سبحان خوڑ میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ منتظر خان اور ڈی پی او ظہور آفریدی کی کھلی کچہری

سبحان خوڑ میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ منتظر خان اور ڈی پی او ظہور آفریدی کی کھلی ...

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ) سبحان خوڑ میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ منتظر خان اور ڈی پی او ظہور آفریدی کی کھلی کچہری ۔ کھلی کچہری میں عوام نے مسائل کے انبار لگا دئیے ۔ محکمہ صحت ، ایری گیشن ، ٹی ایم اے اور محکمہ تعلیم کے خلاف شرکاء نے دل کا بھڑا س نکال دیا۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت کی ہدایات کے عین مطابق دیگر اضلاع کی طرح چارسدہ میں بھی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس حوالے سبحان خوڑ میں کھلی کچہری کاانعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر چارسدہ منتظر خان ، ڈی پی او ظہور آفریدی، اسسٹنٹ کمشنر ،دیگر مختلف سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی ۔ کھلی کچہری میں منتخب بلدیاتی نمائندوں ، تاجر رہنماؤں ، عمائدین علاقہ اور مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے اظہار خیال کر تے ہوئے میڈیسن کی دکانوں پر نشہ آور ادویات اور منشیات کے سر عام فروخت ، شبقدر ہسپتال میں سہولیات کے فقدان ، ٹریفک کی ابتر صورتحال ، کم عمر رکشہ ڈرائیور وں کی بھر مار اور شہر میں ناقص اشیائے خور د و نوش کی فروخت پر شدید تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے اسے ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دیا ۔ کھلی کچہری کے شرکاء نے کہا کہ شبقدر ہسپتال میں الٹرا ساؤنڈاور ای سی جی کے لئے لیڈ ی ڈاکٹر اور خاتون ٹیکنیشن موجود نہیں ہے جبکہ دن 12بجے کے بعد ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا ۔ شبقدر بازار سمیت بیشتر علاقے سوئی گیس کی نعمت سے محروم ہیں۔ شناختی کارڈ اور ڈومیسائل بنانے میں عوام کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے ۔ بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو چکی ہے ۔ ایری گیشن چینل بند ہونے کی وجہ سے معمولی بارش میں عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ شہر بھر میں ہتھ ریڑیوں کی بھر مار ہے جبکہ فٹ پاتھوں پر تاجروں نے قبضہ جما رکھا ہے ۔ شہر گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے جبکہ ٹی ایم اے اہلکار خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ہوائی فائرنگ روز کا معمول بن چکا ہے ۔ شہر میں قصائیوں کیلئے کوئی سلاٹر ہاؤس موجود نہیں ۔ حلیم زئی اور دیگر علاقوں میں آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء سر عام فروخت ہو رہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ شہریوں کے شناختی کارڈ عرصہ دراز سے بلا ک ہیں مگر ذمہ دار حکام کوئی تعاون نہیں کر رہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -تجزیہ -کراچی صفحہ اول -