کوئی حکومت ہمارے ترقیاتی منصوبوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی، شاہد خاقان عباسی

کوئی حکومت ہمارے ترقیاتی منصوبوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی، شاہد خاقان عباسی
کوئی حکومت ہمارے ترقیاتی منصوبوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی، شاہد خاقان عباسی

  

میانوالی(ڈیلی پاکستا ن آن لائن)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے، جمہوریت کا تسلسل برقرار رہے گا تو ملک ترقی کرے گا، 2018ء کے بعد بھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت قائم ہوگی، موجودہ دور حکومت میں جتنے کام ہوئے ہیں اتنے 65 سال میں نہیں ہوئے ، سینیٹ انتخابات میں لوٹ کھسوٹ اور ضمیر فروشی کرنے والے عوام کے نمائندے نہیں ہوسکتے، جو لوگ ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونگے انہیں بے نقاب کریں گے،عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے خدمت کرنے والوں کو ووٹ دینے ہیں یا محض وعدے کرنے والوں کو ؟شرافت کی سیاست کرنے والوں کو منخب کرنا ہے یا الزام تراشی اور دشنام طرازی کرنے والوں کا انتخاب کرنا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ این اے 71کے عوام بھی مسلم لیگ(ن) کو ووٹ دیں گے ۔

میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں گیس فراہمی کے منصوبے کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے ,اس موقع پر این اے 71سے رکن قومی اسمبلی عبیداللہ خان شادی خیل نے بھی خطاب کیا جبکہ اجتماع میں اراکین قومی اسمبلی سردار ممتاز ٹمن، جاوید اخلاص، صوبائی وزراء راجہ اشفاق سرور، تمکین نیازی ، مسلم لیگ(ن) کے رہنما حنیف عباسی، انجم عقیل اور صدیق الفاروق بھی موجود تھے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عیسیٰ خیل آ کر انہیں خوشی ہوئی ہے، عبید اللہ شادی خیل اور ہم نے 25سال اکٹھے سیاست کی ہے، اس علاقے میں سوئی گیس کے منصوبہ کا افتتاح کرنے پر بڑی خوشی ہوئی ہے ، یہ پنجاب میں سوئی گیس کا بڑا منصوبہ ہے جس پر2 ارب30 کروڑ روپے لاگت آئے گی، پورے این اے 71 کے عوام کو سوئی گیس کی فراہمی ہمارا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت اورنواز شریف کا کارنامہ ہے، جب ہماری حکومت آئی تو اس وقت ملک میں نئے گیس کنکشنوں پر پابندی عائد تھی ، آج جس کوبھی سوئی گیس کا کنکشن چاہئے اسے مل رہا ہے، سی این جی سٹیشنوں پر لمبی قطاریں ختم ہوچکی ہیں،2013 ء کے عام انتخابات میں عوام نے (ن) لیگ کو جو مینڈیٹ دیا تھا یہ اس کے ثمرات ہیں، آج اربوں روپے کی اس علاقے میں موٹروے بن رہی ہے ، حسن ابدال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹرے وے کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ، اس سے علاقہ کی تقدیر بدل جائے گی، دوسرے علاقوں میں کام کرنے والوں کو اپنے علاقے میں روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں چترال سے گوادر تک گیس ، بجلی ، شاہراہوں، صنعتوں اور ہسپتالوں سمیت دیگرمنصوبے ملیں گے یہ نواز شریف اور(ن) لیگ کا عوام کیلئے تحفہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2013ء سے پہلے 65 سالوں میں اتنے کام نہیں ہوئے جتنے ان پانچ سالوں میں ہوئے ہیں یہ ووٹ کی کامیابی ہے،1999ء سے 2008ء تک ملک میں آمریت رہی اور2008 سے 2013ء تک پیپلزپارٹی کی حکومت رہی تاہم ہمارے دور کے منصوبوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پورا یقین ہے کہ 2018ء میں مسلم لیگ(ن) دوبارہ برسراقتدار آئے گی ، این اے 71سے عبیداللہ شادی خیل کامیاب ہونگے، ترقی کا سفر یہیں سے دوبارہ شروع کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میانوالی سے نزدیک ہی خیبرپختونخوا کا صوبہ شروع ہوتا ہے جہاں پر دوسری جماعت کی حکومت ہے تاہم پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے مقابلہ نہیں ہوسکتا، آج دیگرصوبوں میں بھی یہی آوازیں آرہی ہیں کہ کاش ہمیں بھی شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ ملے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جولائی2018ء میں عوام نے فیصلہ کرنا ہے،مسلم لیگ(ن) نے شائستگی ، خدمت اور شرافت کی سیاست کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہونے جارہے ہیں جس جماعت کا ایک صوبے میں ایک ایم پی اے بھی نہیں وہاں اس کے امیدوار کیسے منتخب ہوسکتے ہیں اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ووٹ خریدے جائیں ، ہم نے ا یسی سیاست کے خلاف جہاد کرنا ہے اورجو لوگ ووٹ خرید کر سینیٹ میں آئیں گے انہیں بے نقاب کرنا ہے، ان کو عوامی عدالت میں لے جائیں گے ، ایسے لوگ پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتے ، وہ سینیٹ کو کچھ نہیں دے سکتے، ہم نے اس سیاست کو ختم کرنا ہے جولوگ ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں گے ان کا مقابلہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایگری ٹیک کے ملازمین کی بحالی سابق وزیراعظم نواز شریف کی خصوصی مہربانی سے ہوئی، اگلے ماہ سے اس منصوبے کیلئے گیس ملے گی اور یہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت بنی تو اس وقت پاکستان 10 لاکھ ٹن کھاد درآمد کررہا تھا، پاکستان میں کارخانے بند تھے ، دھمکیوں کے باوجود ہم نے کھاد کے کارخانوں کوگیس دی اور رواں سال پاکستان سے چھ لاکھ ٹن اضافی کھاد برآمد کی گئی، یہ ہماری اورماضی کی حکومتوں کا فرق ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم پر جلسوں میں الزامات لگائے گئے لیکن ہم کسی پر الزام نہیں لگاتے، خیبرپختونخوا حکومت نے بجلی کے منصوبوں کیلئے گیس مانگی تو ہم نے 100ملین کیوبک فٹ گیس ان کے حوالے کی تاہم آج چار سال گزرنے کے باوجود کوئی ایک میگاواٹ کا منصوبہ بھی نہیں لگ سکا، شہباز شریف نے باہر سے آنے والی گیس پر3600میگاواٹ کے منصوبے لگائے، یہ ریکارڈکی باتیں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ کے پی کے کو خط لکھا ہے کہ آپ کے صوبے میں بجلی کے منصوبے نہیں لگ رہے اس لئے جو گیس آپ کو دی گئی ہے وہ منصوبے لگنے تک ایگری ٹیک منصوبے کیلئے دی جائے تاہم چار سال گزرنے کے باوجود اس کا جواب نہیں دیاگیا ، اس کے باوجود بھی ہم ایگری ٹیک منصوبوں کو گیس دے رہے ہیں، ہمیں کہا گیا کہ آپ کو عدالتوں میں گھسیٹیں گے ، ہم نے اس کی پرواہ نہیں کی ، یہ غریبوں کے لئے ہے اور ہم یہ گیس انہیں دیں گے، ہم نے یہ بھی پیشکش کی کہ کے پی کے کو دی جانے والی گیس دی جائے بے شک عمران خان کی تصویریں لگا کر ہی دے دیں تاہم ایسا بھی نہیں کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مسان انٹرچینج ضرور بنے گا جبکہ کلور انٹرچینج بھی بنایا جائے گا، میانوالی میں میڈیکل کالج بھی بنے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ جس علاقے سے گیس نکلتی ہے وہاں کے پانچ کلومیٹر کے احاطہ میں بسنے والوں کو فوری طور پر گیس دی جائے ، یہاں پر پنجاب حکومت صنعتی زون بنا رہی ہے جس سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ پانی کی سکیموں کے ملازمین کی تنخواہ کے مسئلے کے حل کیلئے وزیراعلیٰ سے بات کریں گے ۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -میانوالی -