اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت!

اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت!
اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت!

  


چین پاکستان کا بہترین دوست ہے۔امریکہ بھی ”دوست“ ہوا کرتا تھا۔وہ اب بھی ”دوستی“ کا دعویٰ کرتا ہے اور شاید آئندہ بھی پاکستان کا ”دوست“ رہے، مگر اس کی دوستی ہمیشہ اس شعر کے مصداق ہی رہی ہے....”ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو“؟....پاک چین دوستی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہمالیہ سے اونچی اور بحیرئہ عرب سے زیادہ گہری ہے۔یہ بات شاید محبت میں محاورتاً کہہ دی جاتی ہے، لیکن چین نے بہر طور اس کو ہمیشہ اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا اچھا دوست ہے۔اچھا دوست وہی ہو سکتا ہے، جسے دوست ہونا آتا ہو۔چین تو اس وصف سے مالامال ہے۔چین یہ بھی جانتا ہے کہ ماضی میں حکومتیں چین سے بھاری مالی تعاون حاصل کرکے کس طرح ہڑپ کر جایا کرتی تھیں اور عوام کے ہاتھ کچھ نہیں لگتا تھا، لیکن جب کبھی چین کو یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں بہتر لوگ برسراقتدار آ گئے ہیں تو وہ دو قدم اور آگے بڑھ کر یہاں ایسے میگاپراجیکٹس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے،جس کا براہ راست تعلق ہماری قومی اور ملکی ترقی سے ہوتا ہے۔ ماضی میں تعمیر کردہ شاہراہ ریشم اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔کچھ عرصہ قبل گوادر کی تعمیر کا ذمہ بھی چین کو دیا گیا،جس سے بین الاقوامی سطح پر بعض ”دوست“ ممالک کی آنکھیں چندھیا گئیں۔بلاشبہ بعض عناصر پاکستان میں کسی بھی پراجیکٹ میں مشغول چینی انجینئروں اور دیگر کارکنوں کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے،لیکن اس کے باوجود چینیوں کے عزم میں کمی نہیں آئی۔

دوسری جانب گزشتہ 12برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا بینڈ بج رہا ہے۔اس کے پچاس ہزار شہری اپنی جانیں دے چکے ہیں، افواج پاکستان کے افسر اور جوان اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما ہیں۔پاکستان کے حساس ترین مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔معیشت بالکل تباہ و برباد ہوئی۔ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا رہا اور اب بھی ہے، لیکن جب پاکستان کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی ضرورت پڑی تو امریکہ نے کمال ذمہ داری اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا پراجیکٹ نہ صرف بھارت کی گود میں ڈال دیا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کی ٹرانسفر کا معاہدہ بھی سائن کرلیا۔اس کے علاوہ بھی امریکہ اور بھارت سٹرٹیجک محاذ پر بہت سے معاہدے کررہے ہیں۔رواں برسوں کے دوران ہونے والے بھارت امریکہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔اس سے بین الاقوامی طاقتوں کے جنوبی ایشیائی خطے کے حوالے سے عزائم کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے۔

برادر ملک چین نے بہرحال اپنا ایک کردار ضرور ادا کیا ہے،جس کی وجہ سے چین کو پاکستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور حیران کن امر ہے کہ یہ معاملہ بھی مغرب اور مغربی میڈیا کے لئے کافی اچنبھے کا باعث ہے۔اسی لئے ”فنانشل ٹائمز“ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی سے پاکستان میں چین کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان پہلا ملک ہوگا، جہاں چین پہلی بار ایٹمی پلانٹ تعمیر کرے گا اور کراچی کے دو ایٹمی بجلی گھروں کے لئے بھی چین نے معاونت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔یہ خبر ایک برطانوی اخبار میں شائع ہوئی ہے۔اس میں کتنی صداقت ہے ، اس کا تعین تو وہ ریاست ہی کر سکتی ہے ،جہاں یہ انویسٹمنٹ ہورہی ہے۔

