فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر356

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر356
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر356

  

موسیقار نثار بزمی کو فلم ساز نذیر صوفی نے اپنی فلم ’’ہیڈ کانسٹیبل‘‘ میں بھی موسیقار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ اس فلم کی موسیقی تو پسند کی گئی تھی مگر فلم فلاپ ہوگئی۔ نذیر صوفی ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین آدمی تھے مگر فلمی دنیا انہیں اور وہ فلمی دنیا کو راس نہ آسکے۔ پاکستان کا پہلا صدارتی ایوارڈ پانیوالے عکاس سہیل ہاشمی کو ’’عمر ماروی‘‘ کی لاجواب عکاسی کے لیے اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

کراچی میں یوں تو ان گنت افراد نے فلمی صنعت کی ترقی اور سربلندی کے لیے اپنے طور پر خدمات سرانجام دی تھیں مگر ان میں سرفہرست ہدایت کار شیخ حسن کا نام ہے۔

شیخ حسن ایک انتہائی باصلاحیت اور ہنرمند انسان تھے۔ افسوس کہ مناسب مواقع نہ ملنے کے باعث وہ پاکستان کی فلمی صنعت میں اپنے شایانِ شان مقام حاصل نہ کرسکے مگر انہوں نے کبھی کراچی چھوڑ کر لاہورکا رخ نہیں کیا۔ آزاد منش اور بے نیاز انسان تھے۔ کسی کی خوشامد یا پارٹی بازی سے ہمیشہ دور رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ممتاز اور کامیاب ہدایت کاروں کی صف میں جگہ نہ مل سکی۔ شیخ حسن نے فلمی دنیا کو ابراہیم جلیس، دکھی پریم نگری، رشید لاشاری اور موسیٰ کلیم جیسے لکھنے والوں کی طرف متوجہ کیا تھا۔ شیخ حسن ہی کی بدولت غلام نبی عبداللطیف ‘ غلام علی‘ لعل محمد اقبال اور نیاز احمد جیسے کامیاب اور ذہین موسیقار فلمی دنیا کو نصیب ہوئے تھے۔ انہوں نے ہی نگہت سلطانہ، عشرت چودھری، مشتاق چنگیزی، محمود لاسی، سلطانہ‘ ملک انوکھا، مقصود حسین اور بہت سے دوسرے فنکاروں کو پہلی بار کیمرے کے سامنے آنے کا موقع دیا تھا۔ افسوس کہ یہ شریف النفس اور ذہین ہنرمند فلمی دنیا میں اپنا جائز مقام حاصل نہ کرسکا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر355 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

عزیز تبسم جیسے ہدایت کار اور بدر منیر جیسے اداکاروں نے بھی کراچی ہی سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ کراچی کسی زمانے میں کمرشل فلموں اور دستاویزی فلموں کا مرکز تھا۔ مسٹر نصراللہ گزدر منصور بابر اور مسٹر مرچنٹ جیسے کامیاب لوگوں نے کراچی ہی سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ ان اشتہاری فلموں کا معیار بہت بلند تھا اور ان میں سے کئی فلموں نے ایوارڈز بھی حاصل کئے۔ یہ اعزاز بھی کراچی ہی کے حصّے میں آیا ہے کہ پاکستان کی پہلی سائنس فکشن ’’شانی‘‘ یہیں بنائی گئی۔ نامور ہدایت کار رفیق رضوی جو بمبئی سے آنے کے بعد کراچی میں ہی زیادہ تر فلمیں بناتے رہے، ان کے صاحبزادے سعید رضوی نے یہ فلم بنائی تھی۔

کراچی میں بہت سی کامیاب اور قابل ذکر فلمیں بنائی گئیں جنہیں صدارتی ایوارڈز کے علاوہ ’’نگار‘‘ ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ پاکستان میں نگار فلم ایوارڈ بمبئی کے فلم فیئر ایوارڈ کا ہم پلّہ رہا ہے ۔ کراچی کی جن فلموں نے صدارتی اور نگار ایوارڈزحاصل کئے، اب ذرا ان کی طویل فہرست بھی ملاحظہ کرلیجئے۔

