خدا اور خدا کا رسول ﷺ

خدا اور خدا کا رسول ﷺ
خدا اور خدا کا رسول ﷺ

  

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ کے تمام صحابہ کرام ؓ ہمارے لئے انتہائی قابل ِ احترام اور سروں کے تاج ہیں، جن کی مدد سے اسلام پوری دنیا میں پھیلا اور اللہ کی وحدانیت کی فتح ہوئی اور کفر کو شکست ہوئی۔ رسول اللہؐ کے ہر ساتھی کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی حیثیت ہے، جن کے مقام اور حیثیت کا کوئی اور ثانی نہیں ہے۔ہم کسی کے مقام کا تعین کرنے کی جرات نہیں رکھتے ہیں، لیکن جو مقام اور حیثیت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے دی اس سے بخوبی پتہ چل جاتا ہے۔ آج ہم تمام صحابہ کرام ؓ میں اہم مقام رکھنے والے سیدنا ابوبکر صدیق   ؓ کا  ذکر کرنے کی جرأت کر رہے ہیں،جو اعزازاور سربلندی حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔آپ یارِغارومزار اور سرکارِدو عالم حضرت محمد مصطفی   ؐ کے سب سے افضل اورعظیم المرتبہ صحابی ہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق  ؓ کا نام اسلام قبول کرنے سے قبل عبدالکعبہ یعنی”کعبہ کا بندہ“ تھا اور اسلام قبول کر لینے کے بعد اللہ کے رسول محمدؐ خاتم النبین نے آپ کا نام بدل کر عبداللہ یعنی ”اللہ کا بندہ“رکھ دیا۔حضرت عبداللہ ؓ  کو آپ نے صدیق کے لقب سے نوازا اور ابوبکر کے نام سے بھی بلایا۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق  ؓ زیادہ تر اپنی کنیت ابوبکر اور اپنے لقب صدیق سے بہت مشہور ہوئے۔دنیازیادہ تر آپ ؓ  کو اسی کنیت اورلقب سے ہی پہچانتی اور یاد کرتی ہے۔

سیدناابو بکر صدیق  ؓ وہ خوش قسمت انسان ہیں جنہیں حضوراکرمؐ نے زندگی میں کئی مرتبہ جنت کی بشارت اور خوشخبری دی اورعشرہ مبشرہ صحابہ کرام میں بھی آپ کا نام سرِ فہرست ہے۔آپ ؓ کی بیٹی حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ  کو حضرت محمد حضور اکرمؐ کی زوجہ محترمہ اور اُم المومنین  ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

تاریخ اسلام کے اوراق خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق  ؓ کے روشن ومنور زندگی، سیرت وکردار اور سنہرے کارناموں سے روشن ہیں،جس کی ضوفشانی سے قیامت تک آنے والے مسلمان و حکمران ہدایت و راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے زمانہ جاہلیت میں بھی پاکیزہ زندگی گزاری۔اسلام قبول کرنے سے قبل ہی بلند کردار،اعلیٰ اخلاق،امانت ودیانت،اور خدا ترسی میں مشہور تھے آپ اپنی کمائی کا بڑا حصہ غرباو مساکین پر خرچ کر دیتے تھے آپ نے شہر مکہ میں مہمان خانہ بھی بنا رکھا تھا۔ایسی خداترسی پر اللہ تعالیٰ آپ کو دولت سے نوازتا گیا۔اور یہ دولت و مال اسلام کی راہ میں خوب استعمال ہوا۔ غزوہئ تبوک کے موقع پر سید المرسلین،خاتم النبین حضرت محمد ؐ نے تما م صحابہ کرامؓ  کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال جمع کرانے کا حکم فرمایا۔حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں اس سوچ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مال لے کر حضوراکرم ؐ  کی خدمت اقدس میں پیش ہو ا کہ کاش میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر سبقت لے جاؤں۔

حضورنبی اکرمؐ نے مجھ سے فرمایا اے عمر ؓاپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا آدھا مال لے آیا ہوں اور آدھا گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔اس موقع پر حضرت عثمان غنی ؓ جو اپنی سخاوت اور خداترسی میں مشہور تھے اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرامؓ نے بھی راہِ ٰخدامیں بہت بڑھ چڑھ کر مال دیا۔ اسلام کی راہ میں صحابہ کرام کا یہ جذبہ وخلوص دیکھ کر حضرت محمد مصطفیﷺ بہت خوش تھے، لیکن جو قربانی وایثار حضرت ابو بکر صدیق   ؓ نے دکھایا اس کو دیکھ کر سب ہی حیران رہ گئے حضرت ابوبکر صدیق  ؓ نے اپنا تمام مال و اسباب لاکر حضورؐ کے قدموں میں نچھاور کر دیا۔حضور اکرمؐ نے اس موقع پر فوراً حضرت ابوبکر صدیق   ؓ سے دریافت فرمایا کہ اے ابوبکرؓ  تم اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ حضرت ابو بکر صدیق  ؓ نے جواب میں عرض کیا ”خدا اور خداکا رسول“ سیدنا حضرت عمر فاروق   ؓ کہتے ہیں کہ میں نے جواب سن کر دِل میں کہا کہ اب میں کبھی بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس موقع پر حضرت ابو بکر  صدیق  ؓ کی اللہ اور اس کے رسول ؐ کے لئے مال و دولت کے ساتھ ایثار و قربانی کو اپنے خوبصور ت انداز میں حضرت علامہ اقبالؒ نے یوں بیا ن کیا ہے کہ

 پروانے کو چراغ بلبل کو پھول بس

صدیق ؓ کے لئے ہے خدا کا رسول بس

 اللہ تعالی نے حضور نبی اکرمؐ  کو معراج کی رات آسمانوں کی سیر کرائی حضورؐنے جب واپس آنے کے بعد واقع معراج  بیان فرمایا تو لوگ اسے جھٹلاتے ہوئے مختلف سوالات کے ذریعہ مذاق کرنے لگے، لیکن آپؓ نے سنتے ہی اس کی تصدیق کر دی تو نبی کریم ؐ کی زبان مبارک سے آپ کو ”صدیق“ کا لافانی لقب عطا ہوا اور آسمانوں سے خدا نے قرآن کی صورت میں وحی نازل کرکے اس کی تائید کی۔ ایک موقع پر حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے بھی ہم پر احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ اسے دیدیا سوائے ابوبکرؓ کے۔ اس کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دن اُنہیں اللہ تعالیٰ دے گا کسی کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا نفع مجھے ابوبکرؓ کے مال نے دیا ہے۔

شیر خدا حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کے سلسلے میں سب سے زیادہ اجر وثواب ابوبکرؓ  کو ملے گا،کیونکہ سب سے پہلے قرآن کریم کتاب کی صورت میں آپؓ نے ہی جمع کیا۔ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی زندگی حضورؐ کی محبت و عقیدت سے بھری پڑی ہے اور غار ثور کے واقعہ کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے۔

غار ثور میں نبی کریمؐ کی خاطر داری کا بلند ترین اعزاز بھی حضرت ابوبکر صدیق  ؓ  کو نصیب ہوا۔ غار کے اندر تمام سوراخ بند کرنے کے بعد جب ایک سوراخ بند نہ ہو سکا اور نبی کریم ؐ آپ کے زانو پر سراقدس رکھ کر سو گئے، تو کیڑے مکوڑوں سے حفاظت کے لئے اس ایک سوراخ پر صدیق اکبرؓ نے اپنی ایڑھی رکھ دی، اس سوراخ میں ایک سانپ تھا، جس نے انہیں ڈس لیا۔ شدت تکلیف کے باوجود پہلو نہ بدلا کہ نبی کریمؐ بے آرام نہ ہوجائیں، مگر آنسوؤں کے چند قطرے بے اختیار نکل کر حضرت محمد مصطفی  ؐکے چہرہ مبارک پر جا گرے، جس سے آپؐ کی آنکھ کھل گئی آپ نے فوراً وجہ دریافت کی اور آپ ؐ نے اپنا لعاب دہن آپ کے پیر کے زخم پر گایا، جس سے اسی وقت تکلیف ختم ہوئی۔ زندگی میں جو اعزاز و مقام حضرت ابوبکر صدیق  ؓ کو ملا۔موت کے بعد بھی آپؓ اسی اعزاز کے مستحق ٹھہرے آپؓ کی لحد  سرکار دو عالم ؐ  کی بائیں جانب اسی طرح بنائی گئی کہ آپ ؓ  کا  سر حضورؐ کے شانہ مبارک تک آتا ہے۔اسلام اور دین کی ترویج کے لئے آپ کی گراں قدر خدمات اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں و روشن اور قابل ِ فخر باب ہے۔

مزید :

رائے -کالم -