8 سالہ کشمیری بچی کا زیادتی کے بعد قتل، تحقیقات کرنے والا افسر ہی ملوث نکلا

8 سالہ کشمیری بچی کا زیادتی کے بعد قتل، تحقیقات کرنے والا افسر ہی ملوث نکلا
8 سالہ کشمیری بچی کا زیادتی کے بعد قتل، تحقیقات کرنے والا افسر ہی ملوث نکلا

  

سرینگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی پولیس نے 8 سالہ کشمیری بچی کے ساتھ زیادتی کے الزام میں ہیرا نگر پولیس سٹیشن کے ایک 28 سالہ پولیس اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری 10 جنوری کو اغوا کے بعد 17 جنوری کو قتل ہونے والی 8 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی ہے۔

گزشتہ ماہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سے 10 جنوری کو گھوڑے چرانے والی 8 سالہ بچی کو اغوا کرلیا گیا تھا۔ بچی کے والدین نے ہیرا نگر پولیس سٹیشن میں شکایت درج کرائی توتھانے کی طرف سے سپیشل پولیس افسر دیپک کھجاریہ کی اس کیس پر ڈیوٹی لگادی گئی، 17 جنوری کو بچی کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی اور اب تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس پولیس افسر (دیپک کھجاریہ) کی ڈیوٹی کیس کے حل کیلئے لگائی گئی تھی درحقیقت وہی اصل قاتل ہے۔

28 سالہ دیپک کھجاریہ کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے گرفتار کرلیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ کھجاریہ نے ایک کم عمر لڑکے کے ساتھ مل کر 8 سالہ بچی کو اغوا کیا اور ایک ہفتے تک مسلسل زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔ پولیس کی جانب سے جب شواہد پیش کیے گئے تو سفاک درندے نے اپنے گھناﺅنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

خیال رہے کہ 8 سالہ بچی کے بیہمانہ قتل کے خلاف کشمیری مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور 21 جنوری کو دھرنا دیا تھا۔ متاثرہ بچی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ جب وہ دھرنے پر بیٹھے تھے تو دیپک کھجاریہ ہی وہ پولیس اہلکار تھا جس نے سب سے پہلے مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیاتھا۔

مزید :

قومی -بین الاقوامی -جرم و انصاف -