8جنوغلط جنگی طریقے ، غلط جنگ اور غلط لوگوں کے خلاف

8جنوغلط جنگی طریقے ، غلط جنگ اور غلط لوگوں کے خلاف
8جنوغلط جنگی طریقے ، غلط جنگ اور غلط لوگوں کے خلاف

  


ری 2014ءکو اسلام آباد میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں ہمارے امورِ خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر جناب سرتاج عزیز صاحب نے کہا کہ : ”امریکہ ایک غلط جنگ، غلط طریقوں سے اور غلط لوگوں کے خلاف لڑ رہا ہے“۔

.... سبحان اللہ! سرتاج عزیز کے اس ایک فقرے میں معانی کا ایک سمندر ہے جو کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔اسی قسم کا ایک اور ”کوزہ“ امریکہ کے ایک سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس چار روز پہلے واشنگٹن ہی کی ایک تقریب میں اپنی اس کتاب کے بارے میں منظر عام پر لا چکے ہیں جو 14جنوری 2014ءکو ”رونمائی“ کے لئے تیار بتائی گئی ہے۔اس کتاب کا ذکر بعد میں.... پہلے سرتاج عزیز صاحب کے فرمودئہ دیروز (Yesterday) کی بات کرتے ہیں۔

ایک طویل عرصے سے جناب سرتاج عزیز صاحب کی شخصیت مجھے کئی اعتبارات سے بڑی مسحورکن لگتی ہے....ایک تو ان کا اپنا نام ہے....ان کو ہم نے بہت برس پہلے دیکھا تھا تو تب بھی ان کے سر پر بالوں کا کسی بھی قسم کا کوئی تاج نہیں تھا اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔یہ بھی خبر نہیں کہ انہوں نے اپنے وزیراعظم کے اندازِ بال و پر کی تقلید کیوں نہیں کی۔لیکن یہ ان کا انتہائی ”نجی معاملہ“ ہے، ہمیں اس میں دخل اندازی یا اس پر تبصرہ نگاری کا کوئی حق نہیں....

دوسری بڑی خوبی جناب سرتاج عزیز صاحب میں یہ ہے کہ ان کا سروس پروفائل نہایت گوناگوں خوبیوں سے مزین ہے ۔مثلاً انہوں نے عنفوانِِ شباب میں سی ایس پی کیا۔ مالیاتی امور میں خصوصی دلچسپی لی، اقوام متحدہ میں رہے،نوازشریف صاحب کے ہر دور میں وزیر خزانہ رہے، فری مارکیٹ اکانومی کے داعی ہیں، نصف درجن کتب کے مصنف ہیں،بیکن ہاﺅس یونیورسٹی کے ایک شعبے کے سربرہ رہے (اور شائد اب بھی ہوں گے)اور آج بھی دیکھ لیں امور خارجہ اور امور قومی سلامتی پر وزیراعظم کے مشیر ہیں.... کہنے کو تو وہ مشیر ہیں لیکن دوسرے ”تمام مقاصد“ (All Purposes)کے تناظر میں وزیرخارجہ بھی ہیں اور وزیر قومی سلامتی بھی ....ان کی تیسری خوبی میرے نزدیک سب سے انوکھی اور دلچسپ کہی جا سکتی ہے۔ان کی عمر اب ماشاءاللہ 85برس ہے، مادری زبان پشتو ہے، مردان سے تعلق ہے لیکن اردو زبان پر وہ قدرت کہ اہلِ زبان ہونے کا گمان گزرتا ہے۔،اتنے پھرتیلے اور چاق و چوبند ہیں کہ ہوائی جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے ہوئے بارک اوباما تک کو بھی مات دیتے معلوم ہوتے ہیں۔جب بولتے ہیں تو گفتگو میں ایسی روانی ،برجستگی اور تیزی ہے کہ سننے والا پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ بہت آگے نکل جاتے ہیں۔

اب ان کے اس فقرے کا ایجاز اور اختصار ملاحظہ فرما دیں کہ فرماتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی یہ جنگ جو گزشتہ 13،14برس سے لڑی جا رہی ہے غلط ہے، اس کے طریقے (Methods) بھی غلط ہیں اور جن لوگوں (افغانوںاور پشتونوں) کے خلاف لڑی جا رہی ہے، وہ بھی اوباما کی غلطی ہے۔