یہ امر بہرحال پاکستان کے لئے خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت کم از کم صحیح سمت کی جانب رواں دواں ہے اور وہ توانائی کے بحران سمیت دیگر مشکلات پر قابو پانے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔اس میں بعض مشکل اور پیچیدہ فیصلے بھی ہیں، جو عوامی غیظ و غضب کا باعث بنتے ہیں، جس طرح انڈسٹریوں کو گیس فراہم کرنے کے لئے اگر سی این جی سٹیشن بند کرنے کی بات کی جائے تو عام آدمی اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اگر موجودہ حکومت ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کے قیام کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، جس طرح کُھسروں کے گھر بچہ پیدا ہو تو وہ اسے چوم چوم کر مار دیتے ہیں، یہی حال پاکستانی قوم نے سوئی گیس کے ساتھ کیا ہے۔منتخب نمائندوں نے دور درازدیہات اور ایسے ایسے مقامات پر سوئی گیس پھیلا دی کہ اس کی قلت پیدا ہونا ہی تھی، ان سیاستدانوں کا مطمحئنظر صرف ووٹ ہوتے ہیں، حالانکہ سوئی گیس پر پہلا حق انڈسٹریز کا ہوتا ہے کہ صنعتیں چلتی ہیں تو لوگوں کا روزگار بھی چلتا ہے اور ملک کی گاڑی بھی چلتی رہتی ہے۔بدقسمتی سے ملک چلانے کا دعویٰ کرنے والے نہ گاڑی چلا سکے، نہ کوئی ٹرین اور نہ کوئی جہاز۔گویا جہاز گراﺅنڈ نہیں ہوتے ، ملک گراﺅنڈ ہوجایا کرتے ہیں۔گویا کسی ادارے کی اوورہالنگ کی ضرورت ہے تو ریلوے اور پی آئی اے اس میں سرفہرست ہیں۔خواجہ سعد رفیق کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے کم از کم ریلوے ٹریک پرچلتی ہوئی ٹرینوں کی آوازیں تو سننے کو مل رہی ہیں۔پچھلے وزیر رہتے تو شاید لوگ بچوں کو ٹرین دکھانے میوزیم لے جایا کرتے۔ بہر کیف جو ادارے خسارے میں جا رہے ہوں، وہاں کے ملازمین کی تنخواہ پچاس ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔اگر یہ ادارے ملک کو کما کر دے رہے ہوں اور ان کی کوئی کنٹری بیوشن ہو تو پھر اس کے ملازمین پچاس پچاس لاکھ ماہانہ تنخواہیںبھی لیں تو کسی کو بُرا نہیں لگے گا،لیکن جب صورت حال اس کے بالکل برعکس ہو تو پھر شاہانہ خرچوں اور بھاری تنخواہوں کی وصولی ملازمین کا حق نہیں ہوتا۔دیگر ممالک اگر کسی ملک کے مالی اور تکنیکی طور پر معاونت کر بھی رہے ہوں تو تب تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، جب تک لوگوں میں خود اپنا گھرٹیک کرنے کی تمنا انگڑائی نہیں لیتی۔اپنی اپنی سطح پر ہر ادارے اور ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا کہ یہ عشق نہیں آساں ، اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے!  ٭

اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت!

چین پاکستان کا بہترین دوست ہے۔امریکہ بھی ”دوست“ ہوا کرتا تھا۔وہ اب بھی ”دوستی“ کا دعویٰ کرتا ہے اور شاید آئندہ بھی پاکستان کا ”دوست“ رہے، مگر اس کی دوستی ہمیشہ اس شعر کے مصداق ہی رہی ہے....”ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو“؟....پاک چین دوستی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہمالیہ سے اونچی اور بحیرئہ عرب سے زیادہ گہری ہے۔یہ بات شاید محبت میں محاورتاً کہہ دی جاتی ہے، لیکن چین نے بہر طور اس کو ہمیشہ اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا اچھا دوست ہے۔اچھا دوست وہی ہو سکتا ہے، جسے دوست ہونا آتا ہو۔چین تو اس وصف سے مالامال ہے۔چین یہ بھی جانتا ہے کہ ماضی میں حکومتیں چین سے بھاری مالی تعاون حاصل کرکے کس طرح ہڑپ کر جایا کرتی تھیں اور عوام کے ہاتھ کچھ نہیں لگتا تھا، لیکن جب کبھی چین کو یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں بہتر لوگ برسراقتدار آ گئے ہیں تو وہ دو قدم اور آگے بڑھ کر یہاں ایسے میگاپراجیکٹس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے،جس کا براہ راست تعلق ہماری قومی اور ملکی ترقی سے ہوتا ہے۔ ماضی میں تعمیر کردہ شاہراہ ریشم اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔کچھ عرصہ قبل گوادر کی تعمیر کا ذمہ بھی چین کو دیا گیا،جس سے بین الاقوامی سطح پر بعض ”دوست“ ممالک کی آنکھیں چندھیا گئیں۔بلاشبہ بعض عناصر پاکستان میں کسی بھی پراجیکٹ میں مشغول چینی انجینئروں اور دیگر کارکنوں کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے،لیکن اس کے باوجود چینیوں کے عزم میں کمی نہیں آئی۔