سندھی فلم ’’عمر ماروی‘‘ ہمایوں مرزا کی فلم ’’بڑا آدمی‘‘ جعفر شاہ بخاری کی ’’فیصلہ‘‘ انسان بدلتا ہے‘‘ کمال کی ’’ہنی مون‘‘ ایس ایم یوسف کی ’’عید مبارک‘‘ پرویز ملک کی ’’دشمن‘‘ اجے کاردار کی ’’قسم اس وقت کی‘‘ شیخ حسن کی ’’جاگ اٹھا انسان‘‘ مسرور انور کی ’’بیوی ہو تو ایسی، چراغ جلتا رہا‘‘ اور فلم ساز ووہرا کی فلم ’’آگ کا دریا‘‘ اس کے ہدایت کار ہمایوں مرزا تھے۔ اداکاروں میں محمد علی، شمیم آرا، لہری اور ساقی نمایاں تھے۔ کراچی ہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اردو کے شہرۂ آفاق شاعر جوش ملیح آبادی نے کراچی کی فلم ’’آگ کا دریا‘‘ کے لیے نغمات تحریر کئے تھے۔ فلم ’’نئی لیلیٰ نیا مجنوں‘‘ ہدایت کار قمر زیدی کی فلم ’’سالگرہ‘‘ کے علاوہ کراچی کی سندھی فلموں نے بھی نگار ایوارڈز حاصل کئے۔ ان میں ’’ملن سوڈاپٹ سندجا‘ غیرت جو سوال، اجرک، حاضر سائیں، گھاتو گھر نہ آیا، سندھڑی تاں صدقے، امید ممتا، حیدر خاں‘‘ شامل ہیں۔ ’’زمانہ کیا کہے گا‘‘ (ہدایت کار و فلم ساز اقبال یوسف) ’’کرن اور کلی‘‘ اور ’’میخانہ‘‘ کو بھی نگار ایوارڈز مل چکے ہیں۔ میخانہ کے فلم ساز، ہدایت کار اور نغمہ نگار نخشب جارچوی تھے۔ کراچی کے فلم سازوں میں رؤف شمسی (کاشف فلمز) کا نام بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے لاہور میں فلمیں پروڈیوس کیں مگر ان کا مرکزی دفتر اور تقسیم کا ادارہ کراچی ہی میں تھا۔ رؤف شمسی نے ہدایت کار نذرالاسلام کے تعاون سے ’’بندش‘‘ جیسی سپرہٹ فلم بنائی تھی جس کی فلم بندی پہلی بار انڈونیشیا میں کی گئی تھی۔ اس کے بعد کسی اور پاکستانی فلم کی شوٹنگ انڈونیشیا میں نہیں ہوئی۔ ’’آئینہ‘‘ جیسی مایہ ناز فلم بھی رؤف شمسی ہی نے نذرالاسلام کے تعاون سے پروڈیوس کی تھی۔ اسی ادارے نے لاہور میں انتظار (ہدایت کار ایس سلیمان) زینت(ہدایتکار ایس سلیمان) انسانیت (ہدایت کار ایس سلیمان) اور موم کی گڑیا جیسی فلمیں بھی بنائی تھیں۔ معروف شاعر، حمایت علی شاعر کراچی ہی سے نغمہ نگار کے طور پر لاہور آئے تھے۔ یہاں انہوں نے کہانی نویسی کے علاوہ فلم سازی اور ہدایت کاری بھی کی اور بہت نام کمایا۔

اداکارہ رانی کو رانی کراچی نے بنایا۔ویسے تو انکا تعلق لاہور سے تھا ۔وہ مزنگ کے مردم خیز محلّے میں پیدا ہوئی تھیں مگرپھر تقدیر کے ستارے انہیں کراچی لے گئے جہاں ان کے سوتیلے والد ملازمت کے سلسلے میں چلے گئے تھے۔ یہیں ان کی والدہ نے انہیں معروف مغنیّہ اور اداکارہ مختار بیگم کی تحویل میں دے دیا تھا۔