یہی بات جو جناب سرتاج عزیز نے کہی ہے، امریکہ کے بہت سے سیاسی قائدین اور ملٹری کمانڈر بھی کہہ چکے ہیں۔ڈرون حملوں کی مذمت درجنوں امریکی لیڈروں اور دانش وروں نے کی ہے۔ان کے کئی کمانڈر جو افغانستان میں آئے، انہوں نے بھی یہی تجزیہ اوباما کو پیش کیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اس امر کی توثیق کی کہ پاکستان (اور دوسرے اسلامی ممالک) پر ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں۔

Methodologyاور Strategyکے الفاظ کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔یہ وہی تعلق ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے مفہوم میں ہے۔سائنس تھیوری ہے اور ٹیکنالوجی اس کی پریکٹس ہے۔اسی طرح سٹرٹیجی، تھیوری ہے اور میتھوڈالوجی، اس کی پریکٹس ہے۔سرتاج عزیز صاحب نے ”غلط Methodology“ کی ترکیب اسی موخر الذکر معانی کے تناظر میں استعمال کی ہے۔ آج تک افغانستان کی اس چودہ سالہ جنگ میں ناٹو اور ایساف کے جو کمانڈر آئے، ان میں نصف سے زیادہ نے یہی کہا کہ امریکہ کی Methodology غلط ہے۔ قارئین اگر سرتاج عزیز صاحب کے الفاظ (Wrong Method)کو اس پس منظر میں رکھ کر دیکھیں تو اس ترکیب کی بلاغت واشگاف ہو کے سامنے آ جائے گی۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

اور جب وہ ”غلط لوگوں“ کی بات کرتے ہیں تو اہلِ افغانستان اور اہلِ فاٹا کی روائتی، قبائلی، ثقافتی اور حربی خصوصیات کے دریا کو گویا کوزے میں بند کردیتے ہیں۔اوباما ایڈمنسٹریشن کو درجنوں مشیروں نے مشورہ دیا کہ دیکھئے افغانستان، آپ کے لئے دوسرا ویت نام بن جائے گا۔ اس لئے واحد عالمی طاقت ہونے کے زعم کو جانے دیجئے۔لیکن وہ نہ مانے اور اب کبھی طالبان کی طرف دستِ تعاون بڑھاتے ہیں تو کبھی اپنے مشرق وسطیٰ کے ایک بہت مالدار اتحادی کے وزیر خارجہ کو اسلام آباد بھیجتے ہیں کہ جایئے اور پاکستان کے توسط سے کوئی ایسی Methodologyنکالئے کہ 2014ءکے اختتام پر،1996ءکے دورِ طالبان کا بارِ دگر آغاز نہ ہو جائے!

جہاں تک رابرٹ گیٹس کا تعلق ہے تو ان کا کیرئر پروفائل بھی قابلِ رشک ہے۔تعلیمی کیرئر ملاحظہ کریں کہ بی اے میں ”تاریخ“ کے مضمون میں امتیاز حاصل کیا، ایم اے میں بین الاقوامی امور میں وظیفہ پایا اور بعدازاں روسی معاملات و امور کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔(لیکن کبھی اپنے نام کے ساتھ ”ڈاکٹر“ کا سابقہ نہیں لگایا۔)1966-67ءمیں CIAکو جوائن کیا۔1967ءکے اواخر ہی میں امریکی ائر فورس اکیڈیمی سے پاس آﺅٹ ہوئے۔ایک برس ”امریکی سٹرٹیجک کمانڈ“ میں گزارا اور پھر واپس CIA میں آ گئے۔مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے بعد CIAکے ڈائریکٹر تعینات کئے گئے۔(امریکہ میں کسی ادارے میں DGکا عہدہ نہیں ہوتا۔ڈائریکٹر کا عہدہ سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ رابرٹ گیٹس CIAکے ”سب کچھ“ رہے)

وہ CIAکے واحد آفیسر ہیں جنہوں نے 1966ءمیں اس ادارے میں بطور جونیئر موسٹ آفیسر شمولیت اختیار کی اور پھر اس کا سینئر موسٹ منصب حاصل کیا۔جارج بش کے دور میں وزیر دفاع بنے اور اوباما کے پہلے برس میں بھی دفاع کا قلمدان انہی کے پاس رہا۔(یعنی ان کوڈیمو کریٹس اور ری پبلیکنز دونوں کا اعتماد حاصل رہا).... وہ بھی سرتاج عزیز صاحب کی طرح ایسی نصف درجن کتب کے مصنف میں جو سب کی سب عالمی امور،گلوبل سلامتی اور بین الاقوامی سیاسیات پر لکھی گئی ہیں۔ اور جن کی مغربی دنیا میں بڑی شہرت ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، ان کی خود نوشت تیار ہے جس کی تقریب رونمائی 14جنوری 2014ءکو ہونے والی ہے۔ان کی اس خود نوشت کا عنوان ہے:

Duty: Memoirs of a Seceratary of War.