دوسری جانب گزشتہ 12برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا بینڈ بج رہا ہے۔اس کے پچاس ہزار شہری اپنی جانیں دے چکے ہیں، افواج پاکستان کے افسر اور جوان اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما ہیں۔پاکستان کے حساس ترین مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔معیشت بالکل تباہ و برباد ہوئی۔ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا رہا اور اب بھی ہے، لیکن جب پاکستان کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی ضرورت پڑی تو امریکہ نے کمال ذمہ داری اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا پراجیکٹ نہ صرف بھارت کی گود میں ڈال دیا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کی ٹرانسفر کا معاہدہ بھی سائن کرلیا۔اس کے علاوہ بھی امریکہ اور بھارت سٹرٹیجک محاذ پر بہت سے معاہدے کررہے ہیں۔رواں برسوں کے دوران ہونے والے بھارت امریکہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے۔اس سے بین الاقوامی طاقتوں کے جنوبی ایشیائی خطے کے حوالے سے عزائم کی بخوبی نشاندہی ہوتی ہے۔

برادر ملک چین نے بہرحال اپنا ایک کردار ضرور ادا کیا ہے،جس کی وجہ سے چین کو پاکستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور حیران کن امر ہے کہ یہ معاملہ بھی مغرب اور مغربی میڈیا کے لئے کافی اچنبھے کا باعث ہے۔اسی لئے ”فنانشل ٹائمز“ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی سے پاکستان میں چین کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان پہلا ملک ہوگا، جہاں چین پہلی بار ایٹمی پلانٹ تعمیر کرے گا اور کراچی کے دو ایٹمی بجلی گھروں کے لئے بھی چین نے معاونت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔یہ خبر ایک برطانوی اخبار میں شائع ہوئی ہے۔اس میں کتنی صداقت ہے ، اس کا تعین تو وہ ریاست ہی کر سکتی ہے ،جہاں یہ انویسٹمنٹ ہورہی ہے۔

یہ امر بہرحال پاکستان کے لئے خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت کم از کم صحیح سمت کی جانب رواں دواں ہے اور وہ توانائی کے بحران سمیت دیگر مشکلات پر قابو پانے کے لئے اقدامات کررہی ہے۔اس میں بعض مشکل اور پیچیدہ فیصلے بھی ہیں، جو عوامی غیظ و غضب کا باعث بنتے ہیں، جس طرح انڈسٹریوں کو گیس فراہم کرنے کے لئے اگر سی این جی سٹیشن بند کرنے کی بات کی جائے تو عام آدمی اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اگر موجودہ حکومت ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کے قیام کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، جس طرح کُھسروں کے گھر بچہ پیدا ہو تو وہ اسے چوم چوم کر مار دیتے ہیں، یہی حال پاکستانی قوم نے سوئی گیس کے ساتھ کیا ہے۔منتخب نمائندوں نے دور درازدیہات اور ایسے ایسے مقامات پر سوئی گیس پھیلا دی کہ اس کی قلت پیدا ہونا ہی تھی، ان سیاستدانوں کا مطمحئنظر صرف ووٹ ہوتے ہیں، حالانکہ سوئی گیس پر پہلا حق انڈسٹریز کا ہوتا ہے کہ صنعتیں چلتی ہیں تو لوگوں کا روزگار بھی چلتا ہے اور ملک کی گاڑی بھی چلتی رہتی ہے۔بدقسمتی سے ملک چلانے کا دعویٰ کرنے والے نہ گاڑی چلا سکے، نہ کوئی ٹرین اور نہ کوئی جہاز۔گویا جہاز گراﺅنڈ نہیں ہوتے ، ملک گراﺅنڈ ہوجایا کرتے ہیں۔گویا کسی ادارے کی اوورہالنگ کی ضرورت ہے تو ریلوے اور پی آئی اے اس میں سرفہرست ہیں۔خواجہ سعد رفیق کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے کم از کم ریلوے ٹریک پرچلتی ہوئی ٹرینوں کی آوازیں تو سننے کو مل رہی ہیں۔پچھلے وزیر رہتے تو شاید لوگ بچوں کو ٹرین دکھانے میوزیم لے جایا کرتے۔ بہر کیف جو ادارے خسارے میں جا رہے ہوں، وہاں کے ملازمین کی تنخواہ پچاس ہزار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔اگر یہ ادارے ملک کو کما کر دے رہے ہوں اور ان کی کوئی کنٹری بیوشن ہو تو پھر اس کے ملازمین پچاس پچاس لاکھ ماہانہ تنخواہیںبھی لیں تو کسی کو بُرا نہیں لگے گا،لیکن جب صورت حال اس کے بالکل برعکس ہو تو پھر شاہانہ خرچوں اور بھاری تنخواہوں کی وصولی ملازمین کا حق نہیں ہوتا۔دیگر ممالک اگر کسی ملک کے مالی اور تکنیکی طور پر معاونت کر بھی رہے ہوں تو تب تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، جب تک لوگوں میں خود اپنا گھرٹیک کرنے کی تمنا انگڑائی نہیں لیتی۔اپنی اپنی سطح پر ہر ادارے اور ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا کہ یہ عشق نہیں آساں ، اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے!  ٭

مزید : کالم


loading...