بجلی چوری .... صوبائی تنازعہ

بجلی چوری .... صوبائی تنازعہ

وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے خیبر پختونخوا کے وزراءپر بجلی چوروں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بعض وزراءبجلی چوروں کو تحفظ دے کر بجلی پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ پیسکو کے میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوں تو بجلی چوری پورے ملک کا مسئلہ ہے، لیکن خیبر پختونخوا میں بجلی چوری زوروں پر ہے، یہاں بجلی کے لائن لاسز 90فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ ریکوری نہ ہونے کی بڑی وجہ نوگو ایریا ز ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بندوق کی زبان میں بات کرنے والے بجلی چوروں سے جرگے کراتے ہیں، جو بعدازاں خود غائب ہو جاتے ہیں۔ وزیر اطلاعات شاہ فرمان کے علاقے میں بجلی کے لائن لاسز 90فیصد ہیں۔ وہاں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے۔ وہ کرپشن کا واویلا چھوڑیں اور ڈیڑھ ارب روپے کے بقایا جات کی وصولی پر توجہ دیں۔ صوبائی وزیر بجلی چوروں کے سرغنہ بنے ان کے دھرنوں میں بیٹھے ہیں۔ حال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رکن فضل الٰہی نے پیسکو ٹیم پر بندوقیں تان لیں۔ انہوں نے صوبائی وزیر شاہ فرمان کو چیلنج دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پیسکو کارکنوں کے گریبانوں تک پہنچنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیں گے۔ خیبر پختونخوا میں بجلی چوری کا خمیازہ بل ادا کرنے والے بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما بجلی چوری روک کر بقایا جات کی ادائیگی میں مدد دیں۔ نوگو ایریاز اور کنڈا کلچر کا خاتمہ کرائیں۔ لاءاینڈ آرڈر قائم رکھنا صوبائی وزراءکا کام ہے۔ بجلی دینا ہماری ذمہ داری ہے، جہاں لائن لاسز زیادہ ہوں گے وہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں 20، 20گھنٹے اور جہاں کم ہوں گے وہاں لوڈشیڈنگ بھی کم ہو گی۔ شاہ فرمان تو ڈاکوﺅں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ اپنے صوبے میں بجلی چوری رکوائیں ورنہ انہیں اس کا جواب دینا ہو گا۔ اس کے جواب میں خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے کہا ہے کہ اگر وفاق نے بنوں کی بجلی بند کرنے کی کوشش کی تو ہم پنجاب کی بجلی بند کرا دیں گے۔ وزیر مملکت عابد شیر علی ایک بیوقوف ترین شخص ہیں، جو ایک طرف صوبے کے وسائل پر قابض ہیں اور ہمارا حق نہیں دے رہے اور دوسری طرف ہم پر ہی الزامات دھرے جا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت بجلی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کو مستقل تنقید کا نشا نہ بنانے کی بلا جواز کوشش کر رہی ہے، جبکہ ہمارے صوبے سے زیادہ بجلی پنجاب میں چوری ہوتی ہے۔ ایک بیان میں شاہ فرمان نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں85.3ارب ، سندھ میں105.4 ارب ، بلوچستان میں 37.2ارب اور خیبر پختونخوا میں 48.3ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں سوائے پیسکو کے تمام بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو تبدیل کردئیے، لیکن پیسکو میں ایک متنازعہ اور منظور نظر شخص کو تاحال صوبائی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے رکھا ہوا ہے۔ پیسکو صوبائی نہیں، بلکہ وفاقی محکمے کے تحت ہے اور صوبائی حکومت اس میں ایک لائن مین تک کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ صوبائی وزیر سراج الحق نے کہا کہ خیبر پختونخوا 18ارب یونٹ بجلی پیدا کر رہا ہے آٹھ ارب ہمارے استعمال میں ہیں باقی دوسرے صوبوں کو چلے جاتے ہیں۔ وفاق الزامات لگا کر دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرے۔

ان خیالات سے معلوم ہو رہا ہے کہ وزیر مملکت کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کے وزراءکو اشتعال دلانے کا باعث بنی ہے۔ بجلی چوری واقعی ملک کا بڑا مسئلہ ہے، وفاقی حکومت پیسکو کا انتظام صوبے کے سپرد کرنے کے لئے کہہ چکی ہے ، جس کے جواب میں اس معاملے کو قابل عمل بنانے کے لئے صوبائی حکومت کی طرف سے مزید کچھ مطالبات بھی ہوئے۔ پیسکو کے معاملات سنبھالنے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی پیشکش کے بعد معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے مخلصانہ کوششیں ہونی چاہئے تھیں۔ ایسا نہ ہو سکا،بلکہ معاملے کو سنبھالنے کے بجائے وزیر مملکت نے پشاور میں جا کر صوبائی وزیروں پر الزامات عائد کر دیئے، جس سے معاملات سدھار کی بجائے بگاڑ کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں کوئی نوگو ایریاز ہیں وہ ختم ہونے چاہئیں،کسی کو بندوق کی زبان میں بات نہیں کرنی چاہئے ۔ ہمارے ملک میں وزراءاور اراکین اسمبلی کے مزاج اور ان کے انداز اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان کی طرف سے اگر بجلی چوروں کی کسی صورت میں حمایت کی گئی ہے۔ انہیں تحفظ دیا گیا ہے تو ایسی باتوں کو پبلک میں اچھال کر اس معاملے کو مرکز اور صوبے میں ایک تنازعہ بنا دینا اور دو صوبوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا دینا بھی دانائی کی بات نہیں ہے۔ ایسے معاملات طے کرنے کے لئے صوبے اور مرکز کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں،بلکہ ایسے مرکزی اور صوبائی معاملات کو طے کرنے کے لئے ایک مربوط میکانزم موجود ہونا چاہئے۔ ایسی باتوں کو پریس کے ذریعے عام کرنے کی ضرورت تو اس وقت ہو سکتی ہے، جب مرکز کی طرف سے بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود صوبہ ان باتوں پر کان نہ دھرے، لیکن خیبر پختونخوا کے سلسلے میں ایسا مسئلہ نہیں رہا۔ اگر وزیر مملکت صوبائی وزیروں سے کچھ شکایات رکھتے ہیں تو اس کے لئے انہیں خود انہی سے بات کرنی چاہئے۔ انہیں چوروں کو تحفظ دینے والے کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی طرح صوبائی وزیر شاہ فرمان کی طرف سے بھی وزیر مملکت کے لئے نا زیبا الفاظ استعمال کر کے قوم و ملک کی کوئی خدمت نہیں کی گئی اس طرح کے بیانا ت جن میں وزراءکی اناءاور پارٹی سیاست کا معاملہ آڑے آتا ہے ، بالآخر صوبائی اور مرکزی تنازعات اور صوبائی تعصب اور جھگڑوں کو ہوا دینے کا باعث بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے معاملات کو پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ اور ذاتی غم و غصے کے اظہار کا ذریعہ نہ بنانا ہی مصائب میں گھرے ہوئے ملک کے مفاد میں ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ ہماری سیاسی قیادت ان معاملات کو احسن طریقے سے نمٹانے کی راہیں تلاش کرے گی۔

مزید : اداریہ


loading...