندوستانیوں کے اجتماعی ضمیر کے منہ پر طمانچہ ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ افضل گورو پر عائد الزامات ثابت نہیں ہو سکے لیکن بھارت کے عوام کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے انھیں پھانسی کی سزا دی جا رہی ہے دنیا بھر میں اس طرح کے عدالتی قتل کی مثال نہیں ملتی۔ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بھارتیوں کی انتہاء پسندانہ ذہنیت اور انتہا پسندانہ ضمیر کو مطمئن کرنے کی بدترین نظیر ہے۔ بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے خلاف آج ہندوستان کی اقلیتوں کے وہ لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں رکھتے ہیں۔ 9فروری 2013کوافضل گورو کے خون نا حق اور عدالتی قتل کے بعد انھیں جیل کے احاطہ میں ہی دفن کیا گیااور ان کی میت ان کے خاندان کے حوالے نہیں کی گئی جو کہ بدترین ہندو انتہاء پسندی کا عملی مظاہرہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیری حریت پسند راہنما افضل گورو شہید کی برسی کی مناسبت سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افضل گورو کو بے گناہ تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اور ان کا خون ناحق کیا گیا۔ ان کی شہادت سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو تقویت ملی ہے افضل گورو کشمیریوں کے ہیرو ہیں ان کا قصور صرف یہ تھاکہ انہوں نے کشمیریوں کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کی جو ہر کشمیری کا پیدائشی حق ہے۔ افضل گورو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ میں افضل گورو شہید پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور عدالت نے تسلیم کیا کہ افضل گورو پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ ثابت نہیں ہو سکے لیکن بھارتیوں کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے انھیں سزائے موت دی جا رہی ہے،یہ عدالتی قتل کی بدترین مثال ہے اور دنیا بھر میں اس طرح کے عدالتی قتل کی کوئی مثال نہیں ۔ افضل گورو کو پھانسی دینے کا اقدام ہندوستان کی انتہا پسندی اور ہندو ذہنیت کا واضح عکاس ہے۔ ہندوستان میں ہندوانتہاء پسندی دھشت گردی میں تبدیل ہو چکی ہے اس انتہاء پسندی اور دھشت گردی سے مسلمانوں سمیت کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے اور بھارت میں ہندو انتہا پسندی اور دھشت گردی کے خلاف اقلیتوں کا اٹھ کھڑا ہونا فطری عمل ہے دنیا کو بھارت کی اس انتہا پسندی کا نوٹس لینا ہو گا ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو جدوجہد جاری ہے وہ حق خودارادیت کی جدوجہد ہے کشمیریوں کا حق خودارادیت اقوام متحدہ نے تسلیم کر رکھا ہے۔ کشمیری اپنے پیدائشی حق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں شروع کر رکھی ہیں لیکن عالمی برادری نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ جس سے خطہ کا امن داؤ پر لگ گیا ہے۔ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ریاستی جبر اور کالے قوانین کا نوٹس لینا ہو گا۔اگر عالمی برادری نے کشمیر میں مظالم کا نوٹس نہ لیا تو خطہ تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -