پروفیسر غفور کے بعد قاضی حسین احمد بھی....!

پروفیسر غفور کے بعد قاضی حسین احمد بھی....!
پروفیسر غفور کے بعد قاضی حسین احمد بھی....!

  

ساٹھ سے ستر کی دہائی کے دوران طلباءسیاست عروج پر رہی۔ خصوصی طور پر ایوب خان کے آخری سالوں میں یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تحریک بھی چل رہی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلباءپاپولر طلباءتنظیم تھی۔ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد پیپلزسٹوڈنٹس فیڈریشن بھی بن گئی جبکہ بائیں بازو کے نظریات کے حامل طلباءاین ایس ایف اور این ایس او سے منسلک تھے۔ 1969ءاور 1970ءکے ادوار میں یونیورسٹی سیاست کا اکھاڑہ بن گئی، ان دنوں یہاں امریکہ مخالف نعرے بائیں بازو اور پیپلز پارٹی کی تنظیمیں لگاتی تھیں۔” امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے“ اور” ایشیا سرخ ہے“ ان کے معروف اور پسندیدہ نعرے تھے دوسری طرف اسلامی جمعیت طلباءتھی جو ایشیا کو سبزقرار دیتی اور اپنی تقریروں میں بائیں بازو پر حملے کرتی تھی یوںبائیں بازو والوں کا رخ ادھر ہوتا تو وہ جمعیت اور جماعت اسلامی کو امریکہ کے حامیوں میں شمار کرتے تھے اور پھر یہ صورت حال آگے بڑھ گئی اور یونیورسٹی سے قومی سیاست میں بھی امریکہ مخالف لابی جماعت اسلامی کو امریکی لابی کی جماعت ہی قراردیتی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت قاضی حسین احمد کے پاس آگئی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1989ءمیں صدر صدام نے ایڈونچر کیا اور عراق کی فوجیں کویت پر چڑھ دوڑیں اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا دو مسلمان ممالک کی جنگ سے پوری دنیا کے مسلمان مضطرب ہو گئے تھے اور اس جنگ کو رکوانے کے لئے اپنے انداز سے کوشش کرنے لگے تھے ان دنوں پاکستان کی دینی جماعتوں میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماءپاکستان زیادہ سرگرم تھیں۔ قاضی حسین احمد اور مولانا شاہ احمد نورانی اپنے اپنے طور پر اس لڑائی کو رکوانے کی اپیلیں اور کوشش کر رہے تھے اسی جنگ کے دوران پاکستان کے علماءکرام پر مشتمل ایک وفد بھی جائزہ لینے گیا۔ قاضی حسین احمد سربراہ تھے۔ وہ جب واپس آئے تو انہوں نے فلیٹیز ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں حالات بتائے اور یہ بھی بتایا کہ وفد بال بال بچا کہ جس طیارے میں وہ تھے وہ بھی فائرنگ کی زد میں آ گیا تھا اس پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد نے بہت ہی زوردار دلائل کے ساتھ امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا اور بش سینئر کو جنگ کا ذمہ دار قرار دیا یہ پریس کانفرنس امریکہ مخالف ہوگئی، جب بات ختم ہو گئی اور چاءکی دعوت دی گئی تو ہم نے آگے بڑھ کر قاضی حسین احمد کے ہاتھ چومے اور عرض کیا ”آج سے میں آپ کا قائل ہو گیا اور حامی بن گیا ہوں“۔

بات دراصل یہ تھی کہ الزام درست یا غلط جو بھی تھاجماعت اسلامی کو ”پرو امریکہ“ ہی قرار دیا جاتا تھا، یہ قاضی حسین احمد تھے جنہوں نے عراق کویت جنگ کے اثرات کے حوالے سے درد مندی سے بات کی اور امریکہ مخالف نعرہ لگایا اگر یہ کہا جائے کہ قاضی حسین احمد نے جماعتی پالیسی کا رخ موڑ کر رکھ دیا تو کچھ غلط نہیں ہوگا تب سے اب تک جماعت اسلامی تسلسل کے ساتھ امریکی پالیسیوں کی ناقد ہے اور قاضی صاحب تو مدلل بات کیا کرتے تھے۔

قاضی حسین احمد آج اس دنیا میں نہیں، وہ اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو چکے ہیں ان کی وفات کے بعد ان کے بارے میں لکھنے والوں نے جو کچھ لکھا وہ شاید ہی کسی اور رہنما کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہو ان کو اپنے پرائے سبھی خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ہم نے ایک رپورٹر کی حیثیت ہی سے ان کو قریب سے دیکھا وہ سخت سوالات کے جواب بھی مسکرا کر دھیمے انداز میں دیا کرتے لیکن عراق کویت جنگ کے بعد ان کے لہجے میں امریکہ کے لئے تلخی چھپی نہیں رہتی تھی۔ ملکی سیاست کے حوالے سے ان کی ذات کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ایک امر بالکل واضح ہے کہ وہ ابتدا ہی سے دینی جماعتوں کے اتحاد کے قائل تھے اور کوشش بھی کرتے تھے یہی وجہ آئی جے آئی میں جانے کا سبب اور پھر ایم ایم اے کی تشکیل کا ذریعہ بنی۔ متحدہ مجلس عمل کو صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) میں اقتدار ملنا اس مجلس عمل کے لئے اچھا ثابت نہ ہوا، اسی اقتدار کے باعث جمعیت علماءاسلام (ف) کے ساتھ اختلافات بنے اور ایم ایم اے بکھر گئی الزام قاضی حسین احمد پر لگایا گیا ان کی جماعت جوابی طور پر مولانا فضل الرحمن کے بارے میں یہی کہتی رہی۔ قاضی حسین احمد اور مولانا شاہ احمد نورانی کے درمیان بہت ہم آہنگی تھی ان دونوں حضرات کے علاوہ خود مولانا فضل الرحمن بھی فخریہ بیان کرتے تھے کہ متحدہ مجلس عمل نے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کر دیا اور سب کو ایک میز پر بٹھا دیا ہے یوں تو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ان بزرگوں سے مسلسل اور تواتر کے ساتھ رابطہ رہا ان حضرات نے الگ الگ تاثر چھوڑا جہاں تک قاضی حسین احمد کا تعلق ہے تو ہم کویت پر عراق کی چڑھائی کے بعد قاضی حسین احمد کے مو¿قف سے بہت متاثر رہے اور ان کا بہت ہی احترام کیا جوابی طور پر ان کی خوبصورت مسکراہٹ سے مستفید ہوتے رہے۔ اللہ کے نیک بندے تھے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

ان سے پہلے جماعت اسلامی ہی کے ایک اور اہم ترین رہنما پروفیسر غفور احمد بھی بہت بڑا خلاءچھوڑ کر اللہ کو پیارے ہوئے ان کو اعتدال پسند رہنما شمار کیا جاتا تھا، دھیمے لہجے میں بات کرنے والے یہ بزرگ اپنے مو¿قف پر بہت سختی سے قائم رہتے تھے پاکستان قومی اتحاد کے پہلے جنرل سیکرٹری رفیق احمد باجوہ اپنی نیک نیتی کے ساتھ بھٹو سے مل لئے اور حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کی اصول پرستی کا نشانہ بن گئے تو یہ عہدہ پروفیسر غفور احمد ہی کو تفویض ہوا تھا اس حیثیت سے ان کو لاہور میں زیادہ قیام کرنا ہوتا تھا اور یوں وہ لاہور کے صحافیوں میں بھی اپنے حسن سلوک کے باعث مقبول ہو گئے تھے، پروفیسر غفور احمد ذوالفقار علی بھٹو سے مذاکرات والی ٹیم کا حصہ تھے انہوں نے اس دور کے حوالے سے اپنی کتاب میں بہت واضح طور پر لکھا کہ جنرل ضیاءالحق نے غلط اقتدار سنبھالا کیونکہ 4 جولائی 1977ءکی شب پاکستان قومی اتحاد اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان معاہدہ ہو گیا تھا یہی بات نوابزادہ نصراللہ بھی کہتے رہتے پروفیسر غفور احمد پاکستان قومی اتحاد کی اس ٹیم کا حصہ تھے جن کو جنرل ضیاءالحق نے کابینہ میں شامل کیا وہ پیداوار کے وزیر رہے ہم خود اس امر کے چشم دید گواہ ہیں کہ کئی بار پروفیسر غفور احمد نے قومی اتحاد کے زبردست حامیوں کا بھی کام یہ کہہ کر کرنے سے معذرت کر لی کہ قواعد کے مطابق نہیں یا یہ درست نہیں ہے۔ یوں انہوں نے اپنی دیانت کو ثابت کیا۔ جنرل ضیاءالحق کے ساتھ پاکستان قومی اتحاد زیادہ دیر نہ چل سکا اور سب لوگ وزارتوں سے الگ ہو گئے بعد ازاں پروفیسر غفور احمد نے ایک سے زیادہ بار یہ اعتراف کرنے میں حرج نہ جانا کہ ضیاءالحق کی کابینہ میں شرکت یقینا غلط فیصلہ تھا۔ وہ اپنی جماعت کے باہر اعتدال پسند رہنما کے طور پر ہی جانے جاتے تھے اور ان کا احترام بھی کیا جاتا تھا، نیک آدمی اور دھیمے مزاج کے رہنما تھے۔ ٭

مزید :

کالم -