جب مسیحا دشمن ِ جاں ہو

جب مسیحا دشمن ِ جاں ہو
جب مسیحا دشمن ِ جاں ہو

  


سامراج کے اسٹور میں پاکستان اور خطے کے لئے کیا کچھ ہے، اس کے منصوبے کیا ہیں، اس کے مقاصد کیا ہیں، یہ ایسی امر بیل ہے، جس کی تہہ پر پہنچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کسے خبر تھی کی ایران میں مصدق کی حکومت کو ختم کرانے اور رضا شاہ پہلوی کو دوبارہ تخت نشین کرانے کے لئے سی آئی اے کس طرح کے اقدامات کرے گی ۔ اسی طرح کسے خبر کہ خطے میں کیا ہونے کو ہے، لیکن سامراج کے عزائم اپنی جگہ، ایک بات تو حقیقت ہے کہ حکمرانوں کو ملک میں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی ہر دم کوشش کرنا چاہئے، جس میں ہر شخص کو تحفط اور انصاف میسر ہو، زندگی کی بنیادی سہولتیں ان کی پہنچ میں ہوں ۔ اپنے خاندان کی خوشحالی کے لئے اسے مواقع میسر ہوں۔ پینے کا صاف پانی میسر ہو، صحت ، علاج و معالجہ کی سہولت اس کی دسترس میں ہو، تعلیم میسر ہو، انصاف کی فراہمی میں تاخیر سے اس کی مڈبھیڑ نہ ہو، جان و مال کا تحفظ ہو، غرض چند بنیادی ایسی چیزیں ہوں، جن کی وجہ سے وہ اطمینان بخش زندگی گزار رہا ہو۔ نسل، زبان، فرقے، قبیلے اور برادری پرستی کی بنیاد پر سیاست پاکستان میں اپنا گھر بنا چکی ہے۔ کسی ایک گروہ یا طبقے کی بات کرنا ایک ایسا معمول بن گیا ہے کہ سب ایک ہی حکیم کے نسخے پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔

سندھ میں سندھی اور اردو زبان بولنے والوں کے مسائل ہوں یا بلوچستان میں بلوچی اور پشتون بولنے والی آبادیاں ہوں، پنجاب میں پنجابی یا سرائیکی زبانیں بولنے والے لوگ ہوں، صوبہ خیبر پختون خوا میں پشتو ، ہندکو یا کوئی اور زبان بولنے والے لوگ ہوں ، سب ہی کے مسائل ایک جیسے ہیں، ملتے جلتے ہیں، سب ہی کو اپنی اپنی زندگی گزارنے کے لئے انصاف، تحفظ اور دیگر سہولتوں کی ضرورت ہے۔ سندھ میں اگر اردو بولنے والوں کو نظر انداز کئے جانے کی شکایت ہے تو یہ شکایت سندھی زبان بولنے والوں کو بھی اتنی ہی شدت کے ساتھ ہے جتنی اردو بولنے والوں کو ہے۔ آبادی میں اگر اردو بولنے والے اپنے آپ کو بنیادی حقوق ، تعلیم، ملازمتوں سے محروم تصور کرتے ہیں ، سندھی زبان بولنے والے بھی ان کے برابر ہی محروم ہیں۔ یہ سمجھنا کہ سندھی بولنے والی آبادی کے ہر بچے کو تعلیم کی سہولت حاصل ہے کسی خام خیالی سے کم نہیں ہے، کسی بھی علاقے میں چلے جائیں وہ بچے، جن کا تعلق وسائل سے محروم خاندانوں سے ہے، ہر سہولت سے محروم ہیں، کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی وسائل سے محروم لوگ سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ اِسی طرح بلوچوں اور پشتون آبایوں کا حال ہے،خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ یہ بحث عبث ہے کہ شہروں میں سہولتیں زیادہ ہیں یا دیہاتوں میں کم ہیں۔ لوگ صرف یہ کہتے رہ جاتے ہیں کہ ” ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا، یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی “ ۔

ملک کے بیشتر علاقے ابھی تک پس ماندہ ہیں، جہاں ترقی کی فوری ضرورت ہے۔ ملک کی آبادی کی اکثریت علاج و معالجے کی سہولت سے محروم ہے۔ اکثر یت کو پینے کے لئے صاف پانی میسر نہیں ہے۔ اِسی طرح انصاف اور تحفظ کے لئے لوگ ترستے ہیں۔ کراچی سے جانے والی سپر ہائی وے پر ٹرک پر لدے ہوئے سامان کے ساتھ شدید سردی کے باوجود ایک شخص اس لئے بیٹھا ہوا ہوتا ہے کہ دوران سفر راستے میں تحفظ نہیں حاصل ہے۔ لوگ رات کے اندھیرے میں سڑک پر سفر کرتے ہوئے اس لئے ڈرتے ہیں کہ ا غواءکر لئے جائیں گے اور بھاری تاوان ادا کرنے کے بعد ہی رہائی نصیب ہو سکے گی۔ رہزن ہوں، ڈاکو ہوں، بدعنوان انتظامی افسران ہوں، ان کا کوئی مذہب، کوئی فرقہ، کوئی لسانی گروہ نہیں ہوتا انہیں صرف اپنی سرگرمی سے سرو کار ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک طبقہ وہ ہے جو وسائل سے مالا مال ہے، دوسرا طبقہ وہ ہے، جو وسائل سے محروم ہے۔ وسائل سے مالا مال طبقے کے لئے تعلیم ، علاج ، خوراک کی ایسی بہترین سہولتیں موجود ہیں جن کا وسائل سے محروم طبقے کے بچے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس ملک میں شعوری طور پر دو طبقوں کو جنم دیا گیا ہے ، ایک حکم دینے والا ہے، دوسرا حکم ماننے والا یا اس پر عمل در آمد کرانے والا، تاکہ حکمران طبقے کا غلبہ رہے۔

بہتر طرز حکمرانی کے لئے حکومتوں کو اپنی ترجیحات طے کرنا ہوتی ہیں جن میں معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے درمیاں امتیازی سلوک ختم کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں تسلسل کے ساتھ قائم ہونے والی حکومتوں نے اپنے فرائض انجام دئے۔ کیا وہ لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب رہیں۔ انصاف کی فوری فراہمی، تحفظ، ملازمت یا دیگر سہولتوں کے فقدان کی بات نہیں کرتے ۔ صرف تعلیم اور صحت کی سہولتوں پر بات کرتے ہیں۔ سندھ میں تعلیم کی صورت حال آج جس قدر ابتر ہے، وہ حکمرانوں کے لئے کسی لمحہ فکر سے کم نہیں۔ سکول کتنے بچے جاتے ہیں یا نہیں،سکولوں کی عمارتوں کا کیا حال ہے، سکولوں میں بچوں کو کیا کیا سہولتیں حاصل نہیں ہیں، ایک ایسی طویل بحث ہے، جس پر اگر پوری حکومت نہیں تو کم از کم وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کو رات دن کام کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے اور ان کے فرائض کا تقاضہ بھی ہے کہ وہ کوتاہی کا شکار نہ ہوں، لیکن کیا کیجئے، سب دعویدار ہیں کہ انہوں نے غفلت نہیں برتی حالانکہ ہر طرف غفلت کی داستانیں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ کیا یہ کم غفلت ہے کہ جن افراد کو استاد کی حیثیت سے ملازمت فراہم کی گئی ہیں وہ اپنے فرائض انجام دینے اسکولوں میں آتے ہی نہیں۔ بس مہینے میں ایک روز آتے ہیں اور اپنی تنخواہ لے کر دوبارہ ایک ماہ کے لئے غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی کو کسی قسم کا شک ہے تو ڈسٹرکٹ ججوں کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹیں پڑھ لے تاکہ اسے حقیقت آشنائی ہو سکے۔

سندھ میں آج کل پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو وزیر تعلیم ہیں ۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے ہی پیر مظہر الحق تھے، کبھی متحدہ قومی موومنٹ کے ایم اے جلیل ہوا کرتے تھے، کبھی حمیدہ کھوڑو ہوا کرتی تھیں، کبھی غوث علی شاہ ہو ا کرتے تھے۔ کوئی بھی اساتذہ کو یہ باور نہیں کرا سکا کہ جس قوم کے استاد آپ جیسے ہوں گے اسے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہوگی ۔ سامراج کو اس قوم کے خلاف کوئی سازش کرنے یا منصوبہ بنانے کی ضرورت ہی پیش آئے گی ۔ صوبہ سندھ میں ہی ایک دور تھا کہ سائیں جی ایم سید وزیر تعلیم تھے، پیر الٰہی بخش کے پاس تعلیم کا قلم دان بھی ہوتا تھا۔ قاضی محمد اکبر وزیر تعلیم ہوا کرتے تھے ۔ پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں در محمد استو وزیر تعلیم تھے۔ ان شخصیات کی تعلیم کے سلسلے میں خدمات کا ذکر طویل ہے ۔اگر موجودہ وزراءکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ندامت اپنے گھٹنوں پر کھڑے ہو جاتی ہے۔ کیسی پس ماندگی نے اپنا گھر بنا لیا۔ صرف علاقے ہی پس ماندہ نہیں ہوتے ہیں ذہن بھی پس ماندہ ہوتے ہیں۔ ان ذہنوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تماش گاہ میں جب ذہنی پس ماندگی دور ہو جائے گی، تو علاقوں کی پس ماندگی کے ساتھ ساتھ محرومیوں کا گلہ کرنے کا موقع بھی ختم ہو جائے گا۔شہری اور دیہی علاقوں کے درمیاں امتیاز کرنا بھی ختم ہو جائے گا۔ انسانوں پر انسانوں کو سہولتوں کے حوالے سے فوقیت دینا بھی ذہنی پس ماندگی کا نتیجہ ہے۔ لوگوں کو فرقے، نسل، زبان، گروہ کی بنیاد پر تقسیم کر کے حکمرانی کرنا، اپنے مقاصد حاصل کرنا کوئی بڑی خدمت نہیں ہوا کرتی۔ سب سے بڑھ کر حضرت علی ؓ کے قول پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ظلم کی حکومت چل سکتی ہے، ناانصافی کی حکومت نہیں چل سکتی۔  ٭

مزید : کالم


loading...