منوہر پاریکر خواتین کی کثرتِ شراب نوشی کی عادت سے پریشان

منوہر پاریکر خواتین کی کثرتِ شراب نوشی کی عادت سے پریشان
منوہر پاریکر خواتین کی کثرتِ شراب نوشی کی عادت سے پریشان

  

پناجی (ڈیلی پاکستان آن لائن) گواکے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر ان دنوں خواتین کی کثرتِ شراب نوشی کی بڑھتی ہوئی عادت سے کافی پریشان ہیں ۔ منوہر پاریکر کا کہنا ہے کہ انہیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ لڑکیوں نے بھی شراب نوشی شروع کردی ہے، اور اب اس حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔

ریاست گوا کی یوتھ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر کا کہنا تھا کہ ریاست میں منشیات کے خلاف کریک ڈاﺅن کا آغاز کردیا گیا ہے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ریاست میں منشیات کا استعمال صفر کی سطح پر آجائے گا ، ’ میں نہیں سمجھتا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال ہو رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اب تک منشیات فروشی کے الزام میں 170 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے، قانون کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس سے کم مقدار میں منشیات برآمد ہوں تو اس کی ایک ہفتے سے ایک مہینے کے اندر ضمانت ہوجاتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مجرم پکڑا تو جاتا ہے لیکن عدالتوں کا رویہ اس کے ساتھ نرم ہوتا ہے۔

گوا میں روزگار کی فراہمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے منوہر پاریکر نے کہا کہ یہاں کے نوجوان سخت کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اسی لیے ایک جونیئر کلرک کی سرکاری نوکری کیلئے بھی درخواست گزاروں کی لمبی لائنیں لگی ہوتی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سرکاری نوکری میں انہیں کام کم کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ گوا بھارت کی ساحلی ریاست ہے جو اپنی تفریح گاہوں کے حوالے سے مشہور ہے اور یہاں ہر سال لاکھوں غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -