شہباز شریف کوئٹہ میں امراضِ قلب کا ہسپتال بنانے کا وعدہ پورا کریں

شہباز شریف کوئٹہ میں امراضِ قلب کا ہسپتال بنانے کا وعدہ پورا کریں
شہباز شریف کوئٹہ میں امراضِ قلب کا ہسپتال بنانے کا وعدہ پورا کریں

  


پنجاب اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ایک باصلاحیت شخص شہباز شریف کی شکل میں میسر آیا ہے اور وہ وزیراعلیٰ پنجاب ہے لیکن بلوچستان اس لحاظ سے بد قسمت صوبہ رہا ہے کہ اسے اتنا باصلاحیت وزیراعلیٰ نہیں ملا ہے اب ایک طویل عرصے کے بعد عبدالمالک بلوچ سے عوام کو کچھ کچھ امیدیں وابستہ ہیں انہیں اپنی پارٹی کی سطح سے بلند ہوکر اہل بلوچستان کو پیش نظر رکھنا ہوگا اور شاید بلوچستان کا نقشہ تھوڑا بہت بدل جائے گا شہباز شریف اس لئے خوش قسمت ہے کہ ان کا بڑا بھائی وزیراعظم ہے اور وفاق مکمل اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے پنجاب کی ترقی حیرت انگیز اور بلوچستان کی پسماندگی المناک ہے بلوچستان میں 2008 ءکے انتخابات میں جو حکومت تشکیل پائی تھی اس دور میں پیپلزپارٹی حکمران تھی اور مرکز میں پیپلزپارٹی ہی کی حکومت تھی دونوں مقامات پر کرپشن اور لوٹ مار کی تاریخ رقم کی گئی سابقہ پانچ سال میں بلوچستان کو پچاس سال پیچھے دھکیل دیا گیا، اب نئی حکومت میں کچھ لمحات سکون کے میسر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

پنجاب کے خادم اعلیٰ نے جنوری 2013 ءمیں کوئٹہ کا دورہ کیا اور انہوںنے اعلان کیا تھا کہ بلوچستان میں امراض قلب کا ہسپتال جلد قائم کریں گے اور حکومت بلوچستان نے اس سلسلے میں زمین بھی فراہم کردی تھی انہوں نے جو وعدہ کیا تھا شاید مصروفیت کی وجہ سے اس جانب توجہ نہیں کرسکے اور دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو اتنی فرصت نہیں ملی تھی کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کو کیا ہوا وعدہ یاد دلاتے حالانکہ ان کا زیادہ وقت اسلام آباد میں گزرتا رہا اب دوبارہ پنجاب میں شہباز شریف وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے ہیں تو وہ اپنے اس وعدہ کوپورا کرےں تو اہل بلوچستان اس کو مدتوں یاد رکھیں گے۔ بلوچستان اگر پسماندہ ہے تو اس کی سب سے زیادہ ذمہ دار بلوچستان میںحکومت کرنے والی پارٹیاں ہیں وہ دو بڑے ہسپتالوں کو صحیح معنوں میں عوام تک سہولیات پہنچا نہیں سکی۔

صوبائی دارالحکومت کی آبادی اب 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور بلوچستان کی آبادی اب ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ صوبے میں امراض قلب کا ہسپتال موجود نہیں اور عوام اس حوالہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں اور اگر کوئی اس مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسے کراچی یا اسلام آباد جانا ہوتا ہے جو ایک عام انسان کے لئے بے شمار مشکلات کا سبب بنتا ہے عوام میں ایک تو غربت زیادہ ہے دوسرے بلوچستان میں دور دراز کے فاصلے ہیں جو بے شمار مشکلات پیدا کرتے ہیں اب وقت آگیاہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنا وعدہ پورا کریں اب اسے وفاق کی بھی مکمل تائید حاصل ہے ان کا وعدہ جب تکمیل پذیر ہوگا تو اہل بلوچستان کے لئے ایک یاد گار تاریخی لمحہ ہوگا اور ان کا وعدہ ہمیشہ یاد رکھے گا اور پنجاب کے لئے قربت کا سبب بن جائے گا اور منفی سیاست کرنے والوں کو یہ عمل ناکام بنا دے گا پنجاب سے ایک مثبت اور خوشگوار پیغام ہو گا۔

جماعت اسلامی بلوچستان کے ممتاز رہنما عبدالقیوم کاکڑ نے ایک عشائیہ میں جناب خادم اعلیٰ پنجاب کو اپنے وعدے کی تکمیل کی طرف توجہ بھی دلائی تھی اسی عشایہ میں جنرل ریٹارڈ عبدالقادر بلوچ ‘ حافظ حسین احمد ‘ ڈاکٹر جہانزیب ( بی این پی کے سیکرٹری جنرل ) میر طاہر بزنجو نیشنل پارٹی کے ممتاز سیاست دان اور نواب غوث بخش باروزئی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالخالق ہزارہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ شامل تھے عشائیہ شہباز شریف کی جانب سے دیا گیا تھا اور اس عشائیہ میں انہوں نے خادم اعلیٰ کو امراض قلب کے ہسپتال کے لئے متوجہ کےاتھا اب بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بھی اس طرف توجہ کی ہے امید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنا وعدہ پورا کریں گے اور اس سلسلے میں موجودہ وزیراعلیٰ کی توجہ کی ضرورت ہے بلکہ عبدالمالک بلوچ کو پنجاب کا دورہ کرنا چاہئے اور امراض قلب کے ہسپتال کے افتتاح کے لئے انہیں آمادہ کرےں اور ان کے ساتھ مل کر اس ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھےں۔ عبدالمالک بلوچ خود بھی ڈاکٹر ہیں اور انہیں بلوچستان کے حالات کا بخوبی علم ہے وہ جانتے ہیں کہ بلوچستان پسماندگی کے کس مرحلے میں کھڑا ہے۔یہ منصوبہ پایہ¿ تکمیل تک پہنچ جائے تو یہ عمل امر ہوجائے گا اور اہل بلوچستان کے لئے اس کی حیثیت ایک سنگ میل کی سی ہوجائے گی ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ خادم اعلیٰ پنجاب اپنا وعدہ پورا کریں گے۔ بلوچستان کی سرزمین پر یہ ہسپتال اہل پنجاب کی محبت اور ہمدردی کا ےاد گار تحفہ ہو گا۔  ٭

مزید : کالم


loading...