دو کشمیری مجاہدین نے 16گھنٹے بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر’’ بہادر ہندوستانی فوج‘‘ کو تگنی کا ناچ نچانے کے بعد جام شہادت نوش کر لیا

دو کشمیری مجاہدین نے 16گھنٹے بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر’’ بہادر ...
دو کشمیری مجاہدین نے 16گھنٹے بھارتی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر’’ بہادر ہندوستانی فوج‘‘ کو تگنی کا ناچ نچانے کے بعد جام شہادت نوش کر لیا

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)دو کشمیری مجاہدین نے 16گھنٹے بھارتی فوج کے بڑے ہیڈ کوارٹر میں گھس کر’’ بہادر ہندوستانی فوج‘‘ کو تگنی کا ناچ نچانے کے بعد جام شہادت نوش کر لیا ،فوجی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیاروں سمیت جدید ترین اسلحہ سے لیس سینکڑوں بھارتی فوجی دو کشمیری مجاہدین پر16گھنٹے مقابلے کے بعد اپنے فوجی ہڈ کوارٹر کا قبضہ چھڑانے میں کامیاب ،آپریشن مکمل کرنے کے باوجود مجاہدین سے خوفزدہ بزدل بھارتی فوج اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ،گھر گھر تلاشی اور علاقے کا مکمل محاصرہ کر کے مشتبہ مجاہدین کی تلاشی کا عمل جاری ۔

انڈین نجی ٹی وی چینل’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق آج علی الصبح ساڑھے چار بجے کے قریب بھارتی فوج کی وردیوں میں ملبوس دو سے تین مسلح کشمیری مجاہدین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے سینجوان فوجی ہیڈ کوارٹر میں بڑا حملہ کر دیا تھا ،مجاہدین کے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک جبکہ 11شدید زخمی ہو گئے تھے جبکہ 2زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک بتا ئی جا رہی ہے،مجاہدین کے حملے کے فوری بعد بھارتی فوج کی بھاری نفری نے پورے آرمی کیمپ کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا ،جبکہ بھارتی فوج نے 2 مجاہدین کا مقابلہ کرنے کے لئے ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیاروں کی  مدد بھی حاصل کی اور دن بھر  فوجی ہیلی کاپٹرز اور ڈرون طیارے مسلسل فوجی ہیڈ کوارٹر کے اوپر منڈلاتے رہے تاہم ان 2  کشمیری مجاہدین نے پورے 16 گھنٹے بزدل بھارتی فوج کو تگنی کا ناچ نچایا اور بالآخر جام شہادت نوش کر گئے ۔

دوسری طرف بھارتی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے سینچوان آرمی کیمپ پر ہونے والا یہ بڑاحملہ جہادی تنظیم جیش محمد نے کیا ہے اور بھارتی فوج نے بڑی جرات کے ساتھ ان مجاہدین کا مقابلہ کیا اور شام گئے ان دونوں حملہ آوروں کو مار گرایا۔انہوں نے کہا کہ مارے جانے والے دونوں مجاہدین کا تعلق جیش محمد سے ہے اور ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ، ہینڈ گرنیڈ اور اے کے فورٹی سیون رائفلز  بھی برآمد ہوئی ہیں ۔واضح رہے کہ آج سے 12سال قبل2006ء میں بھی کشمیری مجاہدین نے ہندوستانی فوج کی اس بڑی چھاؤنی پر حملہ کرتے ہوئے12انڈین فوجیوں کو جہنم رسید کیا تھا ،اُس حملے میں بھی درجنوں فوجی زخمی ہوئے تھے ۔

بھارتی فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور بھارتی فوج سینچوان چھاؤنی کے ایک ایک کمرے اور انچ انچ کی تلاشی لے رہی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ مارے جانے والے مجاہدین کے دیگر ساتھی اب بھی فوجی چھاؤنی میں موجود ہیں ،آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آخری دہشت گرد کو مار نہیں دیا جاتا تاہم دوسری طرف ایک اور بھارتی ٹی وی ’’ زی نیوز ‘‘ کا کہنا تھا کہ آپریشن مکمل ہو چکا ہے تاہم اب بھی تلاشی کا عمل جاری ہے اور سیکیورٹی ادارے علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے وہاں موجود گھروں کی مکمل جامہ تلاشی لے رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد انڈین وزیر داخلہ اور سیکیورٹی اداروں نےبھی  سر جوڑ لئے ہیں اور مقبوضہ وادی میں بڑھتی ہوئی مسلح جدوجہد سے نبٹنے کے لئے نئی حکمت عملی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔دوسری طرف ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ مجاہدین مسلسل بھارتی فوج اور پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں مگر ہماری فوج انتہائی بہادر ہے جو ان دہشت گردوں کا پورے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے ۔یاد رہے کہ ہندوستان نے 7لاکھ سے زائد بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں تعینات کیا ہوا ہے اور چند ہزار مجاہدین اور لاکھوں نہتے کشمیریوں نے آزادی کی تحریک میں کوئی کمی نہیں آنے دی بلکہ تحریک آزادی ہر گذرتے دن کے ساتھ مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے ۔

مزید :

بین الاقوامی -