کوئٹہ دھماکوں سے گونج اٹھا، پانچ گھنٹوں میں تین دھماکے، 92 افراد جاں بحق، 150 سے زائد زخمی

کوئٹہ دھماکوں سے گونج اٹھا، پانچ گھنٹوں میں تین دھماکے، 92 افراد جاں بحق، 150 ...
کوئٹہ دھماکوں سے گونج اٹھا، پانچ گھنٹوں میں تین دھماکے، 92 افراد جاں بحق، 150 سے زائد زخمی
کوئٹہ دھماکوں سے گونج اٹھا، پانچ گھنٹوں میں تین دھماکے، 92 افراد جاں بحق، 150 سے زائد زخمی

  

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) علمدار روڈ پر یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں 81 افراد جاں بحق اور 163 سے زائد افراد زخمی ہو گئے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق علمدار روڈ پر موجود ایک سنوکر کلب میں دھماکہ ہوا جس کی اطلاع ملنے پر پولیس، امدادی ٹیم اور میڈیا ورکرز موقع پر پہنچے تو دوسرا دھماکہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایس پی خالد مسعود، ڈی ایس پی مجاہد، ایس ایچ و ظفر ، 8 پولیس اہلکاروں، چار ایدھی رضاکاروں اور نجی ٹی وی کے کیمرہ مین سمیت 81 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 163 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق پہلا دھماکہ خودکش تھا جبکہ دوسرا دھماکہ سنوکر کلب کے باہر کھڑی گاڑی میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا جبکہ ان دھماکوں میں 100 کلو کے قریب بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ سی سی پی او کوئٹہ میر زبیر کے مطابق دھماکے میں ڈی ایس پی، ایس ایچ او، نو پولیس اہلکاروں سمیت 81 افراد جاں بحق ہوئے اور 121 زخمی ہوئے جبکہ ایس پی قائد آباد زخمی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 25 لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ایک شورش زدہ علاقہ بن چکا ہے، آج کوئٹہ میں قیامت کا منظر تھا۔ سی ایم ایچ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 163 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ اس سے قبل سہ پہر چار بجے کے قریب باچا خان چوک پر ایف سی کی چیک پوسٹ کے قریب دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار سمیت 11افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہو گئے ۔ زخمیوں میں ایف سی اہلکار ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ قریبی عمارتوں، دکانوں اور 10 سے زائد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی گاڑیاں الٹ گئی جبکہ ایف سی کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور دھماکے کے مقام پر گہرا گڑھا پڑ گیا۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں 20 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا جو ایک گاڑی کے نیچے رکھا گیا تھا۔ 

مزید :

کوئٹہ -Headlines -Breaking News -