ان کے ویروزہ بیان کے بعض حصے ”نیویارک ٹائمز“ اور ”واشنگٹن پوسٹ“ کے 8جنوری 2014ءکے شماروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے صدر اور نائب صدر کے بارے میں اس کتاب میں جو انکشافات کئے ہیں، وہ حیرت انگیز ہیں۔ مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ : ”اوبامانہ مسٹر کرزئی کو پسند کرتے تھے اور نہ ہی میری جنگی سٹرٹیجی ان کو پسند آتی تھی“....

وائٹ ہاﺅس میں مارچ 2011ءمیں اپنی ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے رابرٹ گیٹس لکھتے ہیں: ”میں وہاں بیٹھا تھااور محسوس کررہا تھا کہ صدر کو افغانستان میں اپنے ملٹری کمانڈر پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔وہ کرزئی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔نہ ہی ان کو خود اپنی وار سٹرٹیجی پر اعتماد تھا.... ان کا خیال تھا کہ ان کی یہ سٹرٹیجی ،ان کی اپنی وضع کردہ ہی نہیں“ ۔

اور رابرٹ گیٹس کے یہ الفاظ تو نہایت چشم کشا بھی ہیں اور ناقابلِ یقین حد تک حیرت انگیز بھی: ”وائٹ ہاﺅس کا بین الاقوامی سلامتی کا سویلین سٹاف ذرا ذرا سی بات پر میری وزارت دفاع (پینٹاگون) میں مداخلت کیا کرتا تھا۔ان لوگوں نے پینٹاگون کے آپریشنل امور میں دخل اندازی کی تمام حدیں کر اس کرلی تھیں۔وائٹ ہاﺅس کے یہ لوگ بشمول صدر بارک اوبامہ اور نائب صدر جوئے بائیڈن میرے لئے ایک پرابلم بن گئے تھے۔میں کوشش کیا کرتا تھا کہ اپنے کمانڈر انچیف(بارک اوباما) اور اپنے ملٹری لیڈرز(کمانڈرز) کے درمیان رابطوں کو ایک خوشگوار اور قابلِ قبول حدود میں رکھوں۔لیکن یہ لوگ (وائٹ ہاﺅس والے) سینٹر ملٹری کمانڈروں کے بارے میں مشکوک رہا کرتے تھے بلکہ ان پر اعتماد ہی نہیں کیا کرتے تھے“!

قارئین کرام! ان کالموں کے توسط سے راقم السطور ایک عرصے سے یہی گزارش کرتا رہا ہے کہ ہمارے سویلین سپریم کمانڈروں کو اپنے سینئر ملٹری کمانڈروں کی نفسیات سمجھنی چاہیے۔رابرٹ گیٹس چونکہ خود فوج میں رہا تھا اس لئے اسے معلوم تھا کہ فوجیوں کے تحفظات اور ان کے احساسات کیا ہوتے ہیں اور حساستیں کیا ہوتی ہیں۔ لیکن سویلین حضرات اس نکتے کا ادراک کم کم ہی کرتے ہیں۔ویسے تو امریکہ کے 80،90 فیصد صدور کا تعلق صدر بننے سے پہلے کسی نہ کسی امریکی فوج (آرمی، نیوی، ائر فورس) سے ضرور تھا۔ اور اگر نہیں بھی تھا تو وہ جانتے تھے کہ اپنے سینئر ملٹری کمانڈروں کو کمانڈ کرنے میں اپنے سویلین اقتدار کا چابک کیسے لہرانا ہے۔ آج ہمارا میڈیا چیخ رہا ہے کہ دیکھو ایک سابق سویلین صدر تو عدالت میں پیش ہونے کے لئے کراچی سے اسلام آباد آ گیا ہے اور دوسرا سابق فوجی آمر (ثُم صدر پاکستان) ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر بھی عدالت میں پیش نہ ہونے کے لئے ملٹری ہسپتالوں کے وارڈوں میں پناہ لے رہا ہے!

شیرازہ ہوا ملتِ مرحوم کا ابتر

اب تو ہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے؟

مزید : کالم


loading...