یہ تصویر کس عرب اسلامی ملک کی ہے اور یہاں کیا ہورہا ہے؟ اس کی حقیقت جان کر آپ کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی

یہ تصویر کس عرب اسلامی ملک کی ہے اور یہاں کیا ہورہا ہے؟ اس کی حقیقت جان کر آپ ...
یہ تصویر کس عرب اسلامی ملک کی ہے اور یہاں کیا ہورہا ہے؟ اس کی حقیقت جان کر آپ کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی

  

مسقط(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا انسان مریخ پر پہنچ گیا؟ ذرا ان تصاویر کو دیکھئے، ان سے تو یہی لگتا ہے کہ خلانورد مریخ کی سطح پر چہل قدمی کر رہے ہیں۔ ارے بھئی، یہ مریخ نہیں بلکہ اسلامی ملک عمان کا صحرائے زوفار ہے۔ دراصل اس صحرا کا ایک حصہ سیارہ مریخ کی سطح سے اس قدر مشابہت رکھتاہے کہ دنیا کے 25 ممالک سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد سائنسدان مریخ پر بھیجے جانے والے خلائی مشن کی ٹریننگ کے لئے یہاں پہنچ گئے ہیں۔اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے پرامن خلائی استعمال کی جانب سے سیارہ مریخ کی سمیولیشن پر مشتمل تجربات کا اہتمام کیا گیا ہے اور سائنسدانوں نے دنیا کے مختلف حصوں کے معائنے کے بعد عمان کے صحرائے زوفار کو ان تجربات کے لئے منتخب کیا۔ 

اس صحرائی علاقے میں جاری تجربات کی کچھ تصاویر حال ہی میں سامنے آئی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ گمان کرنا مشکل ہے کہ یہ کرہ ارض کے مناظر ہیں۔ خلائی سوٹ پہنے ہوئے سائنسدان یہاں مختلف قسم کے تجربات میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایک تصویر میں دو سائنسدانوں کو دیکھا جاسکتاہے جو خلائی سوٹ میں ملبوس ہیں اور مریخ کی سطح کا نقشہ تیار کرنے والے جیو ریڈار کو استعمال کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ 

ایک اور تصویر میں سفید رنگ کے اگلو جیسی رہائش گاہیں نظر آتی ہیں جنہیں سائنسدان اس صحرائی علاقے میں اپنی رہائش کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اسی طرح صحرا میں اونچے نیچے ٹیلوں پر خلائی گاڑیاں بھی چلتی ہو ئی دیکھی جاسکتی ہیں۔ سائنسدان اس صحرا میں جدید ترین خلائی ٹیکنالوجی اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں جن میں 50کلوگرام وزنی خلائی سوٹ بھی شامل ہیں۔ وہ یہاں اپنا زیادہ تر وقت اسی خلائی سوٹ میں گزارتے ہیں اور ان کی شب و روز کی سرگرمیاں بھی بالکل خلاء میں کی جانے والی سرگرمیوں جیسی ہیں۔ 

سائنسدنوں کا کہنا ہے کہ اس صحراء کی مریخ کی سطح سے مشابہت کی وجہ سے سائنسدانوں کو یہاں وقت گزارنے سے بہت فائدہ حاصل ہوگا۔ مستقبل میں جب یہ خلانورد مریخ کے لئے روانہ ہوں گے تو وہاں کے ماحول میں انہیں اجنبیت محسوس نہیں ہوگی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -عرب دنیا -