غیر ملکی قرضوں اور سود سے نجات کیلئے کوئی فکرمند نہیں، تعلیم، صحت اورانصاف کیلئے پارلیمنٹ نےبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا: ڈاکٹر حسین محی الدین

غیر ملکی قرضوں اور سود سے نجات کیلئے کوئی فکرمند نہیں، تعلیم، صحت اورانصاف ...
 غیر ملکی قرضوں اور سود سے نجات کیلئے کوئی فکرمند نہیں، تعلیم، صحت اورانصاف کیلئے پارلیمنٹ نےبھی کوئی کردار ادا نہیں کیا: ڈاکٹر حسین محی الدین

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک منہاج القرآن کے صدر ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام کو درپیش معاشی، تعلیمی اور صحت کے مسائل پر ایوانوں سے ٹھنڈی ہوائیں نہیں آرہیں، 70 سال کے بعد بھی پاکستان کے عوام تعلیم اور صحت کی معیاری، بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، آج بھی 80فیصد عوام صاف پانی سے محروم ہے، انصاف کے حصول کا طویل دورانیہ پر خود عدالتوں کے معزز ججز بھی پریشان ہیں، پارلیمنٹ کو قانون سازی کے محاذ پر جو کردار ادا کرنا تھا وہ نہیں ہوا جس کی سزا پاکستان کا ایک عام غریب آدمی بھگت رہا ہے۔

دو روزہ تنظیمی دورہ پر اسلام آباد اور میانوالیروانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسین محی الدین نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد حالات اتنے برے نہیں تھے جو آج بتدریج ہو چکے ہیں،1947 ء میں پاکستان ایک غریب ملک ضرور تھا مگر مقروض اور اغیار کا کاسہ لیس نہیں تھا، آج ہم بتدریج غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں پھنس کر اپنی خودمختاری کو رہن رکھ بیٹھے ہیں اس بات پر کوئی فکر مند نہیں کہ غیر ملکی قرضے اور سود مرکب سے جان کیسے چھڑوانی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کچھ حقوق و فرائض کے ساتھ بہترین نظام ہے مگر جمہوریت کے سہارے پر اقتدار حاصل کرنے والے اپنے فرائض بھول چکے ہیں، پاکستان کے عوام ہی حکومتوں، ایوانوں اور اداروں کا قبلہ درست کر سکتے ہیں، پاکستان کے عوام کو کرپشن، لوٹ مار، قتل و غارت گری اور تعلیم، صحت کی سہولتوں کے فقدان پر خاموش تماشائی نہیں بنے رہنا چاہیے، اپنے حق کیلئے پاکستان کے عوام خود نہیں بولیں گے تو کوئی اور بھی نہیں بولے گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -