بلدیاتی نظام پر اتفاق نہ ہوا تو سندھ کی تقسیم کا نعرہ لگے گا: الطاف حسین

بلدیاتی نظام پر اتفاق نہ ہوا تو سندھ کی تقسیم کا نعرہ لگے گا: الطاف حسین
بلدیاتی نظام پر اتفاق نہ ہوا تو سندھ کی تقسیم کا نعرہ لگے گا: الطاف حسین

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے گورنر جنرل بنتے ہوئے حلف اٹھایا تھا، ”میں برطانیہ کا وفادار“ رہوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم سے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے حلف لیا جس میں اُنہوں نے یہ الفاظ ادا کئے کہ وہ برطانیہ کے وفادار رہیں گے ۔ یہی نہیں، تین گورنر جنرلز نے بھی وہی حلف لیا جو قائد اعظم نے لیا تھا۔ لال قلعہ گراﺅنڈ عزیز آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آج تاریخ کے اوراق کھولنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ’کہا جاتا ہے پاکستان 1947ءمیں آزاد ہوا جبکہ پاکستان 1947ءسے 1956ءتک برطانوی بادشاہت کے زیر اثر رہا۔ 1947ءسے 1952ءتک جارج ششم پاکستان کے بادشاہ اور ملکہ الزبتھ دوئم 1952ءسے 1970ءتک ملکہ رہیں جبکہ 23 مارچ 1956ءکو پاکستان میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ الطاف حسین نے دعویٰ کرتے ہو ئے کہا کہ وہ ثابت کردیں گے کہ قائد اعظم کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 99 فیصد عوام کو تاریخ سے آگاہ نہیں کیا گیا،’ میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میں اور میرے ہم عصر جو اب بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں، انہیں یا ہم سے پہلے گزرجانے والی نسل کو اصل تاریخی اور زمینی حقائق سے سچائی کے ساتھ آگاہ نہیں کیا گیا اور تاریخ کو یکسر تبدیل کردیا گیا جبکہ اکابرین کی اکثریت بھی یہ بھول بیٹھی کہ تاریخ کو تبدیل کرکے وہ مجرمانہ فعل کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ 14 جنوری کے لانگ مارچ میں شرکت ضرور کریں گے، کس آئین میں لکھا ہے کہ حکومت میں رہ کر لانگ مارچ میں شرکت نہیں کرسکتے۔ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہرالقادری اور وہ دہری شہریت رکھتے ہیں ، ’اگر بینظیر بھٹو اور نوازشریف برسوں باہر رہیں تو وہ جائز ہے اور اگر کوئی مجبوراً کسی ملک کی شہریت حاصل کرے تو اس کی حب الوطنی مشکوک ہو جاتی ہے‘۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ وہ مجبور ہیں کہ اُن کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ نہیں جبکہ کئی لوگ دس دس سال تک ڈپلومیٹک پاسپورٹ پرملک سے باہر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دیوار سے نہ لگایا جائے کہ کہیں ہم سندھ کی تقسیم کا مطالبہ نہ کر بیٹھیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نہ تو سندھ کی تقسیم چاہتی ہے اورنہ ہی اردو بولنے والوں کے لئے علیحدہ صوبہ مگر بلدیاتی نظام پر اتفاق نہ ہوا تو سندھ کی تقسیم کا نعرہ لگے گا۔ الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہم اقتدار کے بھوکے نہیں، اگر گورنر کو ہٹانا ہے تو کل کے بجائے آج ہٹادو، جو جاگیردار ملک کے مخالف تھے ان کی اولاد آج اقتدار میں بیٹھی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام ہے مگر ملک میں جمہوری حکومتیں ہی بلدیاتی انتخابات کرانے سے قاصر رہتی ہیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو حقیقتاً جمہوریت پسند اور جمہوریت کی رو مطابق ملک میں اس کا نفاذ چاہتی ہے۔ 

مزید :

کراچی -اہم خبریں -