دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ،کوکب اقبال کا کمشنر کراچی کو کھلا خط

دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ،کوکب اقبال کا کمشنر کراچی کو کھلا خط

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی تکلیف دہ ہے ، جس میں دودھ کی قیمتوں میں 20 سے 35روپے فی کلو اضافے کا عندیہ دیا گیا ہے ، یہی نہیں سپریم کورٹ کی جانب سے بھینسوں کے دودھ میں اضافہ کرنے والے RVST نامی انجکشن پر پابندی عائد ہونے سے بقول ڈیری فارمرز کے دودھ کے حصول میں کمی واقع ہوگئی ہے ۔یہ بات انہوں نے کمشنر کراچی کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہی ہے ۔ واضح رہے کہ کچھ دنوں سے شہر کراچی میں یہ خبر گردش کررہی ہے کہ ڈیری فارمرز اور ریٹیلرز دودھ کی قیمتوں میں ناجائز اور من مانہ اضافہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے مطابق دودھ کی قیمت 85روپے فی کلو سے 120یا 140 روپے فی کلو تک کرنے کی تیاری ہورہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھینسوں کو دودھ بڑھانے والے انجکشن پر پابندی کے تاریخ ساز فیصلے پر ڈیری فارمرز دودھ کی پیداوار میں کمی کا عندیہ دیکر حکومت کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ بھینسوں کو زائد دودھ کے حصول کے لیے لگائے جانے والے آر وی ایس ٹی نامی انجکشن کی فروخت پر پابندی عائد ہونے سے دودھ کی پیداوار میں کمی ہوگئی ہے۔جبکہ آپ کے دفتر میں منعقدہ کئی میٹنگوں میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ڈیری فارمرز اس انجکشن کا استعمال نہیں کرتے ۔ معزز عدالت نے بھینسوں کو لگنے والے ٹیکوں سے ملنے والے دودھ کو کینسر کا باعث قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیری فارمز آپ کے دفتر میں منعقد ہونے والی میٹنگوں میں جھوٹ بولتے رہے اور صارفین کو غیر معیاری دودھ کی سپلائی جو کینسر کا باعث ہے وہ صارفین کو بیچتے رہے سب سے پہلے تو آپ سے گزارش ہے کہ مضر صحت دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔ مضر صحت دودھ کی فروخت میں شامل دیگر اشیا سنگھاڑا، سرف شامل ہیں جس سے دودھ نہ صرف گاڑھا ہوجاتا ہے بلکہ رات گئے بھی خریداری کرنے پر مضر صحت اشیا شامل کرنے پر دودھ میں جھاگ ہوتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ فروخت ہونے والا دودھ خالص نہیں ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ فوری طور پر شہر کراچی میں فروخت ہونے والے دودھ کے نمونے لیبارٹری میں بھیج کر اس بات کی تصدیق کرائی جائے کہ شہریوں کو فروخت کیا جانے والا دودھ کتنا خالص ہے اور یہ کہ جس سے صارفین کی صحت متاثر نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ کراچی کی آبادی تقریباً پونے دو کروڑ کی ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق شہر کراچی میں کھلے دودھ کی طلب روزانہ 70لاکھ لیٹر ہے اس وقت حکومت کی مقرر کردہ قیمت 85روپے فی لیٹر ہے اگر ڈیری فارمز کے مطالبے پر 120روپے قیمت مقرر کی گئی تو عام صارف کی جیب پر 35روپے فی لیٹر کا اضافی بوجھ پڑے گا اور روزانہ اضافی 24کروڑ پچاس لاکھ روپے اور 7ارب 35کروڑ ماہانہ صارفین کی جیبوں سے نکل جائیں گے۔ آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ شہر کراچی میں میری موجودگی میں پرائس چیکنگ کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ دودھ فروخت کرنے والے ریٹیلرز کلو کے پیمانے کے بجائے سیر کا پیمانہ استعمال کررہے ہیں اس طرح وہ صارفین کا استحصال کررہے ہیں ایسے ریٹیلرز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -تجزیہ -راولپنڈی صفحہ آخر -کراچی صفحہ اول -