مختار بیگم سُرسنگیت کی ملکہ تھیں۔ ان کی نگرانی اور سرپرستی میں فریدہ خانم اور نسیم بیگم جیسی گلوکاراؤں نے تربیت حاصل کی تھی۔ انہوں نے رانی کو بھی پہلے تو موسیقی سے روشناس کرانے کی کوشش کی لیکن جب انہیں گلوکاری کی مطلوبہ صلاحیتوں سے محروم پایا تو رقص کی تربیت دی اور ایک ماہر رقاصہ بنا دیا۔

رانی کا اصلی نام ناصرہ تھا۔جب انہوں نے شوبزنس کی دنیا میں قدم رکھا تو انہیں رانی کا نام دیا گیا۔ پھر تو ایسا ہوا کہ قریبی لوگوں کے سوا کسی کو بھی ان کا اصلی نام یاد نہیں رہا۔ سب انہیں رانی کہہ کر ہی پکارتے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو رانی کا شمار بھی کراچی کے فن کاروں ہی میں کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ کراچی کے راستے پاکستان کی فلمی دنیا میں آئی تھیں۔

ایمی مینوالا نے رقاصہ کے طور پر بہت شہرت اور پذیرائی حاصل کی۔ ایمی کراچی ہی میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا تعلق پارسی فرقے سے تھا۔ کراچی کے معروف میٹروپول ہوٹل کے مالک سائرس مینوالا ان کے ماموں تھے۔ ایمی کو بچپن ہی سے رقص کا شوق تھا۔ ان کی والدہ نے بھی اس شوق کو پروان چڑھایا اور انہیں باقاعدہ کلاسیکی رقص سکھانے کا اہتمام کیا۔ ایمی میٹروپول ہوٹل میں رقص کرتی تھیں۔ ان دنوں کراچی کے ہوٹلوں میں رقص کا رواج تھا۔ میٹروپول ہوٹل کو کراچی کے ہوٹلوں میں بہت ممتاز مقام حاصل تھا۔ یہ جگہ غیر ملکی سیّاحوں کا ٹھکانا تھی۔ ایمی کا کلاسیکی انداز کا رقص بھی میٹروپول ہوٹل کی ایک خصوصیت سمجھا جاتا تھا۔ خاص طور پر غیر ملکی سیّاح اس کے بہت دلدادہ تھے۔

ایمی کو سب سے پہلے ’’نگار‘‘ ویکلی کے ایڈیٹر الیاس رشیدی صاحب نے تلاش کیا اور جب لاہور میں ’’نگار ایوارڈز‘‘ کی تقریب منعقد ہوئی تو ایمی مینوالا کو خاص طور پر اس میں رقص پیش کرنے کے لیے مدعو کیا۔ ساری فلمی صنعت اس تقریب میں موجود تھی۔ ایمی کے رقص خصوصاً ’’مورناچ‘‘ نے ہر ایک کو متوجہ کرلیا۔ یہیں سے ایمی کی شہرت اور فلمی زندگی کا آغاز ہوا۔ جب لاہور کے فلم سازوں کی آفرز میں بے پناہ اضافہ ہوگیا تو ایمی اپنی والدہ اور بھائی کے ہمراہ کراچی سے لاہور منتقل ہوگئیں۔

ایمی ہی کی طرح رخسانہ (چیکو) کو بھی نگار فلم ایوارڈز کی تقریب کی بدولت ہی فلمی دنیا تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔ وہ بھی نگار ایوارڈز کی ایک تقریب میں شریک ہونے کے لیے لاہور آئی تھیں اورپھر یہیں کی ہوکر رہ گئی تھیں مگر ان کا آغاز کراچی ہی سے ہوا تھا۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر357 